نیشنل بینک سے انوکھا فراڈ،سپریم کورٹ نے نادہندہ کمپنی کی ڈائریکٹر اور ضامن کی جائیدا د فروخت کرنے کی اجازت دے دی

نیشنل بینک سے انوکھا فراڈ،سپریم کورٹ نے نادہندہ کمپنی کی ڈائریکٹر اور ضامن ...
نیشنل بینک سے انوکھا فراڈ،سپریم کورٹ نے نادہندہ کمپنی کی ڈائریکٹر اور ضامن کی جائیدا د فروخت کرنے کی اجازت دے دی

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کی نادہندہ کمپنی کی ضمانت دینے والی خاتون کی جائیداد نیلام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے خاتون کی درخواست خارج کردی۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار فرزانہ زریں کی طرف سے موقف اختیار کیا گیاکہ ڈبل ڈیکر بسیں چلانے والی کمپنی مونو لائٹ نے نیشنل بینک سے 8کروڑ روپے قرضہ لیا جس میںدرخواست گزار نے ضمانت دی تھی تاہم کمپنی قرضہ کی نادہندہ قرار دے دی گئی، کمپنی نے جائیدادبھی بینک کے پاس رہن رکھوائی تھی، بینک رہن شدہ جائیداد کو نیلام کرنے کی بجائے ضامن کی جائیداد نیلام کر رہا ہے، بینک کو کمپنی کی رہن شدہ جائیداد نیلام کرنے اور تب تک ضامن کی جائیداد کی نیلامی سے روکا جائے، نیشنل بینک کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار خاتون کا شوہر اور خود نادہندہ کمپنی کے ڈائریکٹرز میں شامل ہیں،خاتون کمپنی کے قرضے کی ضامن بھی ہے،مونولائٹ کمپنی نے زمین رہن رکھواتے وقت فراڈ کیا۔یہ کمپنی 4سال پہلے ہی یہ زمین کسی شخص کو فروخت کرچکی تھی جس کے حق میں متعلقہ عدالت ڈگری بھی جاری کرچکی ہے۔اب نیشنل بینک قانون کے مطابق ضمانت دینے والی خاتون کی جائیداد نیلام کر رہا ہے، ضامن کی جائیداد نیلام کرنے کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے بھی موجود ہیں، عدالت نے تفصیلی بحث سننے کے بعد خاتون کی درخواست مسترد کر تے ہوئے قرار دیا کہ عدالت کی رائے میں نادہندہ کمپنی اور ضامن دونوں کی جائیداد یں نیلام کرکے قوم کا پیسہ بازیاب کیا جانا چاہیے۔عدالت نے قرار دیا کہ قرضے کی ضمانت دینے کا مطلب ہی یہ ہے کہ قرض کا نادہندہ رقم واپس نہ کرسکے تو یہ رقم ضامن ادا کرے گا۔

مزید : لاہور


loading...