جنسی زیادتی کے بعد سزا سے بچنے کا آسان ترین طریقہ ملائیشیاءمیں سامنے آگیا

جنسی زیادتی کے بعد سزا سے بچنے کا آسان ترین طریقہ ملائیشیاءمیں سامنے آگیا
جنسی زیادتی کے بعد سزا سے بچنے کا آسان ترین طریقہ ملائیشیاءمیں سامنے آگیا

  


کوالالمپور(مانیٹرنگ ڈیسک) ملائیشیاءمیں 14سالہ لڑکی سے زیادتی کے مجرم کی سزا ایک ایسی وجہ سے ختم کر دی گئی ہے کہ آپ دنگ رہ جائیں گے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق احمد سیوکری یوسف نامی نوجوان نے گزشتہ سال اس کم عمر لڑکی کو دو بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس پرملائیشیاءکے جزیرے بورنیو کی عدالت نے اسے قید اور کوڑوں کی سزا سنائی۔ تاہم متاثرہ لڑکی کے والدین اس مجرم سے اپنی بیٹی کی شادی پر رضامند ہو گئے جس پر اس کی سزا معاف کر دی گئی۔

6 سالہ بچی سے شادی، بوڑھے دولہے نے ایسی منطق دے دی کہ سن کر کوئی بھی چکرا جائے

جس طرح ہمارے ہاں اکثر طاقتور اور مالدار مجرم دیت کی رقم ادا کرکے سزا سے بچ جاتے ہیں جو اکثر لواحقین کو زبردستی دی جاتی ہے، اسی طرح ملائیشیاءمیں خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کے قانون میں یہ سقم موجود ہے کہ اگر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والاشخص اس سے شادی کر لے تو اس کی سزا معاف کر دی جاتی ہے اور ملائیشیاءکے لوگ بھی اپنی بیٹیوں کو عدالتوں میں خوار کرنے اور مزید تہمتیں لگنے سے بچانے کے لیے مجرم سے اس کی شادی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ملائیشیاءکے اس مجرم کو بھی قانون کے اس سقم نے سزا سے بچا لیا۔

ملائیشین اپوزیشن کی رہنماءتیو نئی چنگ نے عدالت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے اور اس قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی عدالت کے فیصلے پر سراپا احتجاج ہیں مگر ملائیشیاءمیں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی خواتین سے زیادتی کے کئی مجرم ان سے شادی کرکے سزا سے بچ چکے ہیں۔ 2013ءمیں ایک شخص نے 12سالہ لڑکی کو درندگی کا نشانہ بنایا اور بعدازاں اس سے شادی کرکے سزا معاف کروا لی تھی۔ تیونئی چنگ کا کہنا تھا کہ ”مجرم کم عمر بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ان سے شادی کرکے سزا سے بھی بچ جاتے ہیں۔ ہمیں اس قانون میں تبدیلی کرنی ہو گی تاکہ مجرم کسی بھی طرح سزا سے نہ بچ سکیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...