جعلی ڈگریاں: تلوار لٹک رہی ہے!

جعلی ڈگریاں: تلوار لٹک رہی ہے!

حالیہ انتخابات میں ایسے اراکین اسمبلی کافی تعداد میں منتخب ہوئے جو اس سے پہلی اسمبلی میں بھی رکن تھے۔ ان میں متعدد ایسے خواتین و حضرات ہیں جن کے خلاف جعلی ڈگریوں کے الزام میں عدالت عظمیٰ نے ہائر ایجوکیشن کمشن کو ہدایت کی تھی ان اراکین اسمبلی کی ڈگریوں کی تصدیق کے بعد رپورٹ پیش کی جائے۔

بتایا گیا ہے کہ 2008ءکی اسمبلی میں ڈیڑھ سو سے زیادہ اراکین کی ڈگریاں مشکوک تھیں ان انتخابات تک گریجوایشن والی پابندی نافذ تھی۔ 2013 کے انتخابات میں یہ شرط نہیں ہے لیکن جو ارکان 2008 میں جیت کر رکن بنے اوراب پھر جیت چکے ہیں ان کی ڈگریوں کی تصدیق لازمی قرار دی گئی ہوئی ہے کہ اگر 2008 میں ان کی ڈگری مشکوک تھی اور تصدیق پر جعلی ثابت ہوئی ہے تو وہ صادق اور امین کی صفت پر پورا نہیں اترتے یوں آئین کے آرٹیکل 62-63 کی زد میں بھی آتے ہیں اور جعل سازی کا بھی ارتکاب پایا جاتا ہے۔ جس پر مقدمہ درج کر کے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ابھی تک ایسے ارکان کے سر سے نااہلی کی تلوار نہیں ہٹی جن کی ڈگریاں 2008 والے انتخابات کے مطابق جعلی تھیں۔ ان میں سے کئی کو نااہل قرار دے دیا گیا ہے ۔          

مزید : اداریہ