پنجاب کے پرانے اور نئے گورنر

پنجاب کے پرانے اور نئے گورنر
 پنجاب کے پرانے اور نئے گورنر

  



                              جناب خالد مقبول چاہے جنرل پرویز مشرف کے دور میں گورنر پنجاب رہے لیکن انہوں نے بعض کام ایسے کئے جو ہمیں ذاتی طور پر پسند تھے اس لئے ہم نے گورنر صاحب سے ملنے کی حامی بھر لی،چند روز بعد گورنر ہاﺅس لاہور میں ایک تقریب تھی، ہمیں مہمان کے طورپر بلایا گیا اور یوں خالد مقبول صاحب سے ملاقات ہو گئی،گورنر ہاﺅس کے سبزہ زار میں ہم نے جناب خالد مقبول کے فلاحی کاموں کی تعریف کی تو انہوں نے وی وی آئی پی مہمانوں کی ایک قطار کی طرف اشارہ کرکے کہا۔”یار! مجھ میں اتنی ہمت کہاں کہ ہر ماہ غریب بچیوں کی اجتماعی شادیاں کرواﺅں ،بیروزگار نوجوانوں کو قرضے دیکر کر کاروبار کراﺅں ،یتیموں ،لاوارثوں کی فراخدلانہ مدد کروںاورنجی سیکٹر میں آئے روز نئے تعلیمی ادارے بنواوں،یہ سب فلاحی کام ان مہربان دوستوں کے تعاون اور مدد سے ہورہے ہیں۔“ہم نے اس قطار کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو ہمیں سیٹھ عابد،میاں محمد منشائ،میاں عامر محمود،فرخ نواز چغتائی،ڈاکٹر امجد ثاقب اور ہائر پاکستان کے مالک آفریدی صاحب سمیت ملک کے بہت معروف صنعتکار اور سرمایہ دار بیٹھے نظر آئے،ہم سوچتے چلے گئے کہ اگر گورنر سمیت کسی بھی عہدہ پر کوئی اچھا دماغ بیٹھا ہو اور عوام کی خدمت کرنا چاہے تو کسی دشواری کے بغیر کر سکتا ہے،ان دنوں ہم نے دیکھا کہ گورنر ہاﺅس پاکستان کے بہت اونچے خاندانوں اور بہت نچلے طبقے کا بیک وقت گڑھ تھا،ایک طرف سے غریب لڑکے لڑکیاں دولہے دلہنیں بنے گورنر ہاوس داخل ہوتے تو دوسری طرف سے پاکستان کے امیر خاندان اپنی قیمتی گاڑیوں اور جہیز کے ٹرکوں سمیت اس بڑے گھر میں آن ڈیرہ جماتے، امیروں،غریبوں کا یہ انوکھا میل بہت اچھا لگتا اور بعض اوقات آنکھوں میں آنسووں کی ایسی جھڑی لگتی کہ کچھ نہ پوچھئے!!

جناب خالد مقبول کے بعد گورنر ہاﺅس میں ایسے میلے دیکھنے کو نہ ملے،جناب سلمان تاثیر مرحوم اور سردار لطیف کھوسہ کے ادوار میں کبھی کبھی میلے کا سماں ضرور ہوتا مگر یہ میلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں کا لگتا،جو لنچ یا ڈنر کے دوران برتن توڑتے اور تنبو اکھاڑتے نظر آتے۔

میاں نوازشریف کی موجودہ حکومت کے اچھے کاموں میں ایک کام یہ ہوا کہ چودھری محمد سرور جیسے محب وطن انسان کو گورنر پنجاب نامزد کیا گیا ، ان کی حب الوطنی پر اس لئے شک نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے پاکستان کی خاطر برطانیہ کی نیشنلٹی کو خیر باد کہا،وہ پہلے پاکستانی ہیں جو

 برطا نو ی پارلیمنٹ کے منتخب ”ایم پی“رہے ،یقینا وہ بڑی کاروباری شخصیت ہیںدنیا بھر میں پھیلی پاکستانی کاروباری برادری سمیت پاکستان کی صنعتکار برادری کے ساتھ ان کا بہت پرانا میل جول ہے لیکن ہمارے لئے دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ان کا تعلق پنجاب کے اس علاقہ سے ہے جسے کسی حد تک پسماندہ قرار دیا جاتا ہے،یوں تو جناب شہباز شریف نے اپنے پچھلے دور میںپورے پنجاب میں خاطر خواہ ترقیاتی کام کروائے لیکن چودھری محمد سرور کے علاقہ پیر محل یا ٹوبہ ٹیک سنگھ کو لاہور جیسا ترقی یافتہ علاقہ کسی صورت نہیں کہا جا سکتا،دیہاتی علاقہ سے تعلق ہونے کی بناءپر چودھری محمد سرور نے غربت اور مسائل کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور دوسری طرف برطانیہ میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزارتے ہوئے ترقی یافتہ ترین ملک کابھی بہت باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہے،ہمارے جو دوست چودھری محمد سرور سے ملاقات رکھتے ہیں ان کے مطابق وہ یاروں کے یار،بہت شفیق اور ہمدرد انسان ہیں ،اگر ایسا ہے تو پھر ہماری جناب چودھری محمد سرور سے درخواست ہے کہ وہ گورنر ہاﺅس لاہور میں پھر سے امیروں غریبوں کے مشترکہ میلے لگوائیں ،پھر سے پنجاب کے اس بڑے گھر میں غریبوں کی بچیاں دلہنیں بن کے آئیں اور پاکستان کے امیرترین خاندان ان کے لئے جہیز کے ٹرک لائیں،پھر سے ڈاکٹر امجد ثاقب اور ڈاکٹر آصف جاہ جیسی شخصیات کو متحرک کیا جائے اور ان کی تنظیموں سے پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کو بلاسود قرضے دلوائے جائیں تاکہ غربتوں اور مجبوریوں کے اس نحوست زدہ ماحول کو تبدیل کیا جاسکے،سوچنے والی بات صرف اتنی ہے کہ ہم سب کے دیکھتے دیکھتے کئی شخصیات گورنر بن کر اس بڑے گھر میں آئیں اور چلی گئیں،چودھری محمد سرور بھی ایک دن اپنی مدت پوری کرکے پیر محل یا انگلستان جا بیٹھیں گے لیکن ان کے اچھے یا برے کام یاد رہ جائیں گے،کیا ہی اچھا ہو کہ قلیل مدت کےلئے ہم میں سے کوئی بھی کبھی بھی کسی عہدہ پر بیٹھے تو اپنا نام سنہری حروف میں لکھوا جائے،ہم جانتے ہیں کہ جو تجاویز ہم چودھری محمد سرور کو دے رہے ہیں وہ ان کے کارِ منصبی میں شامل نہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک اچھا انسان جب کسی کرسی پر بیٹھتا ہے تو وہ اپنے عہدے کو انجوائے کرنے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود کےلئے سوچتا ہے اور اگر کسی پینڈو ڈیرہ دارکو کو ئی اس طرح کا عہدہ ملے تو وہ عوام کے قریب رہنے کی زیادہ کوشش کرتا ہے،یقین جانئیے کہ ہمارے ملک میں جس طرح غربت ،مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کی اکثریت کو جکڑ رکھا ہے اس ماحول میں عوام کی فلاح کے لئے کچھ بھی کرنا بہت بڑی نیکی اور صدقہ جاریہ ہے،کسی آنکھ کا آنسو پونچھ لینا،کسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دے دینا،تھوڑی سی ہمت کرکے کسی گرے پڑے کو اٹھا کر کھڑا کر دینا،کسی غریب کی بچی کو بیاہ دینا،کسی بیروزگار کو روزگار دلا دینا ،کسی بیوہ کو سلائی مشین خرید دینافرشتوں والے کام ہیں ،اگر انسان اس قابل ہو کہ کسی کے لئے کچھ کر سکے تو نہ کرنا بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے،ہم یقین رکھتے ہیں کہ چودھری محمدسرورہماری تجاویز کو نظر انداز نہیں کریں گے،وہ پیر محل اورٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت پورے پنجاب کے بے آسروں کا آسرا بنیں گے،اپنی دوستیوں ،تعلقات کو عوام کی فلاح ،رفاہ کے لئے استعمال کریں گے اور تاریخ کے ان سنہری صفحات پر اپنا نام لکھوانے کی کوشش کریں گے جنہیں رائے عامہ یا عوام کبھی نہیں بھلاتے ،سنہری حروف کی یہ کتاب لوگوں کو ورق ورق یاد ہوتی ہے اور وہ چوکوں ،چوراہوں ،تھڑوں ،بیٹھکوں،ڈیروں سمیت دیگر جگہوں پر اس کتاب کو کھول کر ان شخصیات کو یاد کرتے ہیں جو کسی کی راہ کے کانٹے چننے کے لئے ہمت ،محنت اور تگ و دو کرتی رہی ہوں۔دعا ہے کہ چودھری محمد سرور کا نام بھی ان شخصیات میں شامل ہو اور جب وہ گورنر پنجاب نہ رہیں تب عوام انہیںزیادہ یاد کریں ۔آمین۔     ٭

مزید : کالم