نشتر میں حفاظتی انتظامات زیرو ڈاکٹرز مشتعل‘ احتجاج کی دھمکی

نشتر میں حفاظتی انتظامات زیرو ڈاکٹرز مشتعل‘ احتجاج کی دھمکی

  

ملتان (نمائندہ خصوصی) ڈیرہ غازیخان ہسپتال کے 14 ملازمین جن میں 10 ڈاکٹر بھی شامل ہیں کہ کورونا میں (بقیہ نمبر40صفحہ7پر)

مبتلا ہونے کے بعد نشتر ہسپتال عملے میں شدید تشویش کی لہر دوڑ چکی ہے،نشتر ہسپتال عملے کو مریضوں کا معائنہ کرنے کیلئے عام گلوز اور ماسک تک انتظامیہ کی جانب سے فراہم نہیں کئے جا رہے اس حوالے سے گزشتہ روز پائینئر یونٹی کا ہنگامی اجلاس صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہد راو کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا کہ اگر انتظامی افسران ڈاکٹرز، نرسز، اور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس،N-95 ماسک اور دیگر ضروری سامان مہیا نہیں کر سکتے تو حکومت ایکشن لے،نشتر ھسپتال میں کرونا سے بچاو کے اقدامات نہ ھونے کے برابر ہیں، جان بچانے والی ادویات سمیت سرجیکل آلات و دیگر ضروری اشیاء کی قلت بھی مزید شدت اختیار کر چکی ہے,ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل کی تنظیمیں اپنی مدد آپ کے تحت کٹس، ماسک اور دیگر حفاظتی سامان خرید کر مہیا کر رہی ہیں مگر نشتر انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی شرمناک ہے،اگر یہ خاموشی برقرار رہی تو ان افسران کا گھیراو کر کے بھرپور احتجاج کیا جائیگا۔ جنوبی پنجاب کی واحد بڑی علاج گاہ ہے جہان کورونا کے مشتبہ اور کنفرم مریضوں کی گزشتہ اڑھائی ماہ سے دیکھ بھال کی جارہی ہے اس کے باوجودخراب پڑی سپرے مشینوں کو ٹھیک نہیں کروایا جا سکا جبکہ سپرے نہ ہونے کی وجہ سے کورونا سمیت ہر وبائی مرض کا وائرس ہسپتال میں ں ڑے پیمانے پر پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے،ادھر افسران کی عدم توجہی کے باعث ہسپتال کے دو اہم شعبہ جات جن میں شعبہ انفیکشن کنٹرول اینڈ ڈیزیز اور فارمیسی شامل ہیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں،فارمیسی میں ماسک موجود ہونے کے باوجود عملے کو اس کڑے وقت میں فراہم نہیں کئے جا رہے جس پر دو روز قبل طبی تنظیموں کے جگانے پر ایم ایس کو ہوش آیا اور فارمیسی کا دورہ کر کے انچارج کی سرزنش کی تاہم اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات اب تک سامنے نہیں آئے کیونکہ ایک جانب طبی حلقے روزانہ کی بنیاد پر حفاظتی کٹس ماسک کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ہسپتال کی فارمیسی سے ہی ماسک کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جا رہی جس کی وجہ سے تنظیمیں پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں ادھر انفیکشن کنٹرول کے حوالے سے بھی ٹیموں کو فعال کرنے کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے جس کے باعث ہسپتال میں اب تک خراب پڑی سپرے مشینوں کو ٹھیک کروا کر سپرے تک ممکن نہیں بنایا جا سکا ہے۔

دھمکی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -