”وزیراعظم کو بڑے اہم آدمی نے دھمکی دی کہ ہم آپ کے خیر خواہ ہیں لیکن یہ چینی مارکیٹ سے غائب ہو جائے گی اور ۔۔“ سینئر صحافی محمد مالک نے بڑا دعویٰ کر دیا

”وزیراعظم کو بڑے اہم آدمی نے دھمکی دی کہ ہم آپ کے خیر خواہ ہیں لیکن یہ چینی ...
”وزیراعظم کو بڑے اہم آدمی نے دھمکی دی کہ ہم آپ کے خیر خواہ ہیں لیکن یہ چینی مارکیٹ سے غائب ہو جائے گی اور ۔۔“ سینئر صحافی محمد مالک نے بڑا دعویٰ کر دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی محمد مالک نے کہاہے کہ جب ساری چیزیں ڈھیلی پڑنی شروع ہو گئیں ، تو ایک بڑے اہم آدمی نے وزیراعظم عمران خان کو کہا کہ میں آ پ کا خیرا خواہ ہوں لیکن میرا پیغام بڑا واضح ہے کہ” یہ چینی بھی مارکیٹ سے غائب ہو جائے گی اور 120 روپے میں بھی نہیں ملے گی “۔وزیراعظم عمران خان بھی فاسٹ باولر ذہنیت والے ہیں اور جب انہیں دھمکی ملی تو پھر وہ بھی کھڑے ہو گئے کہ اب دیکھا جائے گا ۔

نجی ٹی وی ” ہم نیوز “ کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے سینئر صحافی محمد مالک نے دعویٰ کیاہے کہ جہانگیر ترین اور بہت سارے دوسرے لوگ 1985 سے اس کاروبا ر میں آئے ، انہوں نے ایک ایک ملز شروع کیں پھر یہ چھ چھ بن گئیں اور پھر ان کے ہم نے بلینز روپے دیکھے، یہ شائد ملک کا سب سے بڑا انڈسٹریل جگا ہے ، عمران خان نے بہت بڑا فیصلہ کیا لیکن اصل ٹیسٹ اب شروع ہو گا ، فرانز ہو گا ، اس کا دائرہ کار سب سے بڑی بات ہے ، اہم لو گ چاہے وہ خسرو بختیار ہوں یا پھر جہانگیر ترین ، جن کا اثرو رسوخ ہے ، ان پرعمران خان کیا کرتے ہیں ۔

محمد مالک نے بتایا کہ جب کمیٹی نے تحقیقات شروع کیں تو کمیٹی کے دو اراکین کو بڑے سخت الفاظ میں کہا گیا کہ آپ ایک حد تک جائیں اور اس سے آگے نہ جائیں ، بہر حال وہ کمیٹی کام کرتی گئی ، وزیراعظم عمران خان کے پاس یہ رپورٹ 14 تاریخ کو آ گئی تھی ، پھر یہ دباﺅ ڈالا گیا کہ بہت زیادہ اپنے لوگوں کے نام بھی آئیں گے ،آپ یا تو اس رپورٹ کو روک دیں اور جب فرانزک آڈٹ ہو جائے گا پھر اکھٹی رپورٹ جاری کیجیے گا۔

سینئر صحافی کا کہناتھا کہ خیال یہ تھا کہ فرانزک آڈٹ پورا نہیں ہو گا ،اس کو اور پھیلایا جائے گا کہ آپ دس پر نہیں، بیس ملوں پر آڈٹ کریں اور اس طرح یہ فرانزک آڈٹ ختم نہیں ہوگا ، پھر ایک غلطی ہو گئی ، جب ساری چیزیں ڈھیلی پڑنی شروع ہو گئیں ، تو ایک بڑے اہم آدمی نے وزیراعظم عمران خان کو کہا کہ میں آ پ کا خیرا خواہ ہوں لیکن میرا پیغام بڑا واضح ہے کہ” یہ چینی بھی مارکیٹ سے غائب ہو جائے گی اور 120 روپے میں بھی نہیں ملے گی “۔

محمد مالک کا کہناتھا کہ وزیراعظم عمران خان بھی فاسٹ باولر ذہنیت والے ہیں اور جب انہیں دھمکی ملی تو پھر وہ بھی کھڑے ہو گئے کہ اب دیکھا جائے گا ،اگرچہ پی ٹی آئی کے اندر سرکل یہ کہتے ہیں کہ یہ دو گروپس کی لڑائی ہو گئی ہے ،ایک گروپ جہانگیر ترین کا ہے اور دوسرا گروپ پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کا ہے ، ان کی آپس میں بنتی نہیں ہے ، میرے خیال میں یہ جہانگیر ترین اور اعظم خان سے بڑی چیز ہے ، یہ بہت بڑا مسئلہ ہے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -