لاک ڈاؤن، شہریوں کا ڈپریشن بڑھنے لگا، کرونا فوبیا سے قوت مدافعت انتہائی کم ہو گئی

        لاک ڈاؤن، شہریوں کا ڈپریشن بڑھنے لگا، کرونا فوبیا سے قوت مدافعت ...

  

اسلام آباد (این این آئی)عالمی وبا کرونا وائرس کے پیش نظر ماہرین نفسیات نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے سبب لوگوں میں نفسیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، لوگوں میں کرونا فوبیا کی بیماری جنم لے رہی ہے۔کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل سے متعلق ماہرین نفسیات پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج اور پروفیسر ڈاکٹر ایم ایچ مبشر نے ایک انٹرویو میں کہاکہ کرونا کے خوف سے نیند، کھانے پینے کے مسائل سمیت ڈپریشن بڑھ رہا ہے، کورونا کے باعث لوگوں کی زندگی محدود اور تبدیل ہوچکی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ انسان کی قوت برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ لوگوں کو غصہ زیادہ آرہا ہے اور چڑچڑا پن پیدا ہورہا ہے جبکہ غصہ زیادہ آنے سے تعلقات متاثر ہوتے ہیں، ذہنی صحت اچھی ہوگی تو کرونا پر قابو پالیں گے۔انہوں نے چرچڑا پن دور کرنے کے لیے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ دکھ درد بانٹیں گے تو ذہنی مسائل پیدا نہیں ہوں گے، ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے سے ڈپریشن کم ہوتا ہے جبکہ سماجی فاصلوں نے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیداکر دی ہے۔ محدود ماحول میں رہنے سے گھروں میں تنازعات بڑھ جاتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم ایچ مبشر کا کہنا تھا کہ لوگ ایک دوسرے سے منقطع ہوں تو قوت مدافعت پر اثر پڑتا ہے، لوگوں کی ذہنی قوت مدافعت بھی بہت کم ہوگئی ہے، سماجی فاصلہ مغرب کی اصطلاح ہے جس کی نقالی سے مسائل بڑھیں گے۔پروفیسر ایم ایچ مبشر کا کہنا تھا کہ تنہائی سے ذہنی کوفتیں بڑھ رہی ہیں جس کے سبب گھروں میں بند ہونے سے لوگ اندر ہی اندر گھٹ رہے ہیں۔

ماہر نفسیات

مزید :

صفحہ آخر -