پاکستان چاہے تو ڈرون حملے روک سکتا ہے

پاکستان چاہے تو ڈرون حملے روک سکتا ہے

                    عنوان پیش نظر: میرے نزدیک حالیہ دنوں کی سب سے بڑی اور اہم ترین خبر ہے اور عنوان میں سموئے گئے الفاظ کسی پاکستانی سیاستدان، یا بے پرکی اڑانے والے تجزیہ نگار یا خود ساختہ دانشور کے نہیں، بلکہ ایک جانے پہچانے امریکی سابق نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمیٹج کے ہیں .... کتنے پتے کی بات کرتے ہیں جس کا اس سے پہلے بہتوں کو پتہ نہیں تھا۔ اندر کی بات جانتے ہیں، کیونکہ اب اقتدار سے باہر ہیں، اس لئے انہوں نے ڈپلومیسی کی زبان پر پڑا تالا توڑ کر ہمارے حکمرانوں کی بھونڈی ڈپلومیسی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ فرمایا: ”پاکستان ڈرون حملوں کو روکنا چاہے تو انہیں روک سکتا ہے“۔ یہ انکشاف موصوف نے ایک عرب ٹی وی کو انٹرویو میں کیا۔ یہ بات انٹرویو لینے والے کے لئے نئی نہیں تھی۔ نئی بات پاکستانی عوام کے لئے ہے، جن کے لئے ازراہ کرم سابق امریکی عہدیدار نے ان کی حالت زار پر اظہار ہمدردی کیا ہے۔ انہوں نے کہا جب بھی یہ حملے ہوتے ہیں، پاکستان کی حکومت ان کے خلاف آواز تو ضرور اٹھاتی ہے، لیکن آگے کچھ نہیں کرتی اور اس سے عوام کے غصے میں اضافہ ہوتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جب ڈرون حملے ہوتے ہیں۔ وہ ان کے خلاف نہیں، لیکن آپ کسی پاکستانی کو امریکہ آنے کا موقع دیں تو وہ فوراً ”راضی“ ہو جائے گا۔

راضی ہونا ایک ایسی اصطلاح ہے جو آرمیٹج نے اس مخصوص تناظر میں کی جو پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے مغرب میں عام ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی حکومت ہو یا جمہوری حکومت، جب وہ 19 کروڑ پاکستانی عوام کو دیکھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے، کیونکہ دونوں ہی طرز کی حکومتوں نے عوام کے ساتھ بُرا سلوک کیا جو بھی کہا خوب کہا، آپ کے اس بیان کی صحت کو اگر غور سے پڑھا اور پرکھا جائے تو یہ ہمدردی کم اور مذاق زیادہ نظر آتا ہے۔ یہ ہمارے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ رچرڈ آرمیٹیج کو ایک Tough ،لیکن کامیاب ڈپلومیٹ سمجھا جاتا تھا، کیونکہ وہ قوت گویائی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی زبان کا استعمال بھی بڑی مہارت سے کرتے تھے۔ وہ سرتاپا ایک سفارت کار کم اور تن ساز زیادہ لگتے تھے اور شاید ان کی انہی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں سیدھا کرنے کے لئے جو ذمہ داری انہیں سونپی گئی، وہ ایک تفصیل طلب آپ بیتی ہے۔ ایک ناقابل بیان سرگزشت ہے، بیک وقت رچرڈ اپنی چرب زبانی اور Muscles کا استعمال خوب جانتا تھا۔

ہمارے ”بہادر عوام“ کے ”بزدل حکمرانوں“ سے ہمارے قومی مفادات کے خلاف بات منوانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ امریکی کھل کر کھیلتے رہے اور ہماری سرزمین آج تک غیر ملکی سازشوں کے لئے ایک کھلا میدان بنی ہوئی ہے۔ پرویز مشرف کے سنہرے دورِ حکمرانی میں امریکیوں نے کتنے دورے کئے، جن کا شمار ممکن ہے۔ یہاں تک کہ سرخ قالین کو لپیٹا ہی نہیں جاتا تھا۔ مردِ آہن کس طرح ان سفید فاموں اور سیاہ فاموں کے آگے بھیگی بلی بن جاتا اور وہ اپنا ایجنڈا پورا کر کے ہوا کے دوش اپنی سرزمین کو لوٹ جاتے۔ سب کچھ لُٹا کر بھی وہ آمر مطلق کہتا تھا:” سب سے پہلے پاکستان“ ....ایک سیاہ فام امریکی وزیر خارجہ کولن پاول، جس نے ایک فون کال کے ذریعے ہمارے سوئے ہوئے شیر کو گہری نیند سے جگا کر کہا کہ مختصر بات کریں اور فوری جواب دیں“.... کیا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف “؟ہمارا شیر 18 کروڑ کے جیتے جاگتے انسانوں کے ”جنگل کا بادشاہ“ تھا، پتہ نہیں۔ اس سیاہ فام امریکی کو ہمارے شیر کوجگاتے ہوئے ایسے الفاظ کہنے سے ڈر کیوں نہیں لگا۔ اس کی سانس نہ اُکھڑی، اس کے رونگٹے نہ کھڑے ہوئے۔ اس پر کپکپی کیوں طاری نہ ہوئی، ہمارے حکمرانوں نے اپنی شیر دلی کا مظاہرہ کیا۔ امریکی مطالبہ نہیں، وہ تمام مطالبات بھی مان لئے جن کے مانے جانے کی انہیں بھی امید نہیں تھی اور پھر ایسا سر تسلیم خم کیا کہ پھر یہ سُر غیروں کے سامنے ”خودداری“ اور ”خودی“ کے ساتھ اٹھ نہ سکا اور نتائج پورا ملک اور قوم ایک ساتھ بھگت چکی اور بھگت رہے ہیں۔

آرمیٹج کو پاکستانی عوام کے ساتھ بے وقت ہمدردی بڑی دیر سے سُوجھی۔ پرویز مشرف تو اپنی کتاب میں لکھ گیا کہ آرمیٹج نے دھمکی دی تھی۔ ”ہم پاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیں گے“ ۔کس نے جھوٹ بولا کس نے سچ کہا؟ راوی جانے روایت جانے، لیکن کس نے دھکیلا جس دور سے ہم گزارے جا رہے ہیں، اس کو کیا نام دیا جائے۔ ایک سیاہ فام خاتون جو ڈاکٹر کونڈا لیزا رائس کے نام سے معروف ہیں۔ امپورٹڈ وزیراعظم شارٹ کٹ عزیز کا اپنی کتاب میں خاص طور پر ذکر کیا، لیکن کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا ،بھیڑ کے لباس میں بھیڑئیے، امریکیوں کی وزیر خارجہ نے جو ہمارے ساتھ ہاتھ کیا۔ ہم ہاتھ ملتے رہ گئے۔ اس کونڈا لیزا رائس نے ہماری خارجہ اور داخلہ پالیسی کا ”کُونڈا“ کر دیا۔

اس نے ہمارے خطے اور دل دکھانے والے حالات پر کتاب بھی لکھ ڈالی۔ مَیں نے اس کا مطالعہ کیا، لیکن چونکہ میں اسے اس کے دور میں بغور پڑھتا رہا ہوں، لہٰذا پرویز مشرف کی کتاب اور رائس کی کتاب میں 19/20 کا فرق ہے۔ شوکت عزیز کا ایک وہ روپ ہے جو پرویز مشرف کو پسند تھا اور ایک روپ وہ ہے جس کا آئینہ اسے کونڈا نے اپنی کتاب میں ذکر کر کے دکھایا: ”معزز مہمان تو آزمائے ہوئے دشمن نما دوست تھے“....وہ اپنا کام عین اپنے ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں کر کے سرخرو ہوئے، کیونکہ ہر ملک کو اپنا اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والا اندرون ملک بھی اپنے سابقہ آمروں کی طرح ملکی مفاد سے کھل کر کھیلا ایسا کہ کارگل کی بچگانہ مہم جوئی میں اپنی جان پر تو نہ کھیلا، لیکن ان شہداءکو کن الفاظ میں یاد کریں جو پرویز مشرف سمیت بے شمار لوگوں کو یاد نہیں۔ لال مسجد میں کون مرا اور کس نے مارا، کیوں مارا یا مروایا۔ ایک معمر بلوچ سردار کو کس نے زندہ درگور کیا۔ اس کا ردعمل خون اور بغاوت، سرکشی، بدلے کی آگ کس نے بھڑکائی کہ بُجھائے نہ بُجھے۔

ان تمام فتوحات کا سہرا اپنے سر پر سجائے ایک وجدانی کیفیت میں جشن منائے جاتے تھے۔ کراچی تک سے روشن خیال لوگ اور پری چہرہ فن کاروں کو خصوصی پروازوں سے اعلیٰ ایوانوں میں لایا جاتا۔ ہمارے گرفتار و روشن خیال قائد جانِ محفل ہوا کرتے تھے۔ سرِ محفل اس مہارت سے رقص فرماتے کہ محفل میں موجود روشن خیال داد دینے کے لئے کھڑے ہو جاتے۔ کمال یہ ہے کہ اشرافیہ مشروب رقص کے باوجود چھلکتا نہیں تھا۔ سرگودھا کے آنجہانی شاعر الطاف مشہدی اور ہمارا طالب علمی کا زمانہ ان کا ایک مصرعہ راقم کو بہت پسند ہے، کیونکہ اس میں حقیقت بھی ہے اور ترنگ بھی۔ پہلے دو مصرعوں کے لئے نظام ہضم میں اتنی طاقت ہونی چاہئے کہ ”طاقت کا سر چشمہ“ قارئین ہضم کر سکیں۔ اس لئے انہیں کالم کی حد تک ترک کر رہا ہوں، لیکن یہ دل و دماغ کی سکرین پر نقش ہو کر رہ گئے ہیں۔ امریکی دانشور، وزیر خارجہ نے بُھٹو صاحب کو کہا تھا کہ ہم آپ کو عبرت ناک سزا دیں گے۔ یہ کہاں لکھا ہے، بھٹو کی کتاب درد اور نام نہاد امریکی کی کتاب پڑھیں:    

مشہدی صاحب نے برحق کہا: پتا بھی نہیں ہلتا بغیر اس کی رضا کے!         ٭

مزید : کالم