احتیاطی تدابیر کیساتھ مساجد کو آباد رکھا جائے‘ قاری حنیف جالندھری

  احتیاطی تدابیر کیساتھ مساجد کو آباد رکھا جائے‘ قاری حنیف جالندھری

  

ملتان (سٹی رپورٹر) جامعہ خیر المدارس ملتان میں منعقدہ اجلاس میں، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائد، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کے علاوہ، مجلس احرار کے(بقیہ نمبر36صفحہ7پر)

قائدمولانا سید کفیل شاہ بخاری، وفاق المدارس کے رکن عاملہ و ناظم جنوبی پنجاب مولانا زبیر احمد صدیقیؔ، اراکین مجلس عاملہ مولانا ارشاد احمد، مولانا ظفر احمد قاسم، مرکزی جامعات کے مہتممین مولانا محمد نواز، مولانا حبیب الرحمن،مولانا کریم بخش، علامہ عبدالحق مجاہد، مولانا قاری عبدالستار، مولانا قاری محمد ادریس ہوشیارپوری، مولانا محمد عمر قریشی، مولانا عبدالمجید چوک سرور شہید، مولانا نجم الحق اور مولانا احمد حنیف جالندھری، جمعیت علماء اسلام کے مولانا ایاز الحق قاسمی اور مولانا سلطان محمود ضیاء سمیت متعدد علماء و مشائخ نے شرکت کی، اجلاس میں زور دیا گیا کہ اس وبا سے نجات کے لیے توبہ و استغفار کے ساتھ رجوع الی اللہ کیا جائے۔ احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کو آباد رکھا جائے، تبلیغی جماعت کے خلاف اقدامات کو روک کر انہیں اپنے اپنے علاقوں میں بھیجا جائے۔ ان کے ٹیسٹوں کا فی الفور انتظام کیا جائے۔ اجلاس میں علماء و مشائخ نے پنجاب حکومت کی جانب سے مساجد کی بندش سے متعلق نوٹس نہ جاری کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ، مختلف اضلاع کی انتظامیہ بلا وجہ آئمہ و خطباء کو ہراساں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین دشمن اقدامات سے اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت نہ دی جائے۔ یہ موقع اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا ہے، اس کے لیے اسباب اختیار کیے جائیں۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے متعصب افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عدالت عالیہ اس کا از خود نوٹس لے۔ حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، جو جاری رہے گا، لیکن اس کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ علماء کرام نے مطالبہ کیا کہ سوڈان میں پھنسی تبلیغی جماعت اور سنگا پور میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے انتظامات کیے جائیں۔ میڈیا اور حکومتی طرز عمل فرقہ واریت کو جنم دے رہا ہے، جو قابل مذمت ہے۔ جملہ علماء و مشائخ نے اپنی قیادت اور اتحاد تنظیمات مدارس کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ، حکومت اور علماء کے مابین طے ہونے والے مشترکہ اعلامیہ سے تجاوز نہ کیا جائے۔ اہل مدارس کو ہدایت کی گئی کہ وہ بذریعہ فون حفظ قرآن کے بچوں کی تعلیمی کارکردگی کی نگرانی کریں۔عوام الناس غرباء کے ساتھ دینی مدارس کا بھر پور تعاون کریں۔ دینی مدارس کے عہدیداران، اساتذہئ کرام کے وظائف اور آئندہ تعلیمی سال کے اخراجات کے لیے، اپنی زکوٰۃ، صدقات اور عطیات سے دینی مدارس کا بھر پور تعاون کریں۔

حنیف جالندھری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -