بھارت ”متحدہ ہائے بھارت“ کی جانب گامزن

بھارت ”متحدہ ہائے بھارت“ کی جانب گامزن
بھارت ”متحدہ ہائے بھارت“ کی جانب گامزن

  



نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) برصغیر میں سب سے زیادہ ریاستوں والے ملک بھارت میں مزید 20 ریاستیں بنانے کیلئے یادداشتیں موصول ہوئی ہیں جن کی وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے۔ ان یادداشتوں کے مطابق منی پور میں نئی ریاست ککی لینڈ، تامل ناڈو میں کانگو ناڈو، کناٹکا میں ٹولو ناڈو، اترپردیش میں آوادھ پردیش، پورونچل، بندل کھنڈ اور پچی مانچل یا ہریت پردیش، اترپردیش میں علی گڑھ اور آگرہ ڈویژن پرمشتمل براج پردیش، بھارت پور، گوالیار، مدھیہ پردیش کے کچھ حصوں پر مشتمل الگ ریاست مشرقی یو پی، بہار اور چھتیس گڑھ پر مشتمل بھوج پور ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مہاراشٹرا میںودھاربا ریاست کا پرانا مطالبہ موجود ہے۔ سب سے زیادہ آواز گورکھ لینڈ بنانے کی اٹھائی گئی ہے جس میں دارجیلنگ اور مغربی بنگال کے مشرقی علاقے شامل ہیں۔ مغربی آسام میں بودو کے زیر اثر علاقے میں بودو لینڈ ریاست اور کربی قبائل میں کربی آنگلونگ ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بہار اور جھاڑکھنڈ میں میتھلی بولنے والے علاقوں پر مشتمل میتھی لانچل ریاست بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، گجرات میں سراشترا ریاست بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ آسام اور ناگالینڈ کے کچھ علاقوں پر مشتمل نئی ریاست دیماراجی یا دیما لینڈ ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کرناٹکا کی کورگ ریجن میں کورگ ریاست بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اڑیسہ، جھاڑکھنڈ اور چھتیس گڑھ کے علاقوں میں کوسال بولنے والوں پر مشتمل کوسال ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بحیرہ عرب اور مغربی انڈیا میں کونکانی بولنے والے علاقوں پر مشتمل کونکان ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کوچ بہار، جالپائی گوری اور مغربی بنگال میں کامت پور ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ میگالیہ کے گیرو ریجن میں گیرو لینڈ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مشرقی ناگالینڈ میں بھی ایک نئی ریاست کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح چین، تبت سے ملحقہ سرحدی علاقے میں لداخ ریاست کا مطالبہ بھی موجود ہے۔ بھارتی سماج وادی پارٹی کی وزیراعلیٰ مایا وتی کی سب سے بڑی آبادی والی ریاست اترپردیش کو چار حصوں میں تقسیم کر کے نئی ریاستیں بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس طرح نئی ریاستیں بننے سے بھارت مجموعی طور پر 50 ریاستوں والا ملک بن جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی