سرجری میں ہونے والی ترقی میں انیستھیزیا کی ترقی کا بڑا کردار ہے

سرجری میں ہونے والی ترقی میں انیستھیزیا کی ترقی کا بڑا کردار ہے

لاہور(پ ر)ڈاکٹر احسن وقار خان کنسلٹنٹ انستھیزیولوجسٹ، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر نے اپنے شعبہ کے حوالے سے میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے تیس سالوں میں سرجری میں ہونے والی ترقی میں انیستھیزیا کی ترقی کا بڑا کردار ہے۔ ماڈرن انیستھیزیا کا ماڈل مریض کے بچاؤ اور حفاظت پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی سرجری، چاہے وہ معمولی ہو یا میجر، کیلئے ماہر انستھیزیا کی ضرورت ہوتی ہے۔ماڈرن ہسپتال میں انیستھیزیولوجسٹ بہت سے کام سر انجام دیتا ہے جیسا کہ ایمرجنسی میں جان بچانے والے اقدامات، انتہائی نگہداشت وارڈ (ICU) میں مریضوں کی دیکھ بھال کی مکمل ذمہ داری ، آپریشن تھیٹر میں سرجری کیلئے خدمات کے علاوہ مصنوعی تنفس دینا، سینٹرل لائن ڈالنا اور نکالنا وغیرہ۔ڈاکٹر احسن نے بتایا کہ دنیا بھر میں انستھیزیا کے شعبہ کو بہت اہمیت حامل ہے، کیونکہ سرجری کا مکمل انحصار انستھیٹسٹ پر ہوتا ہے۔ کسی بھی سرجیکل پروسیجر میں جانے سے پہلے اور بعدمیں انیستھیٹسٹ کی مشاورت بہت ضروری ہوتی ہے۔ سرجری کے دوران انستھیٹسٹ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مریض کی زندگی کو خطرہ کم سے کم ہو، اس کی زندگی محفوظ رہے، درد کا احساس نہ ہو جبکہ آپریشن کے بعد مریض کی فزیالوجی نارمل رہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انستھیٹسٹ کا کام صرف اور صرف مریض کو بے ہوش کرنا ہے، لیکن بات اتنی سادہ نہیں ہے۔یہ کام بہت پیچیدہ ہوتا ہے۔

ماہر کا مریض کو انستھیزیا دینے سے پہلے اس کی مکمل میڈیکل ہسٹری کا جاننا اور ہونے والی سرجری سے آگاہ ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔جس کیلئے وہ پیتھالوجی لیب سے لے کر سرجری میں شامل تمام شعبہ جات سے مکمل اور صحیح معلومات لے کر اپنے پروسیجر کا فیصلہ کرتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مریض اور اس کے لواحقین کو ذہنی طور پر بھی تیار کیا جاتا ہے اور آگاہی دی جاتی ہے کہ آپریشن سے پہلے اور بعد میں وہ کیا کریں۔ اس طرح آپریشن کے دوران انستھیٹسٹ لمحہ بہ لمحہ سرجن کے ساتھ تمام صورتحال میں شریک ہوتا ہے۔ آپریشن کے بعد مریض کی جسمانی اور ذہنی حالت کو نارمل کرنا بھی انستھیٹسٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ڈاکٹر احسن نے بتایا کہ انستھیزیا کی ٹیم کی دیگر اہم ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ بچوں کے تشخیصی ٹیسٹ جیسا کہ ایم آر آئی ، نیوکلیئر میڈیسن، ریڈیالوجی، ریڈی ایشن، اینڈوسکوپی، برونکوسکوپی کرنے کیلئے بھی انستھیٹسٹ کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ ان پروسیجرز کیلئے مریض کا مکمل ساکن ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر احسن وقار نے کہا کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کا شعبہ انیستھیزیا ملک کے چند بہترین اور جدید ترین شعبوں میں سے ایک ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس شعبہ کی ترویج و ترقی کیلئے پوسٹ گریجوایٹ تعلیم و ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ آخر میں میرا عوام کیلئے یہ پیغام ہے کہ سرجن کے انتخاب کے علاوہ ایک کوالیفائیڈ ماہر انستھیٹسٹ کی خدمات لازمی حاصل کریں کیونکہ زندگی بہت اہم ہے۔

مزید : کامرس


loading...