ایران میں حسن روحانی کی صدارت کاآغاز

ایران میں حسن روحانی کی صدارت کاآغاز

                                    نئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ رابطے کا واحد راستہ بات چیت ہے،پابندیاں نہیں۔حلف اٹھانے کے بعد مجلس(پارلیمنٹ) سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا آئین کا محافظ رہوں گا، رسول اکرم کی تعلیمات کا پابند رہوں گا، عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہر ممکن اقدامات کروں گا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ تصادم کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ایران کو تنہائی سے باہر نکالا جائے گا، عالمی برادری سے تعلقات کو فروغ دیں گے۔ایران کو عظیم قوم بنانے کی جدوجہد کی جائے گی۔انہوں نے پاکستان کے صدر زرداری سے ملاقات کے دوران ،جنہوں نے ان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی، کہا کہ پاک ایران رابطوں کومضبوط بنانے اور خطے کی ترقی کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔دوطرفہ تعلقات اور تعاون مزید مستحکم ہوگا۔

امام خمینیؒ کی قیادت میں عدیم النظیر انقلاب برپا کرنے کے بعد ایران نے جونیا جمہوری نظام اپنایا وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مستحکم ہو رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انقلابِ ایران کے مقاصد کی تکمیل کا باعث بھی بن رہا ہے۔انقلاب کے رہنماﺅں کو اپنی جمہوری جدوجہد میں صبرآزما اور مشکل ایام سے گزرنا پڑا، جونہی پہلی انقلابی حکومت قائم ہوئی تھوڑے ہی عرصے کے بعد اس کے صدر جواد باہنر اور وزیراعظم محمد علی رجائی سمیت صفِ اول کے بڑے بڑے قائدین ایک دھماکے میں جاں بحق ہوگئے۔قیادت کے اس خلاءکو فوری طور پرنوجوان قائدین نے پُر کردیا، انقلابی حکومت کو عراق کے ساتھ تقریباً ایک عشرے تک جنگ لڑنی پڑی،جس میں بھاری جانی نقصان کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کا مالی نقصان بھی ہوا، لیکن ایرانی قیادت نے اپنے لئے جس جمہوری منزل کا تعین کیا تھا۔ اس پر اس کی نظریں جمی رہیں، عین جنگ کے دوران بھی باقاعدگی سے انتخابات ہوتے رہے اس میں ان ملکوں اور ان اذہان کے لئے سبق ہے جو ذرا ذرا سی بات پر انتخابات ملتوی کرتے رہتے ہیں اور حیلوں بہانوں سے اقتدار کو طول دینے کی سبیلیں سوچتے رہتے ہیں۔

آقای حسن روحانی ملک کے ساتویں صدر منتخب ہوئے ہیں، ایران میں صدارتی عہدے کی مدت دو ٹرم ہے۔جو شخص دو مرتبہ انتخابات لڑ کر اس عہدے پر فائز ہو جائے وہ مزید الیکشن نہیں لڑ سکتا“ یہی پابندی امریکہ جیسی سپر طاقت کے صدر پر بھی ہے۔ایران نے یہ جمہوری راستہ اپنایا ہے اور اس کے صدوراپنے اپنے وقت پر منتخب ہوتے، ملک کے لئے حسبِ استطاعت خدمات انجام دیتے اور پھر معاشرے میں عام آدمی کی حیثیت سے زندہ رہتے ہیں۔آقای حسن روحانی کے پیشرو محمود احمدی نژاد آٹھ سال تک ایران کے صدر رہے ان کا یہ دور کئی لحاظ سے متنازعہ تھا، اسی دور میں ایران کو امریکی اور عالمی پابندیوں کا سامنا رہا جو اس عرصے میں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہیں، اب بھی ایران کو پابندیوں اور عالمی تنہائی کا سامنا ہے اور نئے صدرنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کو عالمی تنہائی سے نکالیں گے، امریکہ نے اس موقع پر پیشکش کی ہے کہ ایران جوہری پروگرام پر مذاکرات کرے، تعاون کریں گے، دراصل یہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہی ہے جو دنیا کی نظر میں کھٹکتا ہے اور اسرائیل تو ایران پر حملے کی باتیں بھی کرتا رہتا ہے اس نے ماضی میں امریکہ کو اس حملے پر بہت اکسایا بھی، لیکن امریکی قیادت بہرحال اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ اپنی تمام تر محبت کے باوجود ایران کے ساتھ جنگ سے گریز کے راستے پر گامزن ہے،اسرائیل یہ بھی کہتا رہتا ہے کہ وہ تنہا بھی ایران پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہے، لیکن یہ عجیب دہرا معیار ہے کہ اسرائیل خود توغیر اعلان کردہ ایٹمی صلاحیت کا مالک ہے، ایٹمی ہتھیار بھی اس کی دسترس میں ہیں، لیکن وہ ایران کے اس حق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں، جبکہ ایران یہ سمجھتا ہے کہ پُرامن مقاصد کے لئے ایٹمی صلاحیت کا حصول اس کا حق ہے۔ایران کے رہبر آیت العظمیٰ سید علی خامنہ ای متعدد بار کہہ چکے ہیںکہ ایران وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اس ایٹمی ہتھیار کی تیاری میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، بلکہ انہوں نے ایک فتوے کے ذریعے اسے حرام قرار دے رکھا ہے۔لیکن پروپیگنڈے کے ذریعے دنیا یہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے کہ ایران بہرحال ایٹمی ہتھیار بنانے پر تیار ہے بلکہ تیاری کے قریب پہنچ چکا ہے۔ماضی میں بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرناک قرار دیا جاتا رہا ہے اور احمدی نژاد کے دور میں تو پروپیگنڈے کا طوفان اس لئے بھی اٹھایا گیا کہ وہ ایران کے ایک ایسے صدر سمجھے جاتے تھے جو اپنے ملک اور اپنے انقلاب کو بہرحال اولیت دیتے تھے اور اپنی اقدار پر کسی صورت سمجھوتے کے لئے تیار نہ تھے۔ان کے دور میں پابندیوں کی وجہ سے معیشت اگرچہ متاثر ہوئی،مہنگائی کا طوفان بھی آیا، لیکن ایران تیل کی دولت سے مالامال ہے۔پاکستان کے ساتھ گیس پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ بھی اس نے کیا ہے اور یہ گیس پائپ لائن اگلے سال کے آخر تک بچھائی جائے گی۔ایران پاکستان کو بجلی کی فروخت میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔تمام تر پابندیوں اور مہنگائی کے باوجود ایرانی قیادت دنیا کے ناروا مطالبات ماننے کے لئے تیار نہیں، تاہم وہ ہرملک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہے۔نئے ایرانی صدر حسن روحانی اسی نعرے پر منتخب ہوئے تھے اور اپنا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے اس امر کا اعادہ بھی کیا ہے کہ دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات قائم رکھے جائیں گے۔انہوں نے امریکہ کے متعلق کہا کہ وہ تصادم کے لئے بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے۔لیکن بہرحال آج کے دور میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں جسے مذاکرات کے ذریعے طے نہ کیاجا سکے، ایرانی ایٹمی صلاحیت کے معاملے پر بھی بات چیت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے، بشرطیکہ فریقین نیک نیتی سے مذاکرات کریں۔

صدر حسن روحانی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مذہبی تحریک کے سرگرم کارکن اور رہنما رہے ہیں جبکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں وہ ایران کی طرف سے مذاکرات کار بھی تھے۔ایران کی اندرونی سیاست کے حوالے سے وہ اصلاح پسند یا اعتدال پسند کہلاتے ہیں۔حسن روحانی کے انتخاب اور ان کے عہدہ صدارت سنبھالنے پر عالمی سطح پر بھی نیک جذبات کا اظہار کیا گیا۔ایران کے ہمدرد ممالک کی طرف سے تو یہ توقع بھی ظاہر کی گئی ہے کہ حسن روحانی ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی کوئی اہم کامیابی حاصل کرلیں گے۔اگرچہ ایران کے اندرونی حالات کی مناسبت سے حسن روحانی اصلاح اصلاح اور اعتدال پسند رائے دہندگان کی پسند ہیں۔تاہم ایرانی نظام کے باعث یہ بھی ظاہر ہے کہ پالیسی میں ایسی کوئی بڑی اور اہم تبدیلی ممکن نہیں جو سپریم کونسل کے طے شدہ اصولوں سے انحراف کی ہو۔یوں بھی صدر ایران حسن روحانی خود بھی دینی تحریک کا حصہ رہے ہیں، اس لئے ان سے انحراف کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔نئے ایرانی صدر نے عوام سے اقتصادی اصلاحات کا بھی وعدہ کیا اور وہ اس حوالے سے اپنا پروگرام بھی رکھتے ہیں تاہم ان کا اصل امتحان ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہے۔گفتگو کار ہونے کی وجہ سے وہ مسئلہ کے حل سے بخوبی واقف ہیں اور مغربی دنیا کے تحفظات اور تعصبات کو بھی سمجھتے اور جانتے ہیں اس لئے وہ بہترطور پر جوہری توانائی کے حوالے سے پالیسی مرتب کرسکیں گے۔وہ مصر ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام توانائی کے لئے ہے کسی کے خلاف جارحانہ عزائم کی خاطر نہیں ہے، اس لئے دنیا خصوصاً مغرب کو اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے۔

ایک ہمسایہ اور اسلامی ملک ہونے کے حوالے سے پاکستان کے عوام بھی ان کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں۔صدر ایران کی تقریب حلف برداری میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے خود شرکت کرکے پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔پاکستانی عوام ایران کی ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے مضبوط رشتے چاہتے ہیں اور ایران کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دعاگو ہیں۔

٭

مزید : اداریہ