قومی کرکٹرز کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے گی یا نہیں؟ وسیم خان نے اعلان کر دیا

قومی کرکٹرز کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے گی یا نہیں؟ وسیم خان نے اعلان کر دیا
قومی کرکٹرز کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے گی یا نہیں؟ وسیم خان نے اعلان کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وسیم خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس قومی کرکٹرز کی تجوریوں پر حملہ آور نہیں ہو گا اور مرد یا خواتین کرکٹرز کو دئیے جانے والے معاوضوں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق کرکٹ کی معروف غیر ملکی ویب سائٹ سے گفتگو کے دوران وسیم خان سے سوال کیا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں کئی ملکوں کے کرکٹ بورڈز کھلاڑیوں اور ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کر رہے ہیں، چند نے ایک نے تو رضاکارانہ طور پر اعلان بھی کردیا، آپ اس حوالے سے کچھ کر رہے ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم مرد یا خواتین کرکٹرز کو جو بھی معاوضہ دے رہے ہیں اس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں، دیگر ملکوں کا معاملہ اور ہے کیونکہ ان کی نسبت ہمارے کرکٹرز کے معاوضے زیادہ نہیں، اس لئے ہم تنخواہوں میں کمی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے علاوہ 3 لیگز کھیلنے کی اجازت ملنے سے کھلاڑیوں کو مالی آسودگی حاصل کرنے میں مدد ملے گی جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ کیرئیر کے عروج میں بھی کھلاڑیوں کو کمائی کے مواقع ملیں تاہم کام کے بوجھ اور قومی ٹیم کی ضروریات کو پیش نظر رکھیں گے۔ بنگلہ دیش کیخلاف ٹیسٹ اور ون ڈے میچ ملتوی ہونے کے سوا ہمیں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، اور پی ایس ایل کے باقی میچز ری شیڈول ہو جائیں گے، اگلے 2 ماہ میں نشریاتی حقوق کے نئے معاہدے سے ذرائع آمدنی میں اضافہ ہوگا، مارکیٹ ویلیو رکھنے والی پراڈکٹ ہوگی تو ہماری مالی حیثیت بہتر ہوجائے گی۔

وسیم خان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا، انگلینڈ اور بھارت سب کو دیگر ملکوں کے ساتھ کھیلنا چاہیے، ماضی کے بگ تھری اگر اپنے ویژن کے تحت ہی کام کریں تو دیگر کی کمائی کے مواقع کم ہوتے ہیں، اس لئے ان کا احساس محرومی دور کرنے کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے تحت کوئی حکمت عملی وضع کیا جانا خوش آئند ہوگا، اگر کوئی بڑی سیریز ہمیں بھی مل جائے تو مشکل مالی صورتحال سے نکلنے میں مدد ملے گی، ہم کئی سال سے مسلسل انگلینڈ جاکر کھیل رہے ہیں، میزبانی کا موقع ملے تو ہماری کرکٹ کو بہت فائدہ ہو گا۔

ایک سوال پر وسیم خان نے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال ختم ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ درست سمت میں اپنا سفر مزید بہتر انداز میں شروع کرے گی، مصباح الحق کو بیک وقت ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کا عہدہ سونپنے میں کوئی مسائل پیش نہیں آئے۔ ماضی میں مشکل وقت میں ٹیم کو سنبھالنے والے سابق کپتان کے پاس تجربہ ہے، مفادات کے ٹکراﺅ کی بات اس لئے درست نہیں کہ اگر کوئی کرکٹر فارم میں نہ ہو تو ہیڈ کوچ ہی سلیکٹر کو اس کے بارے میں بتاتا ہے، اس کی رائے کا احترام بھی کیا جاتا ہے، اگر اب یہ دونوں فیصلے ایک ہی شخص کے ہاتھ میں ہیں اور وہ ذمہ داری کا بوجھ اٹھا بھی سکتا ہے تو مسائل پیدا ہونے کا خدشہ کم ہے۔اصل بات یہ ہوتی ہے کہ کوچ کا کھلاڑیوں کے ساتھ تعلق کیسا خوشگوار ہے، دونوں ایک دوسرے کی بات اور مسائل سننے کیلئے تیار ہیں یا نہیں،اس معاملے میں مصباح الحق بہترین نظر آ رہے ہیں کیونکہ چند کرکٹر تو ان کے ساتھ کھیل بھی چکے ہیں، سری لنکا کے بعد بنگلہ دیش سے سیریز میں بہتری کے آثار نظر آئے، اس لئے ہمیں مصباح الحق کو مزید وقت دینا ہو گا۔

مزید :

کھیل -