امریکی معاہدے کی پاسداری کے باوجود حملے بند ہوئے نہ قیدی رہا، طالبان

  امریکی معاہدے کی پاسداری کے باوجود حملے بند ہوئے نہ قیدی رہا، طالبان

  

کابل (این این آئی) افغان طالبان نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کی مکمل پاسداری کررہے ہیں،بد قسمتی سے قیدیوں کی رہائی کا عمل موخر ہوا ہے،اب تک کابل انتظامیہ کے شہروں میں قائم مراکز پر حملے کیے اور نہ ہی بڑے فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے،جنگی مقامات سے دور ہمارے مراکز پر لگا تار حملے ہورہے ہیں، ڈرون حملے جاری ہیں اگر ایسی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو معاہدے کو نقصان پہنچے گا اور رد عمل دینے پر مجبور ہونگے۔ اتوار کو جاری افغا ن طالبان کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیاکہ طالبان اب تک معاہدے کے پابند ہیں اور اس کے تمام مندرجات کی مکمل طور پر پاسداری کی ہے۔ امریکی حکام نے بھی اعتراف کیا کہ طالبان نے طے شدہ سمجھوتے پر عمل کیا ہے۔ طالبان نے افغان فریق کیساتھ بھی بین الافغان مذاکرات کیلئے بار بار آمادگی کا اظہار کیا، تاکہ ملک میں ایک دائمی اور پائیدار صلح تک پہنچ پائیں،مگر ابھی تک ہمارے قیدی رہا نہیں ہوئے اور مختلف بہانوں سے رہائی کا عمل مؤخر ہوا ہے۔ہم نے اب تک کابل انتظامیہ کے شہروں میں قائم مراکز پر حملے کیے اور نہ ہی بڑے فوجی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ صرف دیہی علاقوں میں ان چند چوکیوں پر حملے ہوئے،جن سے عوام کو تکلیف تھی۔انہوں نے کہاکہ پانچ ہزاروں قیدیوں کی رہائی کا عمل بلاوجہ غیرمعقولی دلائل سے تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ہمارے زیرکنٹرول علاقوں میں جنگی حالت کے بغیر پہرہ دینے اور راستے پر چلنے والے عام مجاہدکو ڈرون کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ہلمند، قندہار، فراہ، قندوز، ننگرہار، پکتیا، بدخشان، بلخ اور ملک کے دیگر علاقوں میں معاہدے سے متعدد بار صریح خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ امریکی فریق سے فی الفور مطالبہ کرتے ہیں کہ خود بھی معاہدے کے مندرجات کی رعایت کریں اور اپنے دیگر حامیوں کو بھی معاہدے کی مکمل رعایت کیلئے متوجہ کریں۔ اگر ایسی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو اس سے بے اعتمادی کی فضا پیدا ہوجائیگی، جو نہ صرف معاہدے کو نقصان پہنچا ئیگا، بلکہ مجاہدین کو بھی ردعمل پر مجبور کرتے ہوئے جنگ کی سطح کو بلند کریگی۔

طالبان

مزید :

صفحہ اول -