کوئلے سے بجلی.... ایک اور بحران کیلئے تیار رہیں؟

کوئلے سے بجلی.... ایک اور بحران کیلئے تیار رہیں؟
کوئلے سے بجلی.... ایک اور بحران کیلئے تیار رہیں؟

  



                        ہمارے ہاں تیل سے بجلی پیدا کرنے کا خیال ہی بجلی کے بحران کی بنیاد رکھنے کا باعث بنا۔ جب دنیا تیل سے بجلی پیدا کرنے کو پیداواری لاگت کے اعتبار سے نا قابل عمل قرار دے کر دوسرے ذرائع، مثلاً کوئلے وغیرہ کی طرف راغب ہو رہی تھی تو امریکہ کے متروکہ پلانٹ ہم نے خرید لئے۔ اب جب ہم توانائی کے بحران میں ہر طرف سے گھر چکے ہیں، ہم اس کے حل کے لئے کوئلے کو نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔ تیل سے چلنے والے کئی پلانٹس کو کوئلے پر تبدیل کیا جا رہا ہے، جبکہ دنیا اب کوئلے کو متروک قرار دے رہی ہے اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے خلاف دنیا بھر میں بھرپور مہم جاری ہے۔ وقتی طور پر بجلی کے بحران سے نکلنے کے لئے تو کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا خیال شاید مفید ہو لیکن یہ کوئی پائیدار حل نہیں ہے۔

دنیا بھر میں 86 لاکھ 98 ہزار گیگاواٹ بجلی کوئلے سے پیدا کی جا رہی ہے۔ اس کل پیداوار میں چین کا حصہ 37.6 فی صد ، امریکہ 22 فیصد، بھارت 7.5 فیصد، جاپان کا حصہ 3.5 فیصد، ساو¿تھ افریقہ 2.8 فیصد، کوریا 2.5 فیصد، روس 1.9 فی صد اور پولینڈ کا حصہ 1.6 فی صد ہے۔ باقی 14.4 فی صد ساری دنیا کے مختلف ممالک کی پیداوار ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے کسی اخبار میں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ بھارت 99 فی صد بجلی کوئلے سے سے پیدا کر رہا ہے۔ بھارت میں ریاستیں 40.77 فی صد بجلی پیدا کر رہی ہیں۔ مرکزی حکومت کا حصہ اس میں صرف 29.73 فی صد ہے، جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں 29.49 فی صد بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جس میں کوئلے سے 57.42 فی صد اور گیس سے 8.92 فی صد، جبکہ تیل سے 0.56 فی صد بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ یہ 2013ءمیں جاری کئے گئے اعداد و شمار ہیں۔ کوئلے کی پیداوار کے لحاظ سے چین دنیا بھر میں سر فہرست ہے، جہاں تین ہزار پانچ سو چھہتر(3576) میٹرک ٹن دوسرے، نمبر پر امریکہ جہاں ایک ہزار چار میٹرک ٹن (1004) اور تیسرے نمبر پر بھارت ہے، جہاں پانچ سو چھیاسی (586) میٹرک ٹن ہے۔

امریکہ میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹس1920ءمیں لگائے گئے جو دس پلانٹس تھے۔ 1965ءسے 1969ءتک ان کی تعداد 158 ہوگئی تھی۔ 2005ءسے 2009ءتک یہ کم ہو کر صرف 21 رہ گئے۔ اس سال مارچ تک امریکہ میں پندرہ لاکھ سترہ ہزار دو سو تین (1517203) گیگاواٹ پاور بجلی کوئلے سے پیدا کی گئی جو امریکہ کی بجلی کی پیداوار کا 37.4 فی صد ہے۔ 1988ءمیں یہ شرح 57 فی صد تھی۔ انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق اس وقت امریکہ میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے 589 پلانٹس (یونٹ نہیں) کام کر رہے ہیں، جبکہ 2002ءمیں ان کی تعداد 633 تھی۔ امریکہ میں ای پی اے.... ENVIRONMENTAL PEOTECTION AGENCY ....بہت با اختیار ہے۔ اس کے علاوہ فضائی آلودگی کے خلاف متعدد تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ یہ سب کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے سخت خلاف ہیں۔ ان کے مطابق یہ پلانٹ دنیا بھر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیداوار کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ گلوبل وارمنگ میں ان پلانٹس کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ آلودگی کے خلاف کام کرنے والی ایجنسی ای پی اے اور دوسرے اداروں کا کہنا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ہر سال13 ہزار افراد قبل از وقت مر جاتے ہیں اور ہر سال صحت پر 100 ملین ڈالر اضافی خرچ ہوتا ہے۔

ای پی اے نے اس وقت 280 پلانٹ بند کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ ضروری تعدادسے پانچ گنا زیادہ ہے۔ گزشتہ موسم گرما میں 175 پلانٹ بند کرانے کا اندازہ تھا۔ ای پی اے کے علاوہ اسجیسے ادارے بھی اس سلسلے میں سرگرم ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ 2020ءتک 500 پلانٹ بند ہونے چاہئیں۔ نئی تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ تیزابی بارش کا سبب بھی کوئلے سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔ کئی ریاستوں میں ان پلانٹس کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس بنیادی طور پر فضائی آلودگی کے خلاف مصروفِ عمل ہیں۔ سابق صدر بل کلنٹن اور نائب صدر الگور گلوبل وارمنگ کے خلاف عالمی طور پر بہت کام کر رہے ہیں۔ صدربارک اوباما نے بھی دوسری مرتبہ منتخب ہونے کے بعد کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ بند کرانے کے لئے کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ اس لئے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے۔ جب امریکہ میں یہ پلانٹ بند ہوگئے تو امریکہ اور امریکہ کے فضائی آلودگی کے خلاف کام کرنے والے ادارے دنیا بھر میں اس مہم پر لگ جائیں گے کہ وہاں بھی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا سلسلہ بند کرایا جاسکے۔ ایک وقت آئے گا کہ بچہ مزدوری کی طرح کوئلے سے پیدا کردہ بجلی استعمال کرنے والے کارخانوں کی پیداوار کی امریکہ اور یورپ میں درآمد پر پابندی لگا دی جائے۔

کوئلے کو فوری طور پر متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن ہمیں پن بجلی، پون بجلی اور شمسی توانائی پر توجہ دینا ہوگی۔ ہمارے ہاں تھر کے کوئلے کے ذخائر سے زیرِ زمین کوئلے سے گیس ڈیزل وغیرہ بنانے سے ہی کامیابی کا امکان ہے۔ آئندہ آنے والا وقت اسی ٹیکنالوجی کا دور ہے، جسے Underground coal gasification کہا جاتا ہے۔ اس پر کام کرنے والے ممالک کی ایک باقاعدہ ایسوسی ایشن ہے، پاکستان جس کا رکن ہے۔ یو سی جی کی ریسرچ کریں تو اس سلسلے میں جن ممالک کا نام آتا ہے، ان میں ایک نام پاکستان اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا بھی ہے۔ افسوس کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو سائنس سے نابلد جاہلوں کی مخالفت کا ہی سامنا نہیں، بعض سائنس دان بھی اپنی ذاتی وجوہات اور اپنی انا کی تسکین کے لئے ان کے منصوبے کے خلاف باتیں کرتے رہتے ہیں اور غیر علمی طور پر اس پر تنقید کرتے ہیں۔

یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ جس ملک میں کرائے کے بجلی گھر حاصل کرنے کے لئے اربوں روپے کے سودے چُٹکی بجاتے ہو جاتے ہیں اور جہاں کسی کرائے کے بجلی گھر کو ایک یونٹ بجلی بنائے بغیر اربوں روپے پیشگی ادا کر دئیے جاتے ہیں، وہاں قوم کا مستقبل سنوارنے کی اہلیت رکھنے والا تھرکول پراجیکٹ فنڈز کے لئے منتیں کرتا رہتا ہے۔ اس کے لئے فنڈز جاری کرنے پر اعتراضات لگتے ہیں اور فنڈز کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے اور جب ثمر مبارک مند کہتے ہیں کہ گیس تو ہم نے نکال لی ہے، اس سے بجلی بنانے کے لئے جنریٹرز کی ضرورت ہے تو ایک بہت بڑے سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ کوئی بڑی بات ہے، جنریٹر تو کراچی کی شیر شاہ مارکیٹ سے خرید کر موٹر سائیکل کے کیریئر پر رکھ کر تھرکول پراجیکٹ میں پہنچایا جاسکتا ہے۔ کسی قوم سے اس سے بڑھ کر سنگین اور ظالمانہ مذاق کیا ہو سکتا ہے۔

 دنیا بھر میں سب سے زیادہ کوئلہ پیدا کرنے والا ملک چین بھی اب اس نئی ٹیکنالوجی پر سب سے زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ بھارت نے 1981ءمیں روس کے ساتھ زیر زمین کوئلے سے گیس بنانے کے معاملے میں معاہدہ کیا تھا۔ 1989میں بھارت نے ایک نیشنل کمیٹی تشکیل دی۔ امریکہ میں اب اسے بہتر متبادل کے طور پر اختیار کیا جا رہا ہے۔ جنوبی افریقہ میں زیر زمین کوئلے سے گیس کے حصول کے پلانٹس کام کر رہے ہیں۔ کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی کئی پلانٹ شروع ہو چکے ہیں، جبکہ کئی دوسروں پر کام جاری ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی ایسوسی ایشن کے اجلاس وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں، جس میں دنیا بھر سے اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے والے اور اس پر کام کرنے والے ان اجلاسوں میں شرکت کر کے ایک دوسرے سے اپنی معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ان اجلاسوں میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند بھی شرکت کرتے ہیں اورانہی کی کوششوں سے عالمی سطح پر اس سلسلے میں پاکستان کا نام بھی دیکھنے میں آتا ہے۔

ہر جگہ اور ہر ملک میں زیر زمین کوئلے کی گہرائی، اس کے اوپر پانی، مٹی اور ریت بجری وغیرہ کی پرتیں نیچے پائے جانے والے کوئلے کی کوالٹی وغیرہ مختلف ہے، اس لئے مختلف ممالک میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال میں رد و بدل کیا جاتا ہے، تاہم بنیادی اصول یہی ہے کہ جس کوئلے کو پانی، ریت، بجری وغیرہ کے نیچے واقع ہونے کی وجہ سے کھود کر نکالنا ناممکن ہے اور اس پر خرچ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہاں اس کوئلے کو ایک عمودی سورخ کے ذریعے کیمیائی محلول اور گیس داخل کر کے وہیں جلایا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک اور عمودی سوراخ سے جلنے والی گیس اور ڈیزل وغیرہ حاصل کیا جاتا ہے۔ ہمیں پانی، ایٹمی توانائی، سورج اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے اور زیر زمین کوئلے سے زیر زمین گیس بنانے پر توجہ دینا چاہئے۔ کھود کر نکالے گئے کوئلے سے بجلی مہنگی بھی پڑتی ہے اور اب اس کا دور ختم ہونے والا ہے۔ امریکہ کی طرح جب ہم سے بھی فضائی آلودگی کے نام پر گیس سے چلنے والے پلانٹس بند کرائے گئے تو ایک بار پھر ہم توانائی کے ایک اور سنگین بحران سے دوچار ہو جائیں گے۔ پانچ سال میں لوڈشیڈنگ ختم کرنا اچھی بات ہے، لیکن آئندہ سو پچاس سال کے لئے بھی سوچنا چاہئے۔      ٭

مزید : کالم