بلڈ ڈونرز کی تعداد اچانک کم‘ تھیلیسیما بچوں کے والدین میں تشویش کی لہر

  بلڈ ڈونرز کی تعداد اچانک کم‘ تھیلیسیما بچوں کے والدین میں تشویش کی لہر

  

کوٹ ادو (تحصیل رپورٹر) کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات اور لاک ڈاؤن کے سبب الشفاء چلڈرن ہسپتال (بقیہ نمبر36صفحہ6پر)

کوٹ ادو میں خون کی کمی کا شکار380 تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کو انتقال خون کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا،والدین اپنے پیاروں کی جان بچانے کیلئے شدید پریشان تفصیل کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات اور لاک ڈاؤن کے سبب کوٹ ادو میں بنائے گئے ا لشفاء چلڈرن ہسپتال کے فری تھیلیسمیا سینٹرمیں زیر علاج (خون کی کمی کا شکار)380 تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کو انتقال خون کی معمول کی مطابق فراہمی میں مشکلات کا سامنا درپیش ہے، 380سے زائد بیمار بچوں کو خون کے عطیات دینے کیلئے مطلوبہ بلڈ ڈونرز کی تعداد کم ہو گئی ہے،اپنے پیاروں کو خون نہ ملنے پر والدین شدید پریشان ہیں،دوسری طرف کوٹ ادو یونیورسٹی بناؤ تحریک کے سرپرست تھیلیسیمیا سینٹر کے انچارج وماہر امراض بچگان ڈاکٹر عمرفاروق بلوچ نے لوگوں کو خون کے عطیات دینے کی اپیل کی ہے،اس موقع پرماہر امراض بچگان ڈاکٹر عمرفاروق بلوچ کا کہناتھا کہ لاک ڈاؤن کے باعث خون کے عطیات میں کمی آئی ہے، جس سے بچوں کو خون دیا جانے کا عمل مشکل بنتا جا رہا ہے،تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کوہر ہفتے یا پندرہ دن بعدخون لگایا جانے کی ضرورت ہوتی ہے، ا لشفاء چلڈرن ہسپتال کے فری تھیلیسمیا سینٹرمیں 380 بچے رجسٹرڈ ہیں،جنہیں مختلف ایام میں مفت میں خون لگایا جاتا ہے، اس ماہ 15دن اوپرہوچکے ہیں، بچوں کی زندگی خطرے میں ہے،انہوں نے تحصیل کوٹ ادو و قریبی علاقہ جات کے نوجوانوں سے اپیل ہے اس مشکل کی گھڑی میں خون عطیات دے کر ان بچوں کی جان بچائیں،انہوں نے کہا کہ کوئی نوجوان خون کا عطیہ دینا چاہے تو وہ ان نمبروں پررابطہ کریں،موبائل نمبرز03476684297،0345501656،03455005825،

مزید :

ملتان صفحہ آخر -