قیدیوں کی حالت زار،اسلام آباد ہائیکورٹ کاتفصیلی حکم نامہ جاری

    قیدیوں کی حالت زار،اسلام آباد ہائیکورٹ کاتفصیلی حکم نامہ جاری

  

اسلام آباد (این این آئی)قیدیوں کی حالت زار سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں چیف کمشنر کو پراسیکیوشن برانچ کے قیام اور جیل کی جلد تعمیر کی ہدایات جاری کی گئیں،تفصیلی حکم نامہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیاجو اڑتیس صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلے میں ہائی کورٹ نے چیف کمشنر کو پراسیکیوشن برانچ کے قیام اور جیل کی جلد تعمیر کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاکہ قائم کی جانے والی کمیٹی ہر ماہ کی تیس تاریخ کو رپورٹ عدالت میں پیش کریگی۔ عدالت نے حکم دیا کہ راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈی سی کے ہمراہ اڈیالہ جیل کا دورہ کریں۔ فیصلے میں کہاگیاکہ وفاقی حکومت قیدیوں کی ذہنی صحت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ہائی کورٹ نے کہاکہ جیلوں میں قیدیوں کے حالات آئینی اور انسانی حقوق کا مقدمہ ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے قیدیوں کی حالت زار پر 17 احکامات جاری کردئیے۔وفاقی حکومت کو غریب قیدیوں کی مفت قانونی معاونت کیلئے اقدامات کی ہدایت کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے لیگل ایڈ آفس ایکٹ 2009ء پر عملدرآمد کا حکم دیا گیا۔ہائی کورٹ نے کہاکہ وفاقی حکومت فوری طور پر قیدیوں سے متعلق قوانین کو فعال بنائے، قیدی جیل میں ہراساں کرنے پر جیل حکام اور ریاست پر ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ فیصلہ میں کہاگیاکہ وفاقی حکومت ذہنی صحت سے متعلق 2001 کے آرڈیننس کو فعال بنائے۔ عدالت کی جانب سے قیدیوں کے حقوق پر عملدرآمد کمیشن کے لئے بھی خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔ عدالت نے کہاکہ عملدرآمد کمیشن ہر ماہ کی 30 تاریخ کو ہائیکورٹ میں پیشرفت رپورٹ جمع کرائے، صوبائی حکومتوں کو میڈیا نمائندوں کو بھی جیلوں میں دورے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے کہاکہ میڈیا نمائندگان کے دوروں سے جیلوں کی صورتحال سے عوام آگاہ رہیں گے۔

تفصیلی فیصلہ

مزید :

صفحہ آخر -