معدنی دولت کو معاشی ترقی کا حصہ بنانے کیلئے مفصل پالیسی پر عمل پیرا ہیں

معدنی دولت کو معاشی ترقی کا حصہ بنانے کیلئے مفصل پالیسی پر عمل پیرا ہیں

لاہور(اپنے خبر نگار سے)صوبائی وزیر معدنیات و کان کنی چوہدری شیر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب صوبہ کی معدنی دولت کو صنعتی ومعاشی ترقی کا بھر پور اور موثر حصہ بنانے کے لیے جامعہ اور مفصل پالیسی پر عمل پیر اہے ۔ نئے معدنی وسائل کی بین الاقوامی معیار کے مطابق دریافت ،سرمایہ کاری کا فروغ اور نجی شعبہ کا اشتراک حکومتی ترجیحات میں شامل ہے ۔انہوں نے یہ بات آج جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معدنیات کی کان کنی کے حوالے سے جاری اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ چوہدری شیر علی خان نے کہا کہ پہلے مرحلہ میں چنیوٹ رجوعہ میں خام لوہے، تانبے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی تلاش و تخمینہ سازی کاکام 2014ء میں چین اور جرمنی کی بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنیوں کی زیر نگرانی شروع کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ دو سال کی قلیل مد ت ا ور مسلسل محنت کے نتیجے میں فیز ون میں لوہے اور تانبے کے 150سے 200ملین ٹن تک کے ذخائر کی پیمائش و تصدیق کا کام کینڈین اور چینی کمپنیوں کے معیار کے مطابق مکمل کر لیا گیا ہے ۔ امید واثق ہے کہ ملکی تاریخ میں مقامی خام لوہے سے چلنے والی پہلی سٹیل مل کے لئے سرمایہ کاروں کے کنسورشیم کا انتخاب مالی سال 2016-17میں پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا ۔ ان ذخائر کی کان کنی اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے خام لوہے سے سٹیل بنانے کے لئے پراجیکٹ کی فزیبلٹی اس وقت جرمن اور اٹالین بین الاقوامی ماہرین کی زیر نگرانی آخری مراحل میں ہے ۔

جبکہ انٹر نیشنل کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹر ز کو بین الاقوامی مسابقتی بنیادوں پر شارٹ لسٹ بھی کیا جا چکا ہے ۔ چوہدری شیر علی خان نے کہا کہ نئی معدنیات کی تلاش ، ماڈل مائنز ، مائنز ورکرز کی حفاظت ،صحت ،تعلیم ،فلاح وبہبود، ہسپتالوں کے قیام اور جدید آلات و مشینری کی فراہمی کے علاوہ رہائشی سہولیات کے لئے اس مالی سال میں 3ارب 53کروڑ روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے ۔

مزید : کامرس


loading...