علیم ڈار کی کارکردگی کا گراف گرنے لگا، مداحوں کیلئے تشویشناک خبر

علیم ڈار کی کارکردگی کا گراف گرنے لگا، مداحوں کیلئے تشویشناک خبر
علیم ڈار کی کارکردگی کا گراف گرنے لگا، مداحوں کیلئے تشویشناک خبر

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے مایہ ناز امپائر علیم ڈار کی کارکردگی کا گراف گرنے لگا ہے جو ٹاپ تھری امپائرز میں جگہ بنانے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے جبکہ مائیکل گف مجموعی طور پر 82.96 فیصد فیصلوں کیساتھ سرفہرست ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 28 ستمبر 2017ءکے بعدامپائرز کی جانب سے دئیے جانے والے ہر 20 فیصلوں میں سے 10 کیخلاف ٹیموں نے ڈی آر ایس سے مدد لی جن میں سے 8میں امپائرز غلط ثابت ہوئے، یوں مجموعی طور پر امپائرز کی جانب سے دئیے جانے والے ہر 20فیصلوں میں سے 12 درست فیصلے رہے جن کا تناسب 60 فیصد ہے لیکن کامیاب ترین امپائرز کی فہرست میں پاکستان کے علیم ڈار جگہ نہیں بنا سکے، کبھی 100 فیصد درست فیصلوں سے ٹیکنالوجی سے زیادہ مستند ثابت ہونے والے آفیشل اب ٹاپ تھری میں بھی شامل نہیں ہیں، ٹیسٹ میچز میں مائیکل گف کے مجموعی طور پر 82.96فیصد فیصلے درست ثابت ہوئے، ان کے 41 فیصلوں کیخلاف ڈی آر ایس کا سہارا لیا لیا جن میں سے 39 فیصلے برقرار رہے اور یوں وہ 95.1 کی اوسط کے ساتھ سرفہرست ہیں۔

کمار دھرما سینا کے 94فیصلے چیلنج ہوئے جن میں سے 74میں امپائر درست قرار پائے اور یوں ان کی کامیابی کی طرح 78.7 فیصد رہی۔ این گولڈ کے 57فیصلوں کیخلاف تھرڈ امپائر سے رجوع کیا گیا جن میں سے 44 میں فیصلہ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اور یوں ان کی کامیابی کی اوسط 77.2فیصد رہی۔ ناکام ترین امپائرز میں نائجل لونگ کا نام سرفہرست ہے، ان کے 80فیصلوں کو چیلنج کیا گیا جن میں سے 29غلط ثابت ہوئے اور یوں ان کی کامیابی کا تناسب 63.75فیصد رہا، جوئیل ولسن کے 93فیصلوں کیخلاف ریویو لیا گیا جن میں سے 60درست ہوئے اور ان کی کامیابی کی شرح 64.5فیصد رہی۔

کرس گیفنی کے 99فیصلوں کیخلاف تھرڈامپائر سے رجوع کیا گیا جن میں سے 64 فیصلے تبدیل نہیں ہوئے اور یوں ان کی کامیابی کی اوسط 64.6 فیصد ہے۔ سب سے زیادہ 6.6 فی ٹیسٹ میچ ریویو بھی نائجل لونگ کے فیصلوں کیخلاف لیے گئے جبکہ سب سے کم 3.8 فی میچ فیصلے روڈ ٹکر کے چیلنج ہوئے، مائیکل گف کے فی میچ 4.1فیصلوں کیخلاف تھرڈ امپائر سے رجوع کیا گیا۔

مزید :

کھیل -