اس گاﺅں میں بجلی کیسے بنائی جاتی ہے؟ جان کر آپ کا بھی دل کرے گا کہ واپڈا کو خیرباد کہہ کریہی آسان اور پائیدار ترین طریقہ اپنالیں

اس گاﺅں میں بجلی کیسے بنائی جاتی ہے؟ جان کر آپ کا بھی دل کرے گا کہ واپڈا کو ...
اس گاﺅں میں بجلی کیسے بنائی جاتی ہے؟ جان کر آپ کا بھی دل کرے گا کہ واپڈا کو خیرباد کہہ کریہی آسان اور پائیدار ترین طریقہ اپنالیں

  


بنکاک (نیوز ڈیسک) توانائی کے بحران میں گھرے پاکستانیوں کو سیاسی رہنما کئی دہائیوں سے سبز باغ دکھارہے ہیں مگر مسئلہ کسی طور حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا، ایسے میں تھائی لینڈ کے دیہاتی ہمارے لئے ایک مثال ثابت ہوسکتے ہیں کہ جنہوں نے ایک انتہائی منفرد ذریعے سے توانائی پیدا کرنا شروع کی اور اب اس میں خود کفیل ہوچکے ہیں۔

عرب ملک کی یہ گلی دنیا کی سب سے خطرناک سڑک ہے جس سے کوئی شہری گزرنے کی جرأت بھی نہیں کرتا کیونکہ۔۔۔ وجہ جان کر آپ بھی کانپ جائیں گے

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ کا دور دراز دیہات پاڈینگ اس خود کفالت کی شاندار مثال ہے جہاں دیہاتیوں نے جانوروں کے گوبر سے بڑے پیمانے پر توانائی کی پیداوار شروع کردی۔ پاڈینگ کے لوگ اپنے گھروں کے باہر گوبر کی بھاری مقدار کو پلاسٹک کے جہازی سائز تھیلوں میں جمع کرلیتے ہیں۔ تھیلے میں جمع گوبر کی ڈی کمپوزیشن سے قدرتی طور پر میتھین گیس پیدا ہوتی ہے جسے توانائی کے حصول کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ گاﺅں کے ہر گھر میں توانائی کے حصول کا یہ ذریعہ استعمال ہورہا ہے جبکہ شمسی توانائی کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔

اس منفرد گاﺅں کے ہر گھر نے گوبر اور سولر پینل کے زریعے توانائی کی تمام ضروریات پوری کرلی ہیں اور گاﺅں والوں کا کہنا ہے کہ اب انہیں حکومت کے ناز اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی گیس بھی مفت ہے اور بجلی بھی مفت۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...