ہنر مند خواتین سے گھروں پر سلائی کروا کر طبی سامان تیار کروایا جائے: میئر کراچی

ہنر مند خواتین سے گھروں پر سلائی کروا کر طبی سامان تیار کروایا جائے: میئر ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اخترنے وفاقی وصوبائی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اُن ہنر مند خواتین کو جو گھروں پر سلائی کام کرتی ہیں اور اب لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روز گار ہیں انہیں کپڑا ور دیگر سامان دے کر ان سے کورونا وائرس سے بچاؤ کا حفاظتی لباس، ماسک، دستانے اور دیگر سامان تیار کروایا جا ئے تاکہ انہیں روزگار مہیا ہوسکے، یہ بات میئر کراچی وسیم اختر نے معروف فیشن ڈیزائنر عاصم جوفا سے ملاقات کے موقع پر کہی، انہوں نے کہا کہ ایسی خواتین سے جن کے پاس اپنی سلائی مشینیں موجود ہیں ان سے کا م کروانے کے لئے این جی اوز سے رابطہ کرکے گھر بیٹھے کام لیا جاسکتا ہے تاکہ انہیں ان کاموں سے روزگار میسر آئے اور اسپتالوں میں حفاظتی لباس اور ماسک کی کمی کو دور کیاجاسکے، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث شہر میں لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے روزمرہ کام کرنے والے ہزاروں افراد کو بے روز گاری کا سامنا ہے جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہوتے جارہے ہیں، مئیر کراچی وسیم اختر سے ملاقات میں عاصم جوفا نے تجویز پیش کی کہ وہ خواتین جو گھروں میں سلائی کا کام کرتی ہیں روزگار نہ ہونے کے باعث مشکلات پیش آرہی ہیں، اس لئیے بہتر ہو گا کہ حفاظتی لباس، ماسک دستانے، اور اسپتالوں میں استعمال ہونے والی مختلف کپڑوں کی اشیاء کی تیاری گھروں پر سلائی کرنے والی خواتین کے ذریعہ کرائی جائے مئیر کراچی نے اس تجویز سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس سیان ہزاروں خواتین کے روزگار کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور حفاظتی لباس کی تیاری کی لاگت بھی کم آئے گی، انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث جو ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف فرنٹ لائن پر کام کررہے ہیں اور اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے شہریوں کی مدد کررہے ہیں اس روزگار کے نتیجے میں ان کی بھی بڑے پیمانے پر مدد ہوسکے گی، میئر کراچی نے کہا کہ ملک و قوم پر ازمائش کا وقت ہے اور پاکستان ہی نہیں دنیا کے تمام ممالک ہی اس وباء سے نبردآزما ہیں، میئر کراچی نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اکے ساتھ گھریلوں کام کاج کرنے والی خواتین سے اپنے گھروں میں کام کرائیں اور انہیں بے روزگار نہ ہونے دیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک غریب ملک ہونے کے ناطے دو نوں محاذ پر لڑنا ہے، ایک طرف کورونا وائرس کی وباء سے نمٹنا ہے تو دوسری جانب بے روزگاری، بھوک اور افلاس سے بھی اپنے لوگوں کو بچانا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں جو ادارے اور افراد شہریوں کی کسی بھی طری مدد کررہے ہیں، وہ قابل ستائش ہیں، انہوں نے ایسے اداروں اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ امداد کے پروگرام کو منظم کریں اور سڑکوں پر آکر ہر گز امدادی اشیاء تقسیم نہ کریں بلکہ لوگوں کے گھروں تک راشن پہنچانے کا انتظام کریں، انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی ریکارڈ بھی مرتب کریں تاکہ تمام مستحق افراد تک راشن پہنچا جاسکے، انہوں نے کہا کہ کراچی کی ساڑھے پانچوں سے زائد کچی آبادیوں میں لاتعداد گھرانے اپنی سفیدپوشی کا بھرم رکھنے کے لئے سڑکوں پر نہیں آتے لیکن انہیں بھی مدد کی سخت ضرورت ہے اس لئے وہ افراد اور ادارے ایسی بآدیوں میں جاکر گھر گھر راشن پہنچانے کا انتظام کریں۔

مزید :

صفحہ اول -