پیف سکولز‘ ظالمانہ کٹوتیوں پر مالکان سراپا احتجاج

پیف سکولز‘ ظالمانہ کٹوتیوں پر مالکان سراپا احتجاج

  

ُکہروڑ پکا (نما ئندہ خصو صی) وزیرتعلیم کے کہنے پر ایم ڈی پیف شمیم(بقیہ نمبر43صفحہ7پر)

آصف اور ڈائریکٹر فنانس زبیدالحسن نے پیف سکولز کی پوری پیمنٹ جرمانہ میں کاٹنا شروع کر دی۔ھم نے دو ہفتہ قبل نیوز چینلز کے توسط سے چیف سیکرٹری پنجاب اور سب کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ پیف سکولز کی ظالمانہ کٹوتیوں پر کوئی پیف سکول مالک یا ٹیچر ذہنی ڈپریشن یا ہارٹ اٹیک سے فوت ہو گیا اسکی ایف آئی آر وزیرتعلیم و ایم ڈی پیف پر کٹوائیں گے۔یہ ظالم لوگ پھر بھی پوری پیمنٹ کاٹنے سے نہ رکے،ان کے ظلم کی وجہ سے بھکر سے تعلق رکھنے والے پیف فاس پارٹنر غلام رسول کی گذشتہ پوری پیمنٹ کاٹ لی گئی اور جب انہیں پتہ چلا کے آیندہ بھی پیمنٹ کٹ کر آئے گی تو وہ صدمہ برداشت نہ کر سکے۔ مرحوم کے پانچ سے چھ سال کی عمر کے دو بچے ہیں۔ مرحوم نے کچھ زمین خرید رکھی تھی۔ کٹوتیوں کی وجہ سے وہ اس کی اقساط ادا نہ کر پائے۔ اور پریشان کی وجہ سے وفات پا گئے تین ماہ کے فنڈز نہ ملنے سے اساتذہ کے گھروں میں فاقے.ایک ماہ فنڈ ملے وہ بھی کٹوتیوں کے ساتھ نوے فیصد تک کٹوتی کرلی گئی جس سے بجلی کے بل بھی ادا نہ ہو سکے ایم ڈی پیف اور وزیر تعلیم کی نا اہلی کی وجہ سے سکول مالکان ذہنی مریض بن گئے ہیں سکول مالکان گھریلو سامان بیچ کر کرایے ادا کر رہے ہیں سکول مالکان کا کہنا ہے کہہ مقدمہ وزیر تعلیم اور ایم ڈی پیف شمیم اصف پر درج کیا جائے سکول مالکان نے سیاہ پٹیاں باندھ کر حتجاج شروع کیا ہوا ہے 36 لاکھ طلباوطالبات کو تعلیم دینے والے اساتذہ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے سخت پریشان ہیں گزشتہ سالوں کی اس سال بھی PEF کے تحت چلنے والے سکولوں کے طلبا وطالبات نے ضلع و تحصل میں پوزیشن حاصل کی ہیں جو ٹھوس تعلیم کا واضع ثبوت ہے ایک طرف حکومت اربوں کا ریلیف دے رہی دوسری طرف اساتذہ کا معاشی قتل کر رہی ہے شدید احتجاج کیا ہے۔

احتجاج

مزید :

ملتان صفحہ آخر -