نظریہ پاکستان کے محافظ کی موت

نظریہ پاکستان کے محافظ کی موت
نظریہ پاکستان کے محافظ کی موت
کیپشن: pic

  

ہمارا ایمان ہے کہ جو بھی مخلوق پیدا ہوئی ہے، جس جاندار کو بھی زندگی سے نوازا گیا ہے اسے بالآخر اپنا کردار ادا کر کے منطقی انجام کو بھی پہنچنا ہے۔لاکھوں، کروڑوں انسان روزانہ آتے اور چلے جاتے ہیں، لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جن کا رضائے الٰہی کے مطابق چلے جانا بہت سارے صدموں کا باعث بھی ہوتا ہے اور ان کا خلاءانتہائی مشکل سے پُر ہوتا ہے، ایسی ہی ایک شخصیت انتہائی قابل احترام مجید نظامی مرحوم کی بھی ہے، جو اپنی ذات میں انجمن بھی تھے اور ان کی شخصیت بذات خود ایک ادارہ تھی۔ وہ بھی نوائے وقت تھے اور انہوں نے نوائے وقت اخبار کو بھی نوائے وقت اور عوام کی آواز بنا دیا تھا، جسے عقیدت اور احترام کے ساتھ دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔

ان کی صاحبزادی رمیزہ نظامی نے اگرچہ ”وقت“ ٹی وی کو مقبول بنا کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، لیکن اس مہربان سرپرست کی عدم موجودگی میں نئی ذمہ داریاں کسی امتحان سے کم نہیں، انہیں اپنی تمام تر توجہ اور صلاحیت کو نئے حالات میں استعمال کرنا پڑے گا، کیونکہ بدقسمتی تو یہ بھی ہے ابھی ہمارے سماج میں وہ ماحول بھی تخلیق نہیں ہوا کہ جس میں ایک عورت مکمل آزادی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکے، ایسے حالات میں پرانے دشمن بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور نئے دشمن بھی سازشوں میں مصروف ہو جاتے اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، لیکن اس کے باوجود مجھے امید ہے کہ رمیزہ مجید نظامی اپنے والد محترم کی روایات کی امین ثابت ہوں گی اور جو انہوں نے اپنے ادارے کے لئے نظریاتی اساس بنائی ہے اس کی مکمل حفاظت کریں گی۔

کیونکہ.... مجید نظامی مرحوم محض ایک فرد نہیں تھے ، وہ ایک نظریہ کے محافظ تھے اور یہ وہ امانت تھی جو انہیں تحریک پاکستان کے ایک کارکن کی حیثیت سے حاصل ہوا تھا اور اس کی انہوں نے ترقی اور ترویج کے لئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج لوگ انہیں نظریہ پاکستان کے محافظ کے طور پر جانتے اور یاد کرتے ہیں اور ان کے جانے کے بعد وہ خود سے یہ سوال کرتے بھی سنائی دیتے ہیں کہ دو قومی نظریہ کا صادق اور امین کون ہو گا؟ اور کون ہے وہ جو بانگ دہل دعویٰ بھی کرے گا اور اس پر عمل درآمد کی خود کو مثال بنا کر پیش کرے گا۔ اس تناظر میں مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں، مجھے یہ خدشہ ہے کہ ان کی موت کہیں نظریہ پاکستان کے نظریاتی محافظ کی موت نہ ثابت ہو، کیونکہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ نظریہ پاکستان سرکاری، درباری اور مفاد پرست عناصر کی تو کوئی کمی نہیں، لیکن جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے اور اپنے نظریہ سے وفاداری کا عملی ثبوت دینے والا تو شائد ہی کوئی ہو۔ بس ایک امید ہے، تو ان کی نظریاتی وارث ان کی صاحبزادی سے ہی ہے ۔

مجھے ایک مدت تک نظامی صاحب مرحوم و مغفور کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے، وہ اپنے کارکنوں کے ساتھ جس محبت اور شفقت سے پیش آنے انہیں رہنمائی فراہم کرتے، ان کی غلطیوں کو نظر

انداز کر کے ان کو اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیتے، ان کا اپنے کارکنوں کے ساتھ سلوک مشفق اور مہربان جیسا ہوتا تو یہ سوچ بھی نمایاں ہوتی کہ کیا وہ وہی شخص ہے، جو ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاءالحق کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا اور ان کے ریاستی اور انتظامی جبر کا مقابلہ کیا کرتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سرکاری اشتہارات کی ترسیل کو ریاستی جبر کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، کیونکہ ابھی پرائیویٹ شعبہ اتنا مضبوط ہوا تھا اور نہ ہی مارکیٹنگ کے نئے اصولوں سے آشنا ہوا تھا۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی پاکستان میں انتہائی کم تھیں، جو مارکیٹنگ کے لئے میڈیا کو اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لئے اہم سمجھتی تھیں۔ بہرحال اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ”نوائے وقت“ نے مجید نظامی مرحوم کی سربراہی میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی، استحکام اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ قابل تحسین بھی ہے اور پاکستان کی سیاسی اور صحافتی تاریخ کا سنہری باب بھی ہے جسے آج کے اداروں اور جمہوری اداروں اور اس کے سربراہوں کے لئے بھی مشعل راہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کی صحافت بھی تبدیل ہو گئی ہے، مارکیٹ اکانومی نے اس کی ترجیحات بھی تبدیل کر دی ہیں، مگر مجید نظامی مرحوام کا بنایا ہوا ”نوائے وقت“ اپنے اصولوں کا امین ہے اور اس سے آئندہ بھی ایسی ہی توقع ہے۔ یہ چراغ اپنی روایت کے مطابق روشنی بکھیرتا اور اندھیروں کو ختم کرنے کا فرض ادا کرتا رہے گا۔ ”نوائے و قت“ کی قیادت اور کارکن مجید نظامی مرحوم کے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان پر نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کے چراغ روشن کرتے رہیں گے، تو ان کی عدم موجودگی کا احساس بھی نہیں ہو گا۔

وارث شاہ اوہ سدا ای جیوندے نیں

جنہاں کیتیاں نیک کمائیاں نیں

مزید :

کالم -