’مجھے اغوا کر کے 4 ہفتے تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا‘ معروف گلوکارہ نے دلخراش انکشاف کردیا

’مجھے اغوا کر کے 4 ہفتے تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا‘ معروف گلوکارہ نے ...
’مجھے اغوا کر کے 4 ہفتے تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا‘ معروف گلوکارہ نے دلخراش انکشاف کردیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی گلوکارہ ایمی این ڈفی نے چند سالوں میں ایسی شہرت پائی کہ پوری دنیا میں ان کا نام گونجنے لگا لیکن پھر 10سال قبل وہ اچانک منظر سے غائب ہو گئیں اور گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرنے لگیں۔ آج تک ان کے مداح یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ آخر ڈفی کو کیا ہوا ہے؟ اب بالآخر گلوکارہ نے اپنی خاموشی توڑ دی ہے اور گلوکاری ترک کرنے کی افسوسناک وجہ بتا دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق 35سالہ ڈفی نے رواں سال فروری میں پہلی بار انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنے مداحوں کو بتایا کہ انہیں اغواءکرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے صدمے اور خوف کی وجہ سے انہوں نے گلوکاری ترک کر دی۔ اب انہوں نے اس واقعے کے متعلق اپنی ویب سائٹ پر تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ انہوں نے جنسی زیادتی کرنے والے ملزم کا نام نہیں بتایا تاہم لکھا کہ ”وہ فروری کا مہینہ تھا۔ میری سالگرہ کے روز اس شخص نے مجھے کوئی نشہ آور دوا دی جس سے میرے حواس جاتے رہے اور میں اس کے اشاروں پر چلنے لگی۔ وہ مجھے ہوٹل کے ایک کمرے میں لے گیا اور وہاں جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ اگلے روز وہ مجھے ایئرپورٹ لے گیا اور وہاں سے ہم بیرون ملک چلے گئے۔ مجھے بہت کم یاد ہے کہ میں کیسے ایئرپورٹ تک پہنچی اور کیسے جہاز میں سوار ہوئی۔

ڈفی نے لکھا کہ ”دوسرے ملک پہنچ کر مجھے کچھ ہوش آئی۔ وہاں اس نے مجھے ڈیڑھ ہفتہ ایک ہوٹل میں رکھا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ اس کے بعد واپس مجھے برطانیہ لے آیا اور میرے ہی گھر میں مجھے قید کر لیا اور ایک بار پھر منشیات دینے لگا اور جنسی زیادتی کرنے لگا۔ اب میں سوچتی ہوں کہ اس نے مجھے بیرون ملک منشیات کیوں نہیں دی تھیں؟ شاید وہ مجھے اے کلاس منشیات دیتا رہا تھا جو دوسرے ملک اسے دستیاب نہیں ہو سکیں تھیں۔ وہ اسی طرح مجھے 4ہفتے تک محبوس رکھ کر منشیات دیتا رہا اور زیادتی کرتا رہا۔ وہ مسلسل مجھے دھمکیاں دیتا تھا کہ مجھے قتل کرکے لاش ٹھکانے لگا دے گا۔ ان چار ہفتوں میں باقی وقت میں ہوش میں ہی نہیں رہی۔ صرف وہ چار دن میں ہوش میں رہی جو ہم نے دوسرے ملک میں گزارے۔ ان دنوں میں جب وہ رات کو سو رہا ہوتا تو میرا دل کرتا کہ میں وہاں سے بھاگ جاﺅں لیکن نہ تو میرے پاس پاسپورٹ تھا اور نہ رقم، اس بیگانے ملک میں میں کہاں جاتی اور یہ خوف بھی تھا کہ وہ پولیس کو اطلاع کر دیتا اور پولیس مجھے گمشدہ خاتون سمجھ کر پکڑتی اور واپس اسی کے حوالے کر دیتی اور وہ مجھے قتل کر ڈالتا۔ اس خوف نے مجھے بھاگنے نہیں دیا۔ چار ہفتے بعد میری ایک دوست میرے گھر آئی اوراس نے میری حالت دیکھ کر خطرے کو بھانپ لیا اور میری اس شخص سے جان چھوٹ گئی۔ ان گزرے دس سالوں میں سینکڑوں بار میں نے دنیا کو اپنی کہانی سنانے کا سوچا لیکن میں نہیں چاہتی تھی کہ دنیا میری آنکھوں میں موجود افسردگی اور دکھ کو دیکھ لے۔ اس واقعے نے مجھے میرے خاندان اور دوستوں کے لیے اجنبی بنا دیا تھا اور میرا کیریئر بھی تباہ ہو گیا۔ ایک ماہر نفسیات کی طویل کوششوں سے میں کچھ نارمل ہو پائی اور خاندان کے لوگوں او ر دوستوں سے ملنے کے قابل ہوئی لیکن مجھے دوبارہ گانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ میں اب تک اس خوف میں رہی کہ اگر میں نے گانا شروع کیا تو وہ شخص مجھے دوبارہ ڈھونڈ لے گا۔“

مزید :

تفریح -