پنجاب، لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع، صوبہ سب سے زیادہ متاثر، لاہور میں وباء پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا، کسی قسم کی نرمی کی بھی مخالفت، ملکی اور چینی ماہرین کی خفیہ رپورٹ میں حکومت کو انتباہ

پنجاب، لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع، صوبہ سب سے زیادہ متاثر، لاہور میں وباء ...

  

لاہور(لیاقت کھرل) کرونا کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے دفعہ 144 کے تحت لگائے جانیوالے لاک ڈاؤن کو مزید سخت اور اس کا دورانیہ 30 اپریل تک بڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس میں وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت خفیہ ٹیموں اور چینی ماہرین نے الگ الگ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگلے چند روز میں کرونا کا وار مزید سخت ہو سکتا ہے جس میں لاہور سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ ہے اور اس میں لاہور سمیت صوبہ بھر میں لاک ڈاؤن کو ختم نہ کیا جائے اور نہ ہی اس میں نرمی کا مظاہرہ کیا جائے۔ مارکیٹوں، بازاروں اور دکانوں کے اوقات کار کو بڑھایا نہ جائے اور پہلے سے جاری لاک ڈاؤن کے حوالے سے ایس او پی پر سختی سے عمل کیا جائے اور اس میں لاک ڈاؤن کا دورانیہ اگلے 28 روز کے لئے بڑھایا جائے۔ چینی ماہرین سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں او رسپیشل برانچ کی پیش کردہ الگ لگ رپو ر ٹس میں اس بات کا بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ناکوں پر موجود پولیس افسران اور اہلکاروں کو مکمل طو رپر کرونا کٹس فراہم کی جائیں اور مکمل احتیاطی تدابیر کاا ستعما ل کیا جائے۔ شہر کی اہم شاہراؤں، مارکیٹوں اور بازاروں سمیت اہم چوراہوں میں کلورین کا سپرے کروایا جائے۔ شہریوں کی نقل و حرکت اور فاصلے کو یقینی بنایا جائے۔ مساجد میں نماز اور بالخصوص جمعتہ المبارک کی نماز کے حوالے سے جاری ایس او پی پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں سمیت چینی ماہرین کی پیش کردہ رپورٹس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے وزیر اعظم پاکستان سے مشاورت کے بعد لاک ڈاؤن کے دورانیہ کو بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت لگائے گئے لاک ڈاؤن 14 اپریل کو ختم نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ اس کا دورانیہ مزید 28 روز کیلئے بڑھایا جا رہا ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 30 اپریل تک دورانیہ بڑھانے کا رپورٹ میں ذکر کیا ہے جبکہ چینی ماہرین اور سپیشل برانچ کی تیار کردہ رپورٹ میں لاک ڈاؤن کو مزید 28 روز کے لئے بڑھانے مشورہ دیا گیا ہے اور اس میں لاک ڈاؤن کو روزانہ کی بنیاد پردوپہر اور رات کے دورانیہ میں چھ گھنٹے کے لئے لاک ڈاؤن کو انتہائی سخت کیا جائے اور اس میں شہریوں کو سڑکوں، بازاروں اور مارکیٹوں میں آنے نہ دیا جائے۔ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کو کامیاب کرنے سے کرونا وباکے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے لاہور پولیس کے سربراہ ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت شہر کے 250 مقامات پر کی گئی ناکہ بندی میں سے 100 مقامات پر ناکوں کو اے کیٹگری میں تبدیل کر دیا گیا ہے جن کی نگرانی متعلقہ ایس ڈی پی او خود کریں گے جبکہ ڈویژن کے ایس پیز بھی ناکوں کا وزٹ کر کے رپورٹ پیش کریں گے۔ اسی طرح 50 ناکوں کو بی کیٹگری اور باقی ناکوں کو سی کیٹگری میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے لئے ناکوں کی کیٹگریز کے حساب سے کرونا کٹس اور دیگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ پولیس افسران، اہلکاروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور انہیں نئے سرے سے ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں اور اس میں اے کیٹگری کے 100 مقامات پر لگائے گئے ناکوں پر لاک ڈاؤن پر تعینات کئے گئے فوجی جوانوں کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں جس میں فوج جوان اور پولیس کمانڈو سمیت پولیس کے افسران و جوان کرونا کٹس اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ناکوں پر انتہائی الرٹ اور آج سے لاک ڈاؤن روزانہ کی بنیاد پر چھ گھنٹے کے لئے سخت کیا جائے گا جس میں مارکیٹیں، بازاروں اور دکانیں پہلے سے طے شدہ ایس او پی کے مطابق کھلیں گی اور بند ہوں گی اور اس میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر شورٹی بانڈز کی بجائے قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

لاک ڈاؤن توسیع

اسلام آباد،کراچی،لاہور،پشاور، مظفر آباد(سٹاف،جنرل رپورٹرز، مانیٹرنگ ڈیسک،ایجنسیاں)سرکاری حکام کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں میں ا ضافہ ہو رہا ہے۔گزشتہ روز پنجاب میں کرونا وائرس کے مزید 375 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، سندھ میں 51 کیس اور ایک شخص کی موت واقع ہوئی، بلوچستان میں 3 کیس رپورٹ ہوئے، گلگت بلتستان میں 13 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ اسلام آباد میں کرونا وائرس کے مزید 3 کیس سامنے آئے اور مریضوں کی مجموعی تعداد 78 ہو گئی ہے۔پنجاب کے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کے کرونا مانیٹرنگ روم سے جاری بیان کے مطابق صوبے میں کرونا وائرس کے مزید 184 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 1380 ہوگئی۔خیال رہے یہ پہلی مرتبہ ہے کہ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اتنی بڑی تعداد میں کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق صوبے میں کرونا وائرس کے مزید51کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس سے مجموعی تعداد 881 ہوگئی ہے جبکہ ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔صوبے میں کل اموات کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔ صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹے میں مزید 68 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شا ہو ا نی کے مطابق صوبے میں کرونا وائرس کے مزید 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 189 ہوگئی۔ترجمان کا مزید کہنا تھا 43 ٹیسٹ رپورٹس موصول ہوئے جن میں 3 مثبت اور 40 کے نتائج منفی آئے۔ مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔سرکاری سطح پر ملک میں کرونا وائرس کیسز کے اعداد و شمار بتانیوالی ویب سائٹ کے مطابق اسلام آباد میں مزید 3 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں ان 3 نئے کیسز کے سامنے آنے کے بعد تعداد 75 سے بڑھ کر 78 تک پہنچ گئی۔گلگت بلتستان میں بھی مزید 13 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے بعد وہاں تعداد 193 سے بڑھ کر 206 تک پہنچ گئی۔ 26 فروری سے ابتک صرف 39 روز میں یہ تعداد 3118 تک جا پہنچی ہے۔

کرونا،پاکستان

واشنگٹن،روم،برلن،میڈرڈ،کابل،پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک،ایجنسیاں) امریکہ میں 24 گھنٹے میں کرونا وائرس سے ایک ہزار سے زائد اموات ریکارد کی گئی ہیں،مسلسل چوتھے روز بھی ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کے پیش نظر نیویارک میں فوج طلب کر لی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایک ہزار فوجیوں کو نیویارک میں تعینات کر رہا ہوں۔ میری حکومت کرونا سے نمٹنے کیلئے ہرممکن اقدام کر رہی ہے جبکہ اٹلی، سپین، امریکہ اور فرانس میں بھی کرونا وباء کے ہاتھوں ہلاکتوں کا سلسلہ جا ری ہے۔دنیا بھر میں وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 64 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔چین سے پھیلنے والی عالمگیر وبا نے اب امریکا کو اپنی شدید لپیٹ میں لے رکھا ہے جہاں مسلسل چوتھے روز ایک ہزار سے زائد ہلاکتیں رپورٹ کی گئی ہیں۔ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد امر یکا میں متاثرین کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 11 ہزار 635 تک پہنچ گئی ہے جبکہ کل اموات 8 ہزار 554 ہو گئی ہیں۔سپین میں بھی کرونا حملوں کا سلسلہ چند روز سے مسلسل جاری ہے جہا ں اب تک 11 ہزار 947 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ایک لاکھ 26 ہزار 168 افراد متاثرین میں شامل ہیں۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق اٹلی میں متاثرین کی مجمو عی تعد ا د ایک لاکھ 24 ہزار 632 جبکہ اموات 15 ہزار 362 ہو چکی ہیں۔اسی طرح فرانس میں بھی ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے 7 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ جرمنی میں بھی ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ کر 14 سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔ چین میں متاثرین کی تعداد 81 ہزار 669 ہے۔ترکی میں کرونا وائرس کے باعث اموات میں اچانک اضافہ ہو گیا، اموات کی مجموعی تعداد 500 سے بڑھ گئی ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے 20 سال سے کم عمرلڑکوں کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔سعودی عرب میں 29، یو اے ای میں 10، بھارت میں 99 اور پاکستان میں بھی 45 زندگیاں کرونا وائرس کی نذر ہو چکی ہیں۔ افغانستان میں نوول کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد337تک پہنچ گئی ہے، یہ بات وزارت عوامی صحت کے ترجمان واحد اللہ مایار نے بتائی ہے۔مایار کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک میں نوول کرونا وائرس کے 38نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 10کیسز کابل سے رپورٹ ہوئے ہیں اور اس سے ملک بھر میں نوول کرونا وائرس کے مریضوں کی تعاد 337 ہوگئی ہے۔ فروری کے وسط میں اس ملک میں وبائی مر ض کے آغاز سے لے کر اب تک 7 مریض جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 12 دیگر صحت یاب ہوچکے ہیں۔چین کے محکمہ صحت نے کہاہے چینی مین لینڈ پر نوول کرونا وائرس کے 30 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہیں جن میں سے 25 افراد باہر سے آئے ہیں جبکہ 3افراد ہلاک ہوچکے ہیں،تینوں ہلاکتیں صوبہ ہوبے میں ہوئیں جبکہ مین لینڈ پر11نئے مشتبہ مر یض سامنے آئے۔کمیشن کے مطابق 213افراد کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔بھارت کی وفاقی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ بھارت میں نوول کرونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 77تک بڑھ گئی ہے جبکہ ملک میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 3ہزار 374تک پہنچ گئی ہے۔وزارت کی جانب سے جاری اعدادکے مطابق اتوار کو مقا می وقت کے مطابق صبح9بجے تک ملک میں نوول کرونا وائرس کے باعث 77ہلاکتیں ہوئیں۔ہفتہ کی شام کے بعد سے 2ہلاکتوں جبکہ 302نئے مریضوں کا اضافہ ہوا۔پرتگال میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ سرکاری ڈیٹا میں بتایا گیا کہ 5 لاکھ افراد اس وبا کی وجہ سے عارضی طور پر بیروزگار ہوسکتے ہیں۔ براز یل میں کیسز کی تعداد 10ہزار سے تجاوز کرنے پر کانگریس کے ایوان ذیلی میں کورونا وائرس سے متعلق اخراجات کو حکومتی بجٹ سے علیحدہ کرنے اور معیشت کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ’جنگی بجٹ‘ منظور کرلیا گیا۔

دنیا ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -