خلافتِ راشدہ کا نظام ٹیکس (2)

خلافتِ راشدہ کا نظام ٹیکس (2)
 خلافتِ راشدہ کا نظام ٹیکس (2)

  

پہلے خلیفہ راشد امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں فتوحات کے ذریعے اگرچہ وسیع رقبہ اسلامی مملکت میں شامل ہوگیا تھا، اس نسبت سے حکومت کی آمدنی اور ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوچکا تھا، اس لئے اسے منظم کرنے کی ضرورت نہایت شدّت کے ساتھ محسوس کی گئی تھی، اس کے باوجود حضرت صدیق اکبرؓ کا نظام بعینہ اورہُو بہُو وہی رہا جو حضور سرور کونین ﷺ کے زمانۂ مبارک میں موجود تھا کہ مرکز کو خِراج وغیرہ کی مدّات میں جو رقم بھی ارسال کی جاتی ،وہ تمام مسلمانوں میں برابر تقسیم ہوجاتی تھی، پھر جب خلافتِ صدیق اکبرؓ کے بعد حضرت عمر فاروقؓ نے خلافتِ راشدہ کا نظام سنبھالا تو فتوحات کی تکمیل کے بعد ایران، عراق، شام اور مصر مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگئے، آپ ہی کے عہد میں مسلمانوں کے بڑے بڑے شہر کوفہ، بصرہ اور فسطاط آباد ہوئے اور بہت سی اقوام حلقہ بگوش اسلام ہوگئیں تو ان دنوں بیت المال کے قیام کی اشد ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ بحرین سے پورے سال کا خراج اکٹھا آگیا تھا؛ چنانچہ ولید بن ہشامؓ کی تجویز کے مطابق کہ میں نے سلاطین شام کے ہاں خزانے اور دفترکا جدا جدا نظام دیکھا ہے، حضرت فاروق اعظمؓ نے اسے مستحسن قرار دیتے ہوئے مدینہ منورہ میں سب سے پہلے بیت المال قائم کرنے کا اعلان کیا اور ایک معزّز وماہر صحابی حضرت عبداللہ بن ارقمؓ کو اس کا نگران مقرر فرمایا تھا، علاوہ از یں دوسرے صدر مقامات پر بھی بیت المال قائم کئے اور ان کے الگ نگران مقر کئے گئے تھے۔

ملکیتِ زمین کا مسئلہ:دوسرے خلیفۂ راشد حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں جب عراق اسلامی ریاست کا حصہ بن گیا تو آپ سے اس کی زمین مجاہدین میں تقسیم کی بابت مطالبہ ہوا؛ لیکن سورۃ الحشر میں نازل شدہ احکام قرآنی کے مطابق چونکہ تمام ذرائع پیداوار اللہ خالق ومالک کی ملک اور رسول خدا ﷺ کے بحیثیت متولی تقرر اور آپ ﷺ کے بعد آپ کے تابعدار اور اطاعت شعار فرزندانِ اسلام کی تولیت میں آچکے تھے؛ اس لئے حضرت فاروق اعظمؓ نے جو فیصلہ کیا وہ قاضی ابویوسفؒ کی کتاب الخراج میں اس طرح درج ہے ۔۔۔آپ نے فرمایا: ’’ میں چاہتا ہوں کہ یہ زمین مع کاشتکار حکومت کی ملک قرار دوں، اس کے کاشتکاروں پر خراج عائد کروں اور فی کس جزیہ مقرر کروں جسے وہ ادا کرتے رہیں، اس طرح جزیہ اور خراج مسلمانوں کے لئے ایک مستقل فَے یعنی آمدنی کا کام دے گا جس میں مجاہدینِ اسلام اور ملتِ اسلامیہ کی آئندہ نسلیں سب حصہ دار ہوں گی‘‘۔حضرات صحابۂ کرام نے حضرت فاروق اعظمؓ کے اس اعلان کی بیک زبان تائید کی؛ چنانچہ اس فیصلے پر اجماع امت ہوگیا اور حضرت عثمان بن حنیفؓ کو ان زمینوں کے بندوبست کے لئے مامور کیا گیا تھا۔

ملکیتِ زمین کے سلسلے میں حضور اکرمﷺ کا یہ ارشاد خصوصی طور سے قابل توجہ ہے جس میں فرمایا گیا ہے:’’ عادی الارض للّٰہ ولرسولہ ثم لکم من بعد فمن احیا ارضاً میتۃً فھی لہ ولیس لمحتجرٍ حقٌ بعد ثلاث سنین(کتاب الخراج قاضی ابویوسف)۔۔۔ ’’افتادہ زمین اللہ اور اس کے رسولؐ کی ملک ہے بعد ازاں تمہاری ہے؛ چنانچہ جو بھی مردہ اور بنجر زمین زندہ کرکے قابل کاشت بنالے ،وہ اس کی ہوگئی اور جو زمین میں کاشت چھوڑ دے تو تین سال تک بیکار رکھنے کی وجہ سے اس کا حق ملکیت ساقط ہوجائے گا‘‘۔۔۔ بہر نوع امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظمؓ کے زمانے میں عراق میں متعین حاکم حضرت عثمان بن حنیفؓ نے زمین کی پیمائش کرنے کے بعد مختلف شرحوں سے خراج یعنی محصول عائد کیا، جس کی تفاصیل قاضی امام ابویوسف نے کتاب الاموال صفحہ 25 میں اس طرح درج کی ہے: ’’گیہوں کے کھیت پر چار درہم، گنے کی کاشت پر چھ درہم، کھجور پرآٹھ درہم، جَو کے کھیت پر دو درہم اور انگوروں کے باغات پر دس درہم فی جریب۔

اس مد میں مختلف افراد پر بارہ سے اڑتالیس درہم کے حساب سے جزیہ عائد تھا، عورتیں اور بچے جزیہ ادا کرنے سے مستثنیٰ تھے،جہاں تک زمین کی دیگر پیداوار کے محاصل کا تعلق ہے کہ زکوٰۃ، عشر، مال غنیمت کے خمس، مال فَے اور صدقات وغیرہ کی تقسیم کس طریقے کے ساتھ ہو، ان کی تفاصیل کتب میں موجود ہیں، یہاں چونکہ خلفائے راشدینؓ کے نظامِ محاصل وٹیکس کا اجمالی تذکرہ اور بعض انقلابی اقدامات کی نشاندہی مقصود ہے، اس لئے دورِ خلافت راشدہ کے ایک ایسے ہی اقدام کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ حضور سید الکونینﷺ کے زمانۂ مبارک میں چونکہ جہاد میں کام آنے کے باعث گھوڑوں پر زکوٰۃ نہیں لی جاتی تھی؛ لیکن جب حضرت فاروق اعظمؓ کے دور میں گھوڑوں کی تجارت شروع ہوگئی تو آپ نے ان پر زکوٰۃ عائد کردی،صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا تھا؛ اس طرح زکوٰۃ کی مد میں نئی آمدنی کا اضافہ ہوگیا تھا۔

بعدازاں جب خلافتِ فاروق اعظمؓ کے دور میں ہی مسلمانوں کے تعلقات غیر ممالک سے بڑھے اور وہاں کے باشندے تجارت کی غرض سے قریب وبعد ممالک میںآنے جانے لگے اور ان ملکوں کے دستور کے مطابق مسلمان تاجروں سے دس فی صد کے حساب سے عشور محصول در آمد یعنی کسٹم ڈیوٹی لی جاتی تھی تو علامہ ابن خلدون کی تاریخ جلد ۱ صفحہ 395 میں لکھا ہے کہ حضرت فاروق اعظمؓ نے یہ معلومات حاصل کرکے حکم دیاکہ غیر ممالک کے تاجر اسلامی علاقے میں تجارت کی غرض سے جو مال لائیں ان سے بھی اسی شرح سے محصول لیا جائے۔ کچھ عرصے کے بعد جب آمدنی کی اس مد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا نظر آیا تو آپ نے تمام اسلامی علاقوں میں یہ حکم جاری کردیا کہ دس فی صد محصول دار الحرب کے باشندوں سے، پا نچ فی صد ذمیوں سے اور ڈھائی فی صد مسلمانوں سے لیا جائے ۔مال کی قیمت اگر دوسو درہم سے کم ہوتی تھی تو اس کا محصول معاف تھا، محصول صرف تجارتی سامان اور ان چیزوں پر لیا جاتا تھا جو ظاہر کی جائیں، کسی کے سامان کی تلاشی کی اجازت نہیں تھی۔

منقولہ وغیر منقولہ جائیدادیں:خلفائے راشدینؓ نے منقولہ اموال میں حضور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ہی عمل کیا کہ سب سے پہلے اسلامی حکومت کا حق خُمس نکلوانے کے بعد بقیہ حسبِ ضرورت مجاہدین ،یعنی فوجیوں میں تقسیم کردیا کرتے تھے ،یہ طرز عمل ان منقولہ اموال میں ہوتا تھا جو جنگ کے ذریعے حاصل ہوتے تھے؛ لیکن جو غیر منقولہ اموال صلح ومعاہدہ یا بطور ٹیکس آپ کے پاس آتے تھے ،ان میں خُمس نہیں نکالا جاتا تھا، بلکہ قرآنی احکام کے مطابق عام مسلمانوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ جہاں تک غیر منقولہ جائیداد کا تعلق ہے، اس کی بابت چونکہ قرآن کریم کے دئیے ہوئے اختیارات کے مطابق حالات ومصالح کو ملحوظ رکھا جاتا تھا، کبھی کسی جائیداد کو مستحقین میں تقسیم کردیا اور کبھی مفادِ عامہ کی خاطر حکومت کی ملک قرار دیدیا، کبھی کسی جائیداد کے بعض حصوں کو تقسیم کردیا اور بعض کو مہمانوں ، مسافروں اور بیرونی ممالک کے وفود کے اخراجات کیلئے مخصوص کردیا جاتا تھا۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -