سیاست، ایجی ٹیشن، انارکی

سیاست، ایجی ٹیشن، انارکی
 سیاست، ایجی ٹیشن، انارکی

  



                    سیاست، ایجی ٹیشن اور انارکی میں چند قدموں کا ہی فاصلہ ہوتا ہے۔ پاکستان کا معاشرہ مجموعی طور پر انارکی کا شکار تو ہے ہی، لیکن جب ایجی ٹیشن کرنے والے فخریہ اپنی ضد پر قائم رہیں تو وہاں سے انارکی شروع ہوتی ہے جو کسی بھی معاشرے کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں۔ فخر الدین جی ابراہیم کے استعفیٰ پر افسوس کا اظہار کرنے یا ان کے ساتھ ہمدردی کے دو بول بولنے کے لئے سیاست داں تیار نہیں ہیں۔ یہ افسوس ناک بات ہے کہ ایوان صدارت نے بھی ان کا استعفیٰ منظور کر لیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پارلیمینٹ انہیں دعوت دیتی کہ وہ اپنے استعفیٰ کی وجوہات اور حقائق سے آگاہ کریں، لیکن پاکستان میں مٹی پاﺅ ہر دور میں کار آمد نسخہ تصور کیا گیا ہے۔الیکشن کمشنر کا عہدہ فخر الدین جی ابراہیم صاحب کے لئے اہم نہیں ہوگا، لیکن ان جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ، تجربہ کار،قابل، بے لوث شخصیت کا چیف الیکشن کمشنر ہونا پاکستان کے لئے باعث فخر تھا۔ متفقہ طور پر نامزد کئے گئے تھے۔ روز اول سے بعض عناصر نے انہیںان کی عمر کے حوالے سے معطون کیا۔ ان کا تمسخر اڑا یا گیا۔ ٹی وی کے ایسے اینکر حضرات نے بھی انہیں فخرو بھائی کہا جنہوں نے اپنی زندگی میں اتنا مطالعہ نہیںکیا ہوگا جتنا فخر الدین صاحب نے کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنرکا نام احترام سے لینے کی بجائے تمسخر کے ساتھ لینا کہاں کی تہذیب تھی۔ اداروں اور ان کے سربراہوں کی تعظیم نہیں کی جائے گی تو سارے ادارے ڈھیر ہو جائیں گے۔ کسی بھی ملک میں بعض ادارے اپنی نوعیت میں نہایت ہی قابل احترام قرار پا تے ہیں۔ ہم مسجد کے منبر پر کھڑے ہوئے مولوی صاحب سے لے کر ہر ایک پر تنقید کرنے سے نہیں چوکتے ۔ ہمیں بس اعتراض کرنے آتے ہیں وہ بھی غیر متعلقہ مواقعے اور مقامات پر۔

سابق وزیر اعظم جس طرح چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر کسی میںہمت ہے تو انہیں گرفتار کرے۔کیا یہ مہذب رویہ ہے؟

 اعتزاز احسن جیسے قانون داں نے یہ کیا بات کہی کہ وہ بہت کچھ جانتے ہیں اور پردہ اٹھا سکتے ہیں۔ صرف اعتزاز نے تنہا ہی چیف جسٹس کی بحالی تحریک کی حمایت نہیں کی تھی۔کیا انہیں علم نہیں کہ ایسے گمنام سپاہیوں کی بہت بڑی تعداد عوام ، ذرائع ابلاغ، اور ملک کے مختلف اداروں میں موجود تھی جو اس ملک میں قانون کی بالا دستی کی خاطر چیف صاحب کی بحالی کی حمایت کر رہے تھے۔ یہ تمام ملک میں قانون کی عمل داری کے طرف دار تھے۔ نا معلوم ہمارے سیاسی رہنماﺅں اور معاشرے میں، جن لوگوں کو رول ماڈل ہونا چاہئے انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ عدلیہ، پارلیمینٹ، انتظامیہ ،الیکشن کمیشن ، فوج یا دیگر اہم اداروں کی تعظیم کرنے میں دانستہ یا غیر دانستہ کوتاہی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ہمیں من حیث القوم کیا ہوگیا ہے؟ کسی حد تک ممکن ہے کہ فیصلے ان لوگوں کی توقعات کے برعکس ہوئے ہوں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اداروں کی تعظیم نہیں کی جائے گی۔ کیا لوگوں نے چیف جسٹس صاحب کی حمایت اس لئے کی تھی کہ چیف ان کے کہنے پر فیصلے کریں گے۔ اس ملک میں بہت سارے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ اگر جناب جسٹس افتخار محمد چودھری 9مارچ2007ءکو نو نہیں کہتے تو اس ملک میں آمر آج بھی دندناتا پھر رہا ہوتا۔ کیسی جمہوریت اور کیسی حکومت ہوتی۔ سیاست اور ایجی ٹیشن میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ عدالت عظمی کے محترم جج صاحبان نے درست کہا کہ عام آدمی سے بہت زیادہ توقعات نہیں کی جاتی ہیں جتنی سیاسی رہنماﺅں سے توقع کی جاتی ہے۔ این آر او کیس کے فیصلے پرپیپلز پارٹی کے حامیوں نے جس طرح چیف صاحب کے خلاف جلوس نکالے اور جس انداز میں توہین کی وہ سب کچھ توہین عدالت کے زمرے میںنہیں آتا تو کیا تھا ۔ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماﺅں نے ٹی وی چینل پربیٹھ کر عدالت عظمی کے چیف جسٹس صاحب کے لئے جو زبان استعمال کی وہ انہیں اورٹی وی کے اینکر حضرات کو زیب دیتی تھی کہ نشر کریں۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا چیف جسٹس کی تقرری سے متعلق خط گورنر مصر کے نام پڑھ لیا جائے ایسے تمام عناصر کو تو احساس ندامت کا سامنا ہوگا جو چیف جسٹس صاحب پر بے تکان تنقید کرتے نہیں تھکتے۔ اگر تمام لوگ اداروں کا تحفظ نہیں کریں گے اور تعظیم سے منکر ہو ں گے تو کوئی بھی معاشرہ کام ہی نہیں کر سکے گا، بلکہ اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ ٹی وی والوںکو بھی مواخذہ کا خوف ہونا چاہئے اور خود احتسابی کرنا چاہئے کہ وہ کہاں تک درست ہیںکہ عدلیہ کے فیصلوں پر کھلے عام تنقید کریں اور کرائیں۔ عدالت عظمی کے فیصلوں پر تنقید نہیں کی جاتی، بلکہ ایک طریقہ کار کے تحت نظر ثانی کی درخواست دائر کی جاتی ہے۔

 انتخابات میں دھاندلی الیکشن کمیشن نے نہیں کرائی، نہ ہی ریٹرنگ افسران اس کے ذمہ دار قرار دئیے جا سکتے ہیں۔ کسی ایک حلقے کے بارے میں بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہاں نتائج انجینئرڈ کئے گئے۔اگر انتخابات میں دھاندلی، بیرونی مداخلت یا بیلٹ پیپر اور بیلٹ بکس کے تقدس کی پامالی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو وہ ان پریزائیڈنگ اور پولنگ افسران پر عائد ہوتی ہے جو پولنگ اسٹیشن پر متعین تھے۔ ان پریزائیڈنگ اورپولنگ افسران کو تحفظ دینے کی ذمہ داری کس کی تھی۔ پریزائدنگ افسران اور پولنگ افسران اور اسٹاف کی کیفیات سے وہ لوگ کیا واقف ہوں گے جنہوں نے ان کی بے سرو سامانی 10 مئی کو نہیں دیکھی۔ جو لوگ10 مئی کی صبح سے انتخابی سامان لینے کے لئے 11 مئی کی صبح تک در بدر گھوم رہے ہوں ان سے توقع کی جائے کہ وہ نہایت مستعدی کے ساتھ پولنگ کرا لیں گے، دیوانوں جیسی سوچ ہوگی۔ نہ سونے کی جگہ تھی، نہ کھانے کئے لئے کچھ تھا۔ نہ پینے کے لئے پانی تھا اور سب سے بڑھ کر کوئی تحفظ دینے والا نہیں تھا۔ ہر پولس والا تو علی حسن سولنگی نہیں ہوتا کہ خاتون پولنگ افسر اور اسٹاف کو تحفظ دے اور اس کے نتیجے میںبعد میںعملا اپنے ہاتھ پاﺅں کٹوائے، چہرے پر تیزاب پھنکوائے اور اندھا اور معذور ہوکر چارپائی سے لگ کر زندگی گزار دے۔ اگر کسی کو دیکھنا ہے تو علی حسن سولنگی سے حیدرآباد آکر ملاقات کرے

اور اس سے معلوم کرے کہ حکومتی اداروں نے تمہیںتمہارے فرض کی ادائیگی کا کیا معاوضہ دیا اور کوئی ہے جو آج تمہارا پرسان حال ہو۔ اس کے باوجود ایسے درجنوں مرد اور خواتین پریزائیڈنگ اور پولنگ افسران ملیں گے جنہوں نے بے ضابطگیوں کے سامنے بند باندھے اور صاف انتخابات کرائے۔ زبان چونکہ آپ کی ہے تو جو منہ میں آئے بول دینا آپ اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ہم نے پولیس کو جا اور بے جا تنقید کر کے کس حال پر پہنچا دیا ہے۔ ہم پارلیمینٹ پر تنقید کرتے ہیں۔ ہم عدلیہ کی خامیوں کی نشان دہی کرتے نہیں تھکتے۔ خیالی دنیا میں رہنا کوئی لیاقت کی بات نہیں ہوا کرتی اور جب رہنماءخیالی دنیا میں رہتے ہوں تو قوم کا کیا حال ہوگا۔ پولنگ عملے کو جس طریقے سے خوف زدہ کیا جاتا ہے اس ماحول میں تو اگر آصف زرداری، نواز شریف، عمران خان یا الطاف حسین بھی پولنگ افسر ہوں گے تو جعلی ووٹ بھگتانے والوں سے پنجہ آزمائی کے لئے دو بار ضرور سوچیں گے۔اپنی جان ، گھر بار اور اپنے بچے ہر ایک کو پیارے ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرح بہت کم لوگ ہی جی دار ہوتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کو مطعون کرنا بے معنی بات ہے۔ دوران انتخابات اور پولنگ اسٹیشنوں پر امن و امان قائم رکھنا تو شائد الیکشن کمشنر کی ذمہ داری نہیں ہوا کرتی۔ وہ توپولیس یا پھر اگر فوج کی مدد لی جائے تو اس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

11 مئی2013ءکے انتخابات میں تو فوج گشت پر بھی نہیں تھی اسی لئے جہاں جس کا بس چلا اس نے بیلٹ پیپر اور بیلٹ بکس کے تقدس کو پامال کیا۔ جوبات میں بات نکلے گی تو دور تلک جائے۔ 11 مئی کے انتخابات میں تحفظ نہیں دیا گیا، لیکن بعد میں کراچی اور تھرپارکر کے انتخابات میں ٹینک چلائے گئے۔ عام انتخابات والے روز اگر پولنگ اسٹیشنوں کا اچانک دورہ کر لیا جاتا تو نتائج وہ نہیں ہوتے جن پر انتخابات میں حصہ لینے والے شور کر رہے تھے۔انتخابات کے نتائج کی ساکھ کے بارے میں سب نے شکایت کی، لیکن سنجیدگی سے کسی نے بھی پورے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ نہیں کیا ۔ اس لئے کہ نتائج آنے کے بعد ن لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم، سب کو اپنی اپنی پوزیشنوں کا پتہ چل گیا تو انتخابات کو کالعدم کرانے کے مطالبے کو کسی نے اہمیت نہیں دی۔فوج کے سربراہ سے معلوم کیا جائے کہ فوج نے عام انتخابات کے دوران ڈیوٹی انجام دینے سے کیوں اجتناب برتا تھا ؟اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو آج انتخابات کے نتائج پر شکوک کا اظہاربھی نہیں کیا جارہا ہوتا۔فخر الدین جی ابراہیم نے صدر پاکستان کے انتخابات میںسپریم کورٹ کے فیصلے کو الیکشن کمیشن کے دائرہ کار میں مداخلت تصور کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔ کسی نے بھی سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع نہیں کیا، بلکہ سب نے زبانی جمع خرچ کیا اور چیف الیکشن کمشنر کو مطعون کیا ۔ حکومت کو اب پورا الیکشن کمیشن تحلیل کرکے نیا کمیشن قائم کرنا چاہئے۔

خود عمران خان کے وکیل حامد خان کا جو اپنی لیاقت کے باعث رتبہ رکھتے ہیں، عدالت میں یہ کہنا کہ ان کے موکل نے تو ریٹرنگ افسران پر تنقید کی تھی، بے معنی بات ہے۔ عذر لنگ ہے۔عمران خان سے اس ملک کے کروڑوں لوگوں کو بھاری توقعات وابستہ ہیں۔ لوگ خصوصاً خواتین پولنگ اسٹیشن پر یوں ہی تو یہ نہیں معلوم کر رہی تھیں کہ اس حلقے میں ” بلا“نشان ہے؟ ( یعنی تحریک انصاف کا امیدوار ہے؟)۔ وہ ایک ایسے سیاست دان بن کر ابھرے ہیں جنہیں لوگ دل و جان سے چاہتے ہیں۔ انہیں ایجی ٹیشن سے پرہیز کرنا چاہئے۔ انہیں تو شعوری کوشش کرنا چاہئے کہ وہ اس ملک کے اسٹیٹس مین بن کرسامنے آئیں ۔ پاکستان جس گردش دوراں میں گھرا ہوا ہے اسے ایجی ٹیٹر یا سیاست دان نہیںنکال سکتے، بلکہ اسٹیٹس مین (statesman) ہی بچا سکتے ہیں۔ بات پسند آئے یا تلخ لگے، حقیقت یہی ہے کہ اداروں کی تعظیم کرنا اور کرانا ہوگی۔ اگر اس ملک کو کسی انارکی سے مزید بچانا ہے۔ یہ ملک آج جس دوراہے پر کھڑا ہے معمولی لرزش ہماری بنیادوںکو ڈھا دے گی۔ غلامی ہمارا مقدر بن جائے گی پھر ہمارے سیاسی رہنماﺅں کا کیا انجام ہوگا۔دڑنا اس وقت سے چاہئے۔   ٭

مزید : کالم