’مجھے لگا کہ ڈاکٹر مجھے مار دیں گے‘ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے پاکستانی کی افسوسناک کہانی

’مجھے لگا کہ ڈاکٹر مجھے مار دیں گے‘ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے ...
’مجھے لگا کہ ڈاکٹر مجھے مار دیں گے‘ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے پاکستانی کی افسوسناک کہانی

  

چارسدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) چارسدہ میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے ایک پاکستانی نے انتہائی افسوسناک کہانی سنا دی ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق اس نوجوان نے بتایا ہے کہ ”مجھے کورونا وائرس لاحق ہونے کے بعد 2ہفتے تک چارسدہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ اس دوران میرے ساتھ جو رویہ برتا گیا، مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر مجھے مار ڈالیں گے اور میرے گاﺅں سے دور کہیں اجنبی جگہ پر مجھے دفن کر دیں گے۔“ اس نے کہا کہ ”مجھے ہسپتال کے اس کمرے میں بند کرکے باہر سے تالہ لگا کر رکھا گیا تھا۔ باہر دو پولیس والے بھی تھے جو کسی کو بھی اندر نہیں آنے دیتے تھے۔ حتیٰ کہ اس دوران ڈاکٹروں اور ہسپتال کے دیگر کسی شخص نے بھی میرے پاس آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ وہ کہتے تھے کہ ان کے پاس ضروری حفاظتی لباس اور سازوسامان ہی نہیں ہے۔“

نوجوان نے بتایا کہ ”ان دو ہفتوں میں انہوں نے مجھے کوئی دوا نہیں دی، حتیٰ کہ میرا ٹمپریچر تک چیک نہیں کیا۔ مجھے 13مارچ کو اس کمرے میں ڈالا گیا اوراس کے بعد نکلنے تک ان لوگوں نے صرف فون پر مجھ سے رابطہ رکھا اور یہ معلوم کرتے رہے کہ میں زندہ ہوں یا مر گیا ہوں۔ان لوگوں نے حقیقت میں مجھے مرنے کے لیے کمرے میں چھوڑ دیا تھا۔ یہ 14دن میرے لیے کسی جیل میں قید تنہائی سے بھی بد تر تھے۔ باہر بھی میرے متعلق یہ افواہ گردش میں رہی کہ ڈاکٹر مجھے خود موت کی نیند سلا دیں گے اور میری میت بھی گھر والوں کو نہیں ملے گی۔“ واضح رہے کہ یہ 30سالہ نوجوان سعودی عرب میں کام کرتا تھا اور وہاں سے واپس آنے کے بعد اس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور اسے قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -چارسدہ -کورونا وائرس -