سیاست میں سر کھپا نا

سیاست میں سر کھپا نا
 سیاست میں سر کھپا نا

  


ترک وزیر خارجہ میلود اوغلو کی باتوں میں کتنی ان کہی کہانیاں چھپی ہیں۔تاریخ کے دبیز پردے اگر چاک ہوں تو پھر دھند کے اس پار دیکھنے سے پتہ پڑے کہ حقیقت کتنی مختلف ٹھہری۔کتنے محققین اور مدبرین راس المسئلہ کا سراغ لگانے میں ناکام رہے کہ آخر عالم اسلام ہی کیوں زلزلے کی زد میں رہا ہے؟دیکھئے ترک بغاوت کی ناکامی یا گولن نیٹ ورک کی کامیابی سے پرے بھی ہے اک دنیا آباد۔عالم اسلام میں جمہوریت اگر سازشوں کی زد میں رہی تو اس کا اساسی سبب کیا ہے؟بنے بنائے فکری چوکھٹوں اور پیمانوں سے بھی کوئی اوپر اٹھ کر دیکھے تو ۔روایتی غورو فکر کے شاکلے سے ہٹ کر بھی کوئی اندرونی معروضی تناظر کا تجزیہ کرے ناں۔

کہیں بد نصیبی جمہوریت کا پیچھا کرتی رہی اور کہیں نظریات مسلسل سیاست کے تعاقب میں رہے ۔کبھی کوئی اسلام کے نام پر حقِ حکمرانی مانگتا رہا اور کہیں خیالات پیہم نظام سے مزاحم ہو اکئے ۔جانئے یا مانئے کہ نظریات میں بلا کی طاقت اور قوت ہوتی ہے ۔فضول اور مجہول نظریات بھی اگر طاقت پا جائیں تو وہ حکومت کا تخت الٹ پھینک سکتے ہیں۔اگر تلوار پر آپ کی گرفت مضبوط اور دماغ پر ڈھیلی ہو ۔۔۔اس پر ستم کہ لاکھوں لوگ آپ کے کہنے پر کٹ مرنے کے لئے تیار ہوں تو سینے میں مسیحائی کا درد خواہ مخواہ جا گ اٹھتا ہے ۔جب چند ہستیوں کے دماغوں میںیہ سوداسمایا ہو کہ حکمرانی ہمارا آسمانی حق ہے ،اس کا شعور جمہور سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔تو ؟تو کیا؟بابا پھر آپ حکومت برطانیہ کی خدمت میں درخواست گزارنے سے بھی نہیں شرماتے کہ ۔۔۔غیر منقسم ہندوستان کے مختلف علاقوں مثلاًگجرات ،چترال ،ممبئی اور کراچی میں قابل ذکراسماعیلی آبادی کے سبب تقسیم پر ہمیں بھی ایک آزادخطہ عنایت ہو جائے ۔کہا جاتا ہے کہ پرنس آغا خان کی وہ درخواست جو انہوں نے وفاداری کے عوض برطانیہ عظمیٰ کی خدمت میں پیش کی تھی ۔۔۔بوجوہ آخر رد کر دی گئی۔پاک وہند میں ان کے سیاسی احیائے نو کی سعی تو ثمر بار نہ ہو سکی۔البتہ ترک سر زمین آج بھی ان کی ترکتازیوں کی زدمیں ہے اور دیکھنے والے دیکھا کئے کہ ہنوز دماغوں سے خوئے سلطانی نہیں گئی ۔

گولن صاحب کی شخصیت پر اسراریت کی جو نقاب پڑی ہے،ان کے فلاحی و تعلیمی منصوبوں نے ان کے گرد تقدس کا جو ہالہ سا بُن رکھا ہے ۔۔۔اسی کی بدولت سادہ لوح دانشوروں اور سطح بیں اخبار نویسوں کو ترک حکومت کے موقف پر شدید حیرانی ہوا کئے ۔ہونی چاہئے بھائی ہونی چاہئے۔اس سے بڑا تحیر اور کیا ہو جب 2008میں نظام الدین اولیاؒ کی درگاہ کی باولی سے خفیہ راستے کی دریافت ہوئی تھی۔باولی سے دریا کی جانب زیر زمین مخفی راستے کی دریافت کا معمہ توخیر سطحی دماغوں کے لئے ہنوز لاینحل ٹھہرا۔تب بھی کچھ دانشور ٹائپ مخلوق چیخ اور چلا اٹھی تھی کہ ہاں ہاں ایک صوفی قلندر کو آخر خفیہ راستے کی ضرورت کیا تھی؟یہ سوال آج بھی فیصل نہیں ہوا کہ نیچے کی سمت دریا کی جانب سے اس خفیہ راستے کا تعلق ایک سرنگ سے کیوں تھا ؟کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے معروف اخبار ’’راشٹریہ سہارا‘‘نے 2009ء میں اس پر اسرار خبر کی کچھ تفصیلات بھی شائع کی تھیں۔اس قلندر کی سکندر سے چشمک و چپقلش کو تو خیرایک طرف رکھئے ۔البتہ آغا خان فاؤنڈیشن کہ جس کے تعاو ن سے مزار کی مرمت ہوئی ۔۔۔یقیناًاسے توادراک ہو گا کہ زندگی کی چہل پہل میں بھی وہ اپنے بزرگوں کی قبروں کی دیکھ ریکھ کا روایتی فریضہ ادا کررہی ہے۔

فکر سیاست میں سر کھپا تا ہوں۔یہ الگ بات کہ ’’میں کہاں یہ وبال کہاں‘‘۔لگتے ہاتھ آج اسماعیلی دانش کی چوٹی کی کتاب بلکہ امہات کتاب کہ جس نے صدیو ں سے مسلم دماغ کو حیرت میں ڈالے رکھا ۔۔۔اس پر بھی بات ہو جائے تو اچھا۔رسائل ’’اخوان الصفاء‘‘کے مرتبین و مولفین کہ جن کی شناخت پر صدیاں بیت جانے کے بعد آج بھی پردہ پڑا ہے۔کتنا اچھا اگر کوئی بتلائے کہ آخر اس کتاب کا بنیادی مقدمہ اور موقف کیا تھا؟ان رسائل کے مخفی مصنفین نے بعض باتوں کو اس اسلوب میں ترتیب دیا کہ اللہ ری قیامت!عام ذہنی سطح کا آدمی چند لمحات کے لئے تو ایسے مبہوت اور مسخر ہو جائے کہ وہ اپنا سب کچھ لٹا بیٹھے۔

’’حروف مقطعات کامطلب کیا ہے ؟عرش کے اٹھانے والے آٹھ لوگ کون ہیں؟جہنم کے سات دروازے اوراس کے انیس فرشتوں سے کس کی طرف اشارہ مقصود ہے ؟ہاروت و ماروت کا مطلب کیا ہے ؟دجال کی ماہیئت کیا ہے‘‘؟دوسرا اقتباس دیکھئے۔’’آخر کیا وجہ ہے کہ خدانے کائنات کی تخلیق چھ دنوں میں کی؟کیا وہ ایک لمحہ میں تخلیق پر قادر نہ تھا ؟ہاتھ پاؤں میں دس دس انگلیاں کیوں ہیں؟ہرانگلی میں تین پور جبکہ انگوٹھے میں دو ہی کیوں ہیں‘‘؟

’’وہ لو گ جنہوں نے اسماعیلی دعوت کا انکار کیا تو ان کے برے اعمال صورت ظلمانیہ کی شکل میں متشکل ہوتے ہیں جو بوقت وصال اس کی وحشت کا سبب بنتے ہیں۔ان میں سے بعض ظلمانی صورتیں زمین کی طرف اترتی ہیں جہاں یہ غذا کی شکل میں متشکل ہوتی ہیں۔انہیں کھانے والے ایسی اولادوں کو جنتے ہیں جوا نبیاء ،اولیاء اور ائمہ کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں‘‘۔ آگے چل کر ایک دوسرے مقام پر لکھا گیا۔’’ظالم ومردود ستر قالب بدلتے ہوئے مختلف جانوروں،پرندوں اور ہولناک حیوانوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں یہاں تک کہ امام قائم انہیں اپنے ہاتھوں سے ذبح کر ڈالیں‘‘۔جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ :

کون پوشیدہ ہے اس پردہ زنگاری میں

بھائی ان رسائل کا بنیادی مقصود و مطلوب اپنی سیاست و قیادت پر دلیل لانا تھا اور بس ۔جانے دیجئے کتابوں اور دانشوں کو ۔چشم بینا نے دیکھا کہ صوفیائے باطن کی قوال و دھمال کے ایک شعلے نے تو علمائے ظاہر کی قیل وقال کے جلا سینکڑوں فانوس دیئے تھے ۔

مزید : کالم


loading...