حضرت بلال حبشی ؓ کی اذان کا تاریخی پس منظر(1)

حضرت بلال حبشی ؓ کی اذان کا تاریخی پس منظر(1)
حضرت بلال حبشی ؓ کی اذان کا تاریخی پس منظر(1)

  



                    دُنیا کے بڑے مذاہب....یہودیت، عیسائیت، بدھ مت، ہندو مت، سکھ مت اور پارسی شمار ہوتے ہیں۔ ان تمام مذاہب کے پیروکار جب عبادت کا آغاز کرتے ہیں تو کوئی مادی چیز استعمال کر کے اپنے ہم مذہبوں کو عبادت میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں، مثلاً یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ مت اپنے کنیسوں، گِرجوں، مندروں، پڑھودوں میں سینگ اور گھنٹیاں بجاتے ہیں۔ سکھ مت کے لوگ گوردواروں میں سنکھ بجاتے اور پارسی آتش کدوں میں آگ جلاتے ہیں۔ ممکن ہے چھوٹے چھوٹے دیگر مذاہب بھی موجود ہوں، وہ بھی ڈھول یا نقارے بجا کر اپنے پیروکاروں کو عبادت گاہوں کی جانب بلاتے اور دعوتِ شرکت دیتے ہوں۔ اگر ان مذاہب کی مادی اشیاءزلزلے، طوفان کی وجہ سے گم ہو جائیں تو عبادت کیسے ادا ہوگی۔ کیا یہ اشیاءملنے تک عبادت ملتوی رہے گی؟.... ان سب میں اسلام ہی واحد دین ایسا ہے کو کسی مادی سہارے کے بغیر ”اللہ اکبر“ کے مقدس کلمے سے آغاز کے بعد ”لا الہ الا اللہ“ پر عبادت الٰہی میں شرکت کی دعوت مکمل کرنے کے اعلان پر مشتمل ہے۔

قرآن کریم میں اذان کا حوالہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات گرامی کے ساتھ مذکور ہے۔ جب انہوں نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر بیت اللہ کی تعمیر مکمل کر کے اللہ کے حضور دعا کی تھی، یا اللہ! تو ہماری اس کوشش کو شرفِ قبولیت عطا کر اور اس مقام پر ایک پُرامن سلامتی والا شہر آباد کر دے۔ اس کے باشندوں کو ہمہ قسم کے پھلوں کا رزق عطا فرما اور اس شہرِ امن کے باشندوں میں سے ہی ایک ایسا نبی و رسول مبعوث فرما دے جو ان پر تیری آیات کریمہ پڑھ کر سنائے اور ان کا تزکیہءنفس کر کے انہیں علم و حکمت کی تعلیم سے بہرہ ور کرے۔ قرآن کریم میں مذکور اس دعائے ابراہیمیؑ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو حکم دیا، اس کے الفاظ یہ ہیں:”و اذن فی الناس“.... یعنی ”لوگوں میں اذان دے دو“.... پھر دیکھو، اس مقام پر دنیا بھر کے لوگ کس طرح کشاں کشاں اور جوق در جوق آتے ہیں، چنانچہ اللہ کے اس گھر بیت اللہ شریف میں ایسے مقناطیسی جذب و کشش کی تاثیر رکھی گئی ہے کہ دنیا کے دور دراز علاقوں سے کوئی ہوائی جہاز اور جدید ترین بسوں، کاروں، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے، کوئی گھوڑوں، اونٹوں وغیرہ جاندار سواریوں پر بیٹھ کر حتیٰ کہ پیدل سفر کر کے حج اور عمرہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور حجاج و معتمرین کی تعداد اب ہر سال کروڑوں تک پہنچ رہی ہے۔

بہر نوع، یہ اس اذان کی ہمہ جہت تاثیر ہے جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تکمیل پر کی تھی۔ جب دعائے خلیلؑ اور نوید مسیحاؑ کے مطابق اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمدﷺ نے اسی بلد الامین مکہ معظمہ سے اسلام کی دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا تو کفارِ مکہ آپ کے دشمن ہوگئے، حتیٰ کہ مکہ چھوڑ کر مدینہ منورہ کی جانب ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔ مدینہ منورہ میں پہنچ کر حضور اکرم نے سب سے پہلے شہر سے باہر قبا کے مقام پر ایک مسجد تعمیر کی، تین دن بعد بستی قباءسے مدینہ شہر کی جانب سفر اختیار کیا تو راستے میں ہی جمعہ کی نماز فرض ہونے کی وحی نازل ہوگئی، جہاں پر آپ نے پہلی نماز جمعہ ادا کی۔ وہاں سے شہر مدینہ منورہ کو روانگی ہوئی تو اللہ کے حکم سے آپ کی اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان پر بیٹھ گئی۔ وہیں پر حضور اکرم نے قیام فرمایا: پھر مسجد نبوی شریف کی تعمیر کا مرحلہ مکمل ہوا تو ”باجماعت نمازوں“ کے لئے فرزندانِ اسلام کو شرکت کی دعوت کا مسئلہ درپیش ہوا۔

حضور اکرم کے صحابہ کرامؓ نے مختلف تجاویز پیش کیں۔ کسی نے کہا کہ جھنڈا گاڑ دیا جائے تاکہ لوگ دیکھ کر مسجد میں آجائیں، کسی نے کہا کہ ”بوق“ بجایا جائے، جسے ”شبور“ کہتے ہیں (سینگ بجانا) حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ یہودیوں کے لئے ہے، کسی نے کہا کہ”ناقوس“ بجایا جائے۔ آپ نے فرمایا یہ عیسائیوں کا ہے، بعض نے عرض کیا کہ آگ جلائی جائے تو حضور اکرم نے فرمایا یہ مجوسیوں کے لئے ہے، لیکن حضرت عبداللہ بن زیدؓ اور حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے خواب میں جو الفاظ سنے تھے، وہ حضور علیہ السلام کو سنائے گئے تو آپ نے پسندکرتے ہوئے حضرت بلالؓ کو ان کی اعلیٰ آواز اور خوش الحانی کی وجہ سے اذان دینے کا حکم دیاِ،چنانچہ حضرت بلالؓ مو¿ذن نبوی مقرر ہوگئے۔ بعد ازاں جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوگئے تو حضرت بلالؓ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن اُمِ مکتومؓ (ایک نابینا صحابیؓ) بھی مو¿ذن مقرر ہوئے تھے، جو صرف تہجد اور سحری کی اذان دیتے تھے۔ فجر کی اذان کے لئے حضرت بلالؓ مامور تھے۔

مو¿ذنِ رسول کے منفردانہ اعزازات

مو¿ذن اور صحابی رسول حضرت بلالؓ کے بہت سے فضائل اور اعزازت ہیں۔ ان میں سے صرف دو کا یہاں تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ حضرت بلالؓ واحد شخصیت ہیں، جنہیں8ھ میں جب مکہ معظمہ فتح ہوا تو حضرت محسن انسانیتﷺ نے مکہ میں آباد اپنے مخالفوں اور جانی دشمنوں کو معاف کر دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان میں وہ لوگ بھی موجود تھے، جنہوں نے حضرت بلال حبشیؓ کو ننگا کر کے عرب کی جُھلسا دینے والی گرم ریت پر لٹا دیا اور سینے پر بھاری پتھر رکھ کر یہ کہنے پر مجبور کیا تھا کہ وہ اللہ کا نام لینے اور کلمہءطیبہ پڑھنے سے انکار کر کے دوبارہ پھر کفر اختیار کر لیں۔ حضرت بلالؓ کے گلے میں رسّی باندھ کر کافروں نے مکہ کی گلیوں میں گھسیٹا اور جان سے مار دینے کی کوشش کی تھی۔ یہ سب اذیت ناک منظر رسول اللہﷺ کی نگاہ مبارک کے سامنے تھا۔ حضور رحمة للعالمینﷺ نے ایسے ظالم و جابر کفارِ مکہ کے سامنے حضرت بلالؓ کو بلا کر فرمایا: بلالؓ! آج تم بیت اللہ شریف کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان کہو۔

حضورمحسن انسانیتﷺ نے اس کالے کلوٹے، موٹے ہونٹوں والے بلالؓ کو جن کا دل نورِ ایمان سے روشن اور اسلام کی منور کرنوں کا مرکز بن چکا تھا، کفارِ مکہ کے سامنے بیت اللہ کی چھت پر کھڑا کر کے کائنات ِانسانی کو یہ پیغام دیا کہ اسلام رنگ و نسل کو نہیں، شمع ایمانی کو دیکھتا ہے، اگر کوئی کالے رنگ و نسل کا انسان کلمہ¿ توحید و رسالت کا اقرار کر لیتا ہے تو وہ گورے رنگ کے کافر سے ہزار درجہ بلند مقام پر فائز ہونے کے لائق ہے۔ علامہ اقبالؒ نے کیا خوب تحسین کی ہے:

چمک اُٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا

حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز میں لایا

ہوئی ہے اس سے تیرے غمکدے کی آبادی

تری غلامی پہ صدقے ہزار آزادی

دوسرا اہم واقعہ حضور ﷺ کی معراج شریف کا ہے کہ واپسی پر حضرت بلالؓؓ سے پوچھا کہ مَیں نے جنت میں تمہارے قدموں کی آہٹ سنی ہے، وہ کون سا عمل سے، جسے بلاناغہ اختیار کر کے اس درجے پر فائز ہوگئے، تو عرض کیا کہ اچھی طرح وضو کر کے دو نفلوں کی ادائیگی میرا معمول ہے۔

عہدِ رسالت کے بعد شام میں رہائش اور واپسی کا ایمان افروز منظر:

حضرت بلال حبشیؓ ، حضورمحسن انسانیتﷺ کے وصال کے بعد شام کے شہر دمشق میں منتقل ہوگئے تھے، ظاہر ہے کہ اپنے محبوب کی جدائی کا صدمہ ناقابلِ برداشت ہوگیا ہوگا اور مو¿ذنِ رسول اذان دیتے وقت جب اشہد ان محمد رسول اللہ کہتے ہوں گے تو آپ کا چہرئہ انور نگاہوں سے اوجھل دیکھ کر نامعلوم ان پر کیا گزرتی ہوگی؟.... اور ایک مرتبہ کلمہءشہادت ادا کرنے کے بعد جب آواز روضہءاطہر حجرہ عائشہ صدیقہؓ سے ٹکراتی ہوگی تو صدائے بازگشت کی سماعت کے وقت ان کے دل کی کیفیت کیسی ہوگی؟....بعض سیرت نگار لکھتے ہیں کہ حضرت بلالؓ کا یہ سفر جہاد کی نیت سے تھا۔ خواہ کچھ بھی ہو، لیکن یہ ایک صداقت معلوم ہوتی ہے کہ حضور محسن انسانیت علیہ الصلوٰة و السلام کی جدائی اور چہرئہ اقدس کو نادیدنی کا صدمہ ان کے لئے ناقابل برداشت بن چکا تھا۔ اِدھر مدینہ منورہ کے باشندے اور مسجد نبوی کے پاکباز نمازی بھی حضرت بلالؓ کی ایمان افروز اذان کو ترس گئے تھے، ہر کسی کی خواہش تھی کہ مسجد نبوی اور مدینہ منورہ کے در و دیوار جس طرح عہد نبوی میں اذانِ بلالؓ سے گونجتے تھے، پھر وہی وجد آور لمحہ لوٹ آئے اور اذانِ بلالؓ ان کے کانوں میں رس گھولے۔

اللہ کی حکمت کہ حضرت بلالؓ کو شام سے واپس لانے کی بابت امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ نے بھی ”یا سیدی بلالؓ“ کے لقب سے یاد کر کے واپسی کا پیغام بھجوایا تو اسی رات حضور خاتم المرسلینﷺ کا خواب میں شرفِ زیارت نصیب ہوا، حضور نے فرمایا:”بلالؓ! ہمارے پاس کب آو¿ گے؟ “حضرت بلال حبشیؓ نے نیند سے بیدار ہوتے ہی رختِ سفر باندھا اور سیدھے مدینہ منورہ روانہ ہوگئے۔ حسب پروگرام جب مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے تو سب سے پہلے مزارِ اقدس اور قبر مبارک کی دیوار پر پیشانی رکھ کر اس قدر روئے کہ گریہ سُن کر دوڑتے ہوئے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ آگئے، انہیں اپنے سینے سے لگا کر پیار کیا۔ انہوں نے بھی معصوم اور پیارے انداز میں فرمائش کی کہ آج صبح کی اذان آپ دیں اور حضور نانا علیہ الصلوة و السلام کے مبارک عہد کی یاد تازہ کر دی جائے۔

 چنانچہ فجر کے سہانے وقت میں مِئدنہ (مسجد نبوی کے اندر ریاض الجنہ میں واقع بلند چبوترہ) پر کھڑے ہو کر جب حضرت بلالؓ نے اپنے ایمان افروز اور وجد آفرین ”لحنِ بلالی“ میں اذان کے کلمات بلند کئے تو مدینہ منورہ میں ایک کہرام سا مچ گیا تھا۔ لوگ دھاڑیں مارتے، زارو قطار روتے ہوئے مسجد نبوی کے گرد جمع ہوگئے، کوئی مرد، بچہ اور عورت ایسی نہ تھی جس نے اذانِ بلالیؓ سن کر مسجد نبوی کا رُخ نہ کیا ہو۔ اس روز حضرت بلالؓ کی اپنی کیفیت بھی ناقابل بیان تھی۔ انہوں نے اللہ اکبر کے بعد ”اشہدان محمد رسول اللہ“ کے الفاظ ٹھہر ٹھہر کر گلو گیر لہجے میں ادا کئے تھے کہ مسجد نبوی کے اندر اور باہر سامعین نے کلمہءشہادت اس وجد و کیف کی حالت میں ادا کیا کہ پوری کائنات میں ایسا منظر کہیں نظر نواز نہیں ہوا ہوگا۔ مو¿ذن مسجد نبوی حضرت بلال حبشیؓ چند روز تک مدینہ منورہ میں ٹھہر کر دمشق (شام) واپس چلے گئے تھے اور 20 ھ میں آپ نے 63 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا ۔ دمشق (شام) کے ”باب الجابیہ“ اور ”باب الصغیر“ کے قبرستان میں آپ کا مدفن ہے، جہاں پر دیگر بہت سے صحابہ کرامؓ اور تابعینؓ کی قبریں ہیں، جن میں سے اُم المومنین حضرت اُم حبیبہؓ، ان کے بھائی حضرت امیر معاویہؓ اور کعب الاحبارؓ کی بھی قبریں ہیں:

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

(جاری ہے)  ٭

مزید : کالم