صوبہ سندھ میں ڈاکٹرز کا حفاظتی اقدامات کے بغیر ڈیوٹی نہ کرنے کا فیصلہ

  صوبہ سندھ میں ڈاکٹرز کا حفاظتی اقدامات کے بغیر ڈیوٹی نہ کرنے کا فیصلہ

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ کے ڈاکٹروں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک حکومت انہیں حفاظتی لباس فراہم نہیں کرتی اس وقت تک کرونا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں ڈیوٹی نہیں کریں گے۔حیدرآباد میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈاکٹر کورونا وائرس سے متعلق تمام ہسپتالوں میں حفاظتی لباس کے بغیر پیر سے ڈیوٹی انجام نہیں دیں گے کیونکہ یہ ان کی زندگی اور صحت کا سوال ہے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت قرنطینہ مراکز اور آئسولیشن وارڈز میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو حفاظتی لباس (پرسنل پروٹیکیو ایکوپمنٹ) کی فراہمی اور دستیابی کو ممکن بنانے میں ناکام ہوچکی۔اجلاس میں پی ایم اے سندھ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر پیر منظور، وائی ڈی اے سندھ کے چیئرمین ڈاکٹر عمر سلطان، ڈاکٹر محمد خان شر، ڈاکٹر عبدالرزاق راجپر، ڈاکٹر یاسین عمرانی اور دیگر بھی شریک تھے۔مشترکہ اجلاس میں صوبے میں ڈاکٹروں کو درپیش مسائل اور صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور نشان دہی کی گئی کہ ڈاکٹر خطرناک حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں لیکن حکومت ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کو ایک طرف خصوصی پیکج نہیں دیا جارہا ہے اور دوسری طرف بنیادی سہولتوں سے بھی محروم کیا گیا ہے۔شرکا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرو ں کو حفاظتی لباس کے بغیر کام کرنے کو کہنا انہیں زبردستی موت کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم اے شروع دن سے ہی ڈاکٹروں کے لیے حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرتی رہی ہے لیکن یہ آواز نہیں سنی جارہی ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ ڈاکٹراحتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے گزشتہ 6 دنوں سے بازو میں کالی پٹی پہن کر کام کررہے ہیں لیکن حکومت نے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کو ڈاکٹروں کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔انہوں نے ڈاکٹروں کو خطرناک صورت حال کا سامنا ہے اسی لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ڈاکٹرپیر سے کسی بھی ہسپتال میں بغیر حفاظتی اقدامات کے فرائض انجام نہیں دیں گے۔حکومت سندھ کو ڈاکٹروں کے مطالبات کی یاد دہانی کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے پاس اس انتہائی اقدام کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس کراچی میں سامنے آیا تھا جس کے بعد سکھر میں ایران سے آئے ہوئے زائرین میں بڑی تعداد میں وائرس کی تصدیق کی گئی تھی اور اس وقت سندھ میں کیسز کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔کراچی کے بعد حیدر آباد میں کورونا وائرس کے کیسز بھی سامنے آئے تھے جہاں حکومت سخت اقدامات کیے تھے۔تازہ صورت حال کے مطابق پاکستان میں اس وقت 3 ہزار 121 متاثرین موجود ہیں جن میں سب سے زیادہ پنجاب میں 1380 اور دوسرے نمبر پر سندھ ہے جہاں 881 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔صوبے میں اموات کی تعداد 15 تک پہنچ چکی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -