پنجاب کے نئے گورنر .... چودھری محمد سرور

پنجاب کے نئے گورنر .... چودھری محمد سرور

  



                                حالیہ برسوں میں پاکستان شدید مالی و اخلاقی بحران کا شکاررہاہے۔ معیشت کی صورت حال انتہائی دگرگوں اور قیادت اخلاقی قدروں سے عاری رہی ،لیکن میاں محمد نواز شریف کے وزیراعظم بنتے ہی پاکستان پر منڈلاتے مایوسی کے سائے نہ صرف ختم ہوگئے، بلکہ عوام میں یہ امید جاگ اٹھی کہ خوشحالی کاوہ دور،جس کاسلسلہ ایک دہائی سے رک گیاتھا،وہ پھرسے شروع ہوگا۔گھرکاسربراہ مضبوط اعصاب کامالک ، دانشمند اور دردِ دل رکھنے والاانسان ہو تو گھروالوں کی زندگیوں میں خوشحالی کی لہردوڑ جاتی ہے ،بلکہ اس گھرکی طرف میلی نظرسے دیکھنے کی کسی کو جرا¿ت نہیں ہوتی۔ یہ وہ خاصیت ہے جو وزیراعظم پاکستان میں کوٹ کوٹ کربھری ہے۔بین الاقوامی دباﺅ کے باوجود انہوں نے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی طرف بُری نگاہ ڈالنے والوں کے حوصلے پست کردئیے اور پوری دنیاکوپیغام دیاکہ پاکستان کے عوام اور پاکستان کے حکمران اپنی دھرتی کی حفاظت کرناجانتے ہیں۔ پاکستان کے عوام جنہیں طالع آزماﺅں نے اپنے ”جاہ و جلال“ میں دباکررکھا،لیکن جب بھی عوام کو موقع ملاانہوں نے ظلم پرستوں کواُٹھا کرباہرپھینک دیا۔ مئی 2013میں عوام نے یہی فیصلہ کیااور ایک محبِ وطن لیڈرکوپھرسے اقتدارکی مسندپر بٹھادیا۔

 وزارتِ عظمیٰ کی مسندپھولوں کی سیج نہیں ہواکرتی ،بلکہ اس مسندپربیٹھنے والے کوپتہ ہوتاہے کہ ’گھر‘کن مصیبتوں اور مشکلات میں گھراہواہے۔ملک اس وقت توانائی کے شدیدبحران کاشکارہے، لیکن جب سے اقتدارنئی لیڈرشپ کو سونپا گیا ہے ،کوئی دن ایسانہیں گزراجب اخبارمیں وزیراعظم کی توانائی بحران کوحل کرنے کے لئے انقلابی اقدامات کرنے کی خبرنہ چھپی ہو۔کہتے ہیں اگرلیڈراچھاہواور اس کی ٹیم ”ماٹھی“ ہوتووہ ٹیم لیڈرکو ہی لے ڈوبتی ہے ،مگریہاں معاملہ بہت مختلف ہے ۔جب بھی اﷲنے میاں نوازشریف کو موقع دیاانہوں نے اچھی ٹیم متعارف کرائی۔ وفاقی وزیراطلات ونشریات سینیٹرپرویزرشید، وفاقی وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار،جنابِ سرتاج عزیر،صوبائی وزیرِ قانون راناثنااﷲکے علاوہ ڈھیروں شخصیات ایسی ہیں جنہیں اپنے اپنے شعبے کاوسیع تجربہ ہے۔

 سرکاری ٹی وی سچ بولنے لگاہے، ریل کاپہیہ پھرسے چل پڑاہے، قومی خزانہ میں غریبوں کے لئے انگڑائی پیداہوئی ہے، بین الاقوامی سطح پر ہماراتشخص اُجاگرہونے لگاہے، قانون کااحترام پیداہونے لگاہے، کیاہمیں اس کے علاوہ کچھ چاہیے؟ ہاں چیزیں آہستہ آہستہ ہی ٹھیک ہوتی ہیں ،لیکن آغاز ہی انجام کاپیش خیمہ ہوتاہے۔ آغاز اچھاہے تو امید رکھنی چاہیے کہ انجام بھی اچھاہوگا۔اسی طرح پچھلے چند سالوں میں پنجاب میں ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کی رفتارکو مدِ نظررکھاجائے تو پاکستان کا مستقبل روشن نظرآتاہے۔

 بات کہاں سے چلی کہاں جانکلی۔وزیراعظم پاکستان نے اپنی ٹیم میں گورنرپنجاب کی اہم سیٹ کے لئے جس شخصیت کو متعارف کرایاہے ،وہ یقینا قابلِ تعریف قدم ہے۔ جی ہاں جنابِ چودھری محمد سرور ! چودھری صاحب میں ”چودھراہٹ “ نام کی کوئی چیزنہیں، ان کادل موم کااور وجود چٹان کا بنا ہے ، پاکستان کے سچے عاشق ہیں۔ یہ میراذاتی تجربہ ہے۔ پچھلے سال چودھری صاحب اپنی زوجہ محترمہ کے ہمراہ ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹررضوان نصیر کی خصوصی دعوت پرپاکستان تشریف لائے اور شمع چوک فیروز پور روڈ پر واقع ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں ریسکیورز سے خطاب کیا۔ریسکیورز کی جانب سے اس قدروالہانہ استقبال دیکھ کرایک پل کو محسو س ہوا کہ چودھری سرورکی ذات ایک شمع کی مانند ہے اور ریسکیورز اس شمع کے پروانے ہیں۔ ان کا کہناتھاکہ وہ عرصہ ِ دراز سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور اس عرصے میں پنجاب کے علاوہ دیگرصوبوں سے ان کے دوست آکرانہیں ملتے اور شکایت کرتے کہ ”چودھری صاحب! ریسکیو1122جیساکامیاب منصوبہ صرف پنجاب میں ہی کیوں؟تو مَیں ان سے کہتاآ پ اپنے صوبے میں مجھے ایک اور ڈاکٹررضوان نصیرلادیں، یہ سروس میں اُدھرلادوں گا“۔ شاید کم لوگوں کو یہ علم ہو کہ ریسکیو1122کے قیام میں گورنرپنجاب چودھری سرور نے کلیدی کردار اداکیاہے۔ صرف اتناہی نہیں ،بلکہ جدید فائرسروس کاقیام صرف انہی کامرہونِ منت ہے، اور ریسکیوپنجاب کے اعلیٰ افسران کی بیرونِ ملک تربیت ، ان کے رہنے سہنے کاانتظام انہوں نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔ اختلافِ رائے کاسبھی کو حق حاصل ہے ،لیکن چودھری سرور کے بارے میں صرف انہی کی رائے کواہمیت دی جانی چاہیے جوانہیں قریب سے جانتے ہیں۔ کتنی حیرانی کی بات ہے اس دور میں لوگ برطانیہ، امریکہ کے ویزوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور ایک وہ ہیں کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑکروطن واپس لوٹ آئے ۔بزرگ ٹھیک کہتے ہیں کہ ”اپناخون اپنے وطن کی مٹی کی طرح ہوتاہے ، جب اس میں گرمی پیداہوتو وہ اصل کی طرف لوٹتاہے“۔ ہمیں تنقیدکے ساتھ ساتھ پل بھرکوسوچناضرورچاہیے کہ کامیاب کاروبار، برطانیہ جیسے ملک میں قدرومنزلت چھوڑکرایک انسان اجڑے ہوئے گھرکوسدھارنے لوٹ آیاہے تو ہمیں ایک ایسے انسان کا استقبال کس انداز میں کرناچاہیے؟

گورنرپنجاب کاعہدہ علامتی عہدے کے سواکچھ نہیں ، پھروزیراعظم پاکستان کاچودھری سرورکواس عہدے کے لئے منتخب کرنا چہ معنی؟ دراصل وزیراعظم پاکستان کو اس بات کااحساس ہے کہ چودھری سرور ہی وہ شخص ہے ،جسے پاکستان اور برطانیہ میں مقبولیت حاصل ہے، جن کی تعیناتی پرکسی جماعت نے اعتراض نہیں کیا،بلکہ نہ صرف تمام سیاسی جماعتوں نے انہیں دل سے خوش آمدید کہاہے، بلکہ بیرونِ ملک پاکستانیوں نے بھی اس اقدام کو سراہاہے۔ چودھری سرورصاحب یقینا برطانوی اور پاکستانی قیادت اور دونوں ملکوں کے عوام میں ایک پُل کا فریضہ سرانجام دیں گے اور پاکستان بالخصوص پنجاب میں عوامی فلاح کے منصوبوں کاآغاز ہوگا،اسی لیے بلاخوفِ تردیدیہ کہا جاسکتاہے کہ وزیراعظم پاکستان کاچودھری سرور جیسی ہمہ جہت شخصیت کو گورنرپنجاب بناناقابل ِ تعریف اقدام ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔    ٭

مزید : کالم