علماء مشائخ کا آٹا چینی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

  علماء مشائخ کا آٹا چینی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

  

کراچی(این این آئی)ملک بھر کے علماء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم آٹا چینی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کریں، اور اس بحران میں ملوث حکومتی عہدے رکھنے والے ازخود پی ٹی آئی منشور پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوکر احتساب کے کٹہرے میں کھڑے ہوجائیں، تبدیلی سرکار کی ٹائیگر فورس صرف اور صرف عالمی وباء کرونا کی آڑ میں گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے لیے سیاسی قلابازی ہے جس سے بدعنوانی کا ایک نیا باب کھل جائے گا جسے علماء مشائخ مسترد کرتے ہیں،جمعہ کی باجماعت نماز کی ادائیگی پر اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کو تشویش کیوں ہے؟ بڑے بڑے گروسری اسٹورز، سپر مارٹ، بیکرز، فوج، پولیس، رینجرز کی بیرکوں میں ایک ساتھ درجنوں اہلکاروں کی رہائش سرکاری اجلاسوں اور پریس کانفرنسوں کے انعقاد پر تشویش کیوں نہیں؟قبلہ ایاز پہلے ان پر تو پابندی لگوائیں، ان الفاظ و مطالبات کا اعادہ علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے چیئرمین سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی نے ویڈیو لنک پر یو،ایم، ایف، پی کے مرکزی صدر پیر غلام غوث محی الدین جانی شاہ،مرکزی رہنما وں علامہ پروفیسر ڈاکٹر جلال الدین نوری اور علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمود عالم جہانگیری سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،پیر صاحبزادہ احمدعمران نقشبندی نے کہا کہ دوسروں کو چور کہنے والوں نے خود ریاست مدینہ کے دعویدار وزیراعظم کی زیر قیادت آٹھ ارب 50کروڑ روپے کی سبسڈی لے کر آٹا چینی بحران پیدا کرکے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے جو لمحہ فکریہ ہے لہذا وزیراعظم عمران خان عوام کو انصاف فراہم کرتے ہوئے ان لٹیروں کے خلاف فوری کاروائی کر کے مشال قائم کریں،انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کی جمعہ کی باجماعت ادائیگی پر تشویش کے اظہار پر اپنے موقف میں واضح کیا کہ ملک بھر کے علماء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے رہنما اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور آئندہ جمعہ کو باجماعت نماز ہر شہر میں ادا ہوگی اگر اس سلسلے میں حکومت کا کسی بھی قسم کا ایکشن ہوا تو پھر ملک بھر ائمہ مساجد اور علماء مشائخ بھرپور مزاحمت کرتے ہوے ہر ایکشن کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں،انہوں نے آئمہ مساجد وعلماء کرام پر باجماعت نماز کی ادائیگی پر دہشت گردی کی دفعات لگا کر جیلوں میں بند کرنے کے اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آئمہ کرام و علماء مشائخ دین کے فرائض کے تحفظ اور سربلندی کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں،کرروناو باء کی آڑ میں ملک میں سیکولر اور لبرل ازم پھیلانے کی سازشیں کی جارہی ہیں جنہیں علماء مشائخ اپنے اتحاد کی طاقت سے ناکام بنا دیں گے مذہبی قوتوں نے ہمیشہ اسلام اور پاکستان کے بقاء کی جنگ لڑی ہے خانقاہوں، مدارس اور مذہبی قوتوں کے خلاف پروپیگنڈہ عالمی صہیونی سازشوں کا ایجنڈاہے،حج فارم سے عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ نکالنے کی وجوہات قوم کو بتا ئی جائیں قوم کو بتا یا جا ئے کہ فارم کم کر نے کے عنوان سے یہ سازش کس نے کی ہے؟ اور کن کے اشاروں پر کی ہے حکومت اصل حقائق قوم کے سامنے لائے انہوں نے کہا کہ قبلہ ایاز کوگزشتہ روز شہید بھٹو کی برسی کے موقع پر منعقدہ دعائیہ تقریب میں دو درجن سے زائد افرادکی شرکت پر تشویش کیوں نہیں ہوئی جبکہ اس تقریب میں تو وائرس سے متاثر صوبائی وزیر سعید غنی اور دیگر شرکاء ساتھ ساتھ بیٹھے تھے تو پھر چہ معنی دارد،انہوں کہا کہ علماء مشائخ اور پوری قوم وباء کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے مسلح افواج اور پولیس کو سلام پیش کر تی ہے۔ ڈاکٹرز اپنی جانوں کی پرواہ کیئے بغیر انسانیت کو بچانے کیلئے کوشاں ہیں وبا ء کی اس مشکل گھڑی میں لوگ سورۃ رحمان،آیت کریمہ اور درود تنجیناکا ورد جاری رکھیں۔ کرونا کے ستائے عوام کیلئے نالائق حکمرانوں کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے، آٹا،چینی،گھی اور دالیں بھی نایاب ہوگئی ہیں،اشیاء خوردو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی، منافع خور اور زخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈان کیا جائے،لاک ڈاون کے دوران لاکھوں مزدوروں کے خاندان دو وقت کی روٹی کو ترس گئے ہیں۔ دنیا میں آنیوالی وبائی مرض کرونا وائرس سے ڈرنے نہیں بلکہ ہمیں رجوع اللہ ہونا ہوگا۔کرونا وائرس کیخلاف جنگ میں یو،ایم، ایف،پی اپنا کردار ادا کررہی ہے کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے عوام کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا تحریک انصاف کی حکومت کرونا وائرس کے معاملہ پر قومی یکجہتی میں مکمل ناکام ہوچکی ہے حکومت عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینے کی بجائے طفل تسلیوں سے کام لے رہی ہے مشکل کی اس گھڑی میں علماء مشائیخ اپنی عوام کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں مخیر حضرات کو غریب اور مستحق افراد کا خصوصی خیال رکھا چاہئے اور معاشرہ میں ضرورت مند افراد کی مدد کرنی چاہئے -

مزید :

پشاورصفحہ آخر -