" چینی بحران میں عوام کو 97 ارب روپے کا چونا لگا" ایسا دعویٰ منظر عام پر کہ اس تبدیلی پر پاکستانیوں کے واقعی آنسو نکل آئے

" چینی بحران میں عوام کو 97 ارب روپے کا چونا لگا" ایسا دعویٰ منظر عام پر کہ اس ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی بحران کے دوران مافیا نے عوام کو 97 ارب روپے کا چونا لگایا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے تحقیقاتی رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں 16 مہینے کی قیمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔  نومبر 2018 سے فروری  2020 کے دوران چینی کی قیمت میں 13 روپے کا اوسط اضافہ ہوا ۔ اگر ایک مہینے میں پاکستانیوں نے 4 لاکھ 17 ہزار ٹن چینی استعمال کی ہے تو اس حساب سے 87 ارب روپے بنتے ہیں۔ رپورٹ میں مارچ کا مہینہ شامل نہیں کیا گیا، اب چینی کی قیمت 80 روپے ہے جس کے مطابق مارچ میں مافیا نے 10 ارب روپے کمائے، اس طرح عوام سے 97 ارب روپے چینی کی قیمت میں اضافہ کرکے کمائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی کی بہت بڑی ناکامی ہے، حکومت کے قریبی 2 گروپ ساڑھے 32 فیصد چینی کنٹرول کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے چینی بحران سے 32 ارب روپے کمائے،  چینی کی برآمد کی پالیسی کی منظوری ای سی سی اور کابینہ نے دی اس لیے لوگ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اصل ذمہ دار کون ہے۔

مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے 2019/20 کے بجٹ میں شوگر کے ہول سیلرز کا ٹیکس ٹرن اوور ڈیڑھ فیصد سے کم ہو کر صرف اعشاریہ 25 فیصد رہ گیا جبکہ ہول سیلرز اور شوگر ڈیلرز کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس بھی ساڑھے 4 فیصد سے کم کرکے اعشاریہ 25 فیصد کردیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود چینی کی قیمتیں بڑھتی چلی گئیں۔

مزید :

قومی -سیاست -علاقائی -اسلام آباد -