بھارت مقبوضہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دے کر جھوٹ کو سچ میں تبدیل نہیں کر سکتا: پاکستان

بھارت مقبوضہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دے کر جھوٹ کو سچ میں تبدیل نہیں کر ...

  

اسلام آباد(این این آئی)بھارتی وزارتِ خارجہ کے وزیراعظم عمران خان کے ٹویٹ پر بیان پر ترجمان دفتر خارجہ نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی وزارتِ خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو مسترد کرتا ہے۔ اتوار کو ترجمان نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کی تبدیلی کے حالیہ اقدامات کی مذمت کی تھی،حالیہ بھارتی عمل سے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق مزید سلب ہوں گے۔ اس وقت جب دنیا کرونا کی وباء کا مقابلہ کر رہی ہے، بھارت نے کشمیریوں کے لئے ڈومیسائل کے قانون میں تبدیلی کردی ہے۔ بی جے پی کی حکومت کے اخلاقی دیوالیہ پن کی ایک مثال ہے، بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے امور کو اندرونی قراردینے کی رٹ، اس کے جھوٹ کو سچ میں تبدیل نہیں کرسکتی۔ نہ ہی اس سے بھارت کے غیر قانونی قبضہ کو قانونی حیثیت مل سکتی ہے، جموں و کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادیں متنازعہ علاقہ قراردیتی ہیں۔ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ اس کے عوام کے اقوام متحدہ کے تحت استصواب رائے سے ہی ہوگا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارت کا کوئی بھی عمل مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا جواز نہیں ہوسکتا۔ بی جے پی کی حکومت آر ہندوتوا نظریات کو مسلط کرنا چاہتی ہے، بھارت کی طرف سے طاقت کا وحشیانہ استعمال کشمیری عوام کو ان کے مقصد سے نہیں ہٹاسکتا۔پاکستان کی قیادت اور عوام کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت سے کبھی دستبردار نہیں ہوگی۔قبل ازیں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مختلف ممالک میں پاکستانی طلباء کی مشکلات سے آگاہ ہیں۔ ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ یونیورسٹیوں کی بندش اور سفری پابندیوں کے باعث مختلف ممالک میں پاکستانی طلبہ کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ اس وقت ایک بدلتی صورتحال ہے،مختلف ممالک کے ایس او پیز اور سفری ضوابط کا جائزہ لے رہے ہیں۔

دفتر خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)افغانستان واپس جانے کے خواہشمند باشندوں کیلئے طورخم اور چمن سرحدیں آج پیر سے چار روز کیلئے کھولی جائیں گی۔پاکستان نے یہ اقدام افغانستان کی خصوصی درخواست اور انسانی بنیادوں پر کیا ہے۔بطور ہمسایہ ملک اور برادرانہ دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں پاکستان نے افغانستان کے عوام کیساتھ خصوصاً عالمی وبا ء کے تناظر میں یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ کرونا وائرس پھیلاؤ کو روکنے کیلئے پاک افغان سرحد کو بھی آمدورفت کیلئے مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔کرونا لاک ڈاؤن کے بعد پاک افعان بارڈر کو وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایک روزکیلئے کھولنے کے بعد مکمل سیل کر دیا گیا تھا جس کے باعث ہزاروں افغان شہری پاکستان میں پھنس گئے تھے۔ایسے میں افغان حکومت نے پاکستان سے درخواست کی کہ پاک افغان سرحد پر آمدورفت کو عارضی طور پر بحال کیا جائے تاکہ افغان شہری وطن واپس آ سکیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان حکومت کی درخواست پر افغان شہریوں کو واپس جانیکی اجازت دیدی ہے۔پاکستان میں افغان سفیر عاطف مشعل نے کہا کہ ویزا رکھنے والے افعان شہری 3 دن تک افغانستان جا سکتے ہیں۔ 6 سے 9 اپریل تک طورخم اور سپین بولدک کے راستے سے افغانستان جایا جا سکتا ہے۔حکومت پاکستان کی اجازت کے بعد روزانہ ایک ہزار افغان شہری پاکستان سے افعانستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل 27 مارچ کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں کو مزید دو ہفتوں کیلئے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

افغان سرحد

مزید :

صفحہ اول -