غربت کی لکیر کہاں ہے؟

غربت کی لکیر کہاں ہے؟
 غربت کی لکیر کہاں ہے؟

  


غربت کی لکیر ، یہ فلاسفی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ملک میں45سے55فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے اس کے ساتھ ہی میرے جیسے لوئر مڈل کلاس کے لوگ شور مچا رہے ہیں، گزارہ نہیں ہوتا، بہت مہنگائی ہے، لیکن دیر بعد سہی مَیں نے خود جب بچوں کے ساتھ اپنے شہر سے باہر نکل کر دیکھا تو یوں محسوس ہوا کہ کسی امیر ترین مُلک میں ہوں اور جب جہلم کے کنارے ظہر کی نماز کے لئے رکے اور وہاں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں ہلکا پھلکا کھانے کی کوشش کی تو چودہ طبق روشن ہو گئے کہ خاصا مہنگا تھا(میرے لئے) صاحبزادے عاصم نے آرڈر دیا اور خود ہی ادائیگی کی۔ میرے لئے حیرت کا باعث تھا کہ جہلم شہر سے دور ہونے کے باوجود یہاں رش بہت تھا باہر گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے جگہ نہیں تھی اور اندر میز ملنا دشوار ہو رہا تھا۔ بہرحال مَیں نے تو پرہیز کی وجہ سے مچھلی پر گزارہ کر لیا البتہ بچوں نے اپنی اپنی پسند کا فاسٹ فوڈ لیا، دورانِ سفر عاصم سے بات ہوئی تو اُس نے بتایا کہ ابھی آپ کو حیرت کے اور مواقع ملیں گے۔ فی الحال تو ہم راولپنڈی گیسٹ ہاؤس میں وقت گزاریں گے۔ صبح اسلام آباد وغیرہ کی سیر کے بعد آگے چلیں گے۔

وجہ یہ تھی کہ رمضان المبارک میں اللہ نے توفیق دی تو مَیں نے معمول کے مطابق روزے رکھے، لیکن ہوا یہ کہ عیدالفطر کے بعد طبیعت خراب ہو گئی، گیسٹرو کی وجہ سے خلجان ہونے لگا، رات کو نیند بھی نہیں آتی تھی، اپنے دوست ڈاکٹر معید صاحب کی معاونت حاصل کی جن کے علاج سے دس روز میں افاقہ ہوا تاہم بے خوابی کی کیفیت موجود رہی۔ عاصم چودھری نے طبیعت بحال ہونے پر آمادہ کیا کہ پہاڑ کی سیر کر لی جائے کہ آپ کو دیر ہوئی، آمادگی کے بعد ہی ر خت سفر باندھا۔

جمعرات کی صبح اُٹھے تو عاصم کی نتھیا گلی میں بکنگ کا انتظار تھا اس لئے اسلام آباد کے لئے ذرا تاخیر سے نکلے، بچوں نے اسلام آباد کے شاپنگ مال کا رُخ کیا اور ہم نے اپنے دوست فیض احمد چودھری اور بھائی سجاد اشرف عرف چاند بھائی(سابق سفیر) کو فون کر کے ملنے کی خواہش کی اور وقت بھی مقرر کر لیا، بچے سیدھے اسلام آباد کے شاپنگ مال پہنچے گاڑی کھڑی کرنے کے لئے تہہ خانے میں جانا پڑا۔ اس شاپنگ مال کی پارکنگ کے لئے تین تہہ خانے تعمیر کئے گئے جو گاڑیوں سے بھرے پڑے تھے اوپر سڑک کے کنارے اور شاپنگ مال کے سامنے کھلی جگہ پر بھی یہی حال تھا، جب شاپنگ مال میں داخل ہوئے تو حیرت ہوئی کہ جمعرات کے باوجود بہت رش تھا، بلکہ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا، بچوں کو بھوک نے ستایا تو یہ چوتھے فلور پر آ گئے جسے فوڈ کورٹ بنایا گیا ہے۔ پورے پلازہ کی یہ فلور اِسی مقصد کے لئے تھی۔ یہاں نرخ اور بھیڑ دیکھ کر تعجب ہوا۔ دُنیا بھر کے ذائقے موجود تھے اور لوگ ٹوٹے پڑ رہے تھے، فلور پر میزیں کم پڑ گئی تھیں، لوگ کچھ پوچھے بغیر اپنی پسند کی اشیاء لے کر جگہ ڈھونڈ کر بیٹھ جاتے تھے، بچے کھیل رہے اور نوجوان بچیاں سج دھج کر آئی ہوئی تھیں، ہم نے تو صاحبزادے سے کہہ کر سبزی خوری کی اور سب وے سے برگر بنوا کر ایک گوشہ عافیت تلاش کیا جہاں میز اور کرسی مل گئی تھی، کھاتے کھاتے نظر پڑی تو شاپنگ مال کی انتظامیہ کی طرف سے ایک نوٹس بورڈ پر نظر پڑی، اس نوٹس میں اپیل کی گئی تھی کہ خریدار حضرات اشیاء خوردنی(خوراک) خریدتے وقت اتنا ہی خریدیں اور آرڈر دیں جتنا انہوں نے کھانا ہو، یوں خوراک ضائع نہیں ہو گی کہ خوراک کا ضیاع گناہ بھی ہے اور جرم بھی ہے، مجھے ذرا تجسس ہوا، دیکھا اور نظر دوڑائی تو بعض لوگ اس امر کی پرواہ کئے بغیر ڈسٹ بن کی طرف جاتے پائے جو بچا کھچا ڈالنے آ رہے تھے، ہم نے غور کیا تو ہر تیسرے فرد کی ٹرے میں چاول، نان یا فاسٹ فوڈ کے لوازمات بچے ہوئے تھے، جو ڈٹ بن میں ڈال دیئے گئے،مَیں سوچ رہا تھا کیا ہم سب بحیثیت قوم ایسی نصیحتوں کا احترام کرنے کے اہل ہیں، جواب نفی میں تھا، تاہم بعض حضرات کو عمل کرتے دیکھا تو یہ بھی یقین ہوا کہ ذرا نم ہونے والی بات بھی ہے۔ بہرحال اگر ہمارے واعظ حضرات روایتی چیزوں کو چھوڑ کرخطبات میں ایسی نصیحتیں کریں تو اثر زیادہ ہو سکتا ہے۔

بھائی سجاد اشرف اور ان کی اہلیہ سے ملاقات خوشگوار رہی، چاند بھائی سے تو ان کے تجربے کی روشنی میں مُلکی موجودہ اقتصادی حالات، ہمسایوں سے تعلقات، پاک فوج کی کارکردگی، سی پیک سے چین کے ساتھ تعلقات اور تنازعہ کشمیر پر بھی بات ہوئی اور انہوں نے بڑی مدلل گفتگو کی(اس کا ذکر پھر کریں گے) رات کو مارگلہ ہلز کا قصد کیا کہ چل کر کچھ کھا لیں گے، لیکن یہ حسرت ہی رہی کہ منال پہنچنے تک اندازہ ہو گیا کہ دال نہیں گلے گی، ایک دو کلو میٹر پہلے ہی گاڑیاں سڑک کے کنارے پارک کی ہوئی ملیں اور منال کے اندر گنجائش نہیں تھی۔ پھر ہم یہاں سے گزرتے چلے گئے اور پیرکر سوہاوہ جا کر سانس لیا، یہاں سکون اور فضا خوشگوار تھی، کچھ دیر سستاکر اسلام آباد شہر کا نظارہ لیا اور جگنو چمکتے پائے، غور کیا تو سیاحت اچھی اور فضا بہتر پائی، سستے چھٹکارا ملا، واپسی پر صاحبزادے نے پھر ایڈونچر کیا اور ہم ریسٹورنٹ کے اندر چلے گئے وہ خود دور جا کر گاڑی پارک کر کے آیا، منال ریسٹورنٹ میں حالات یہ تھے کہ کسی جگہ کوئی میز خالی نہیں تھی اور لوگ منتظر تھے، ویٹنگ لسٹ میں نام لکھا کر انتظار کر رہے تھے کہ میز خالی ہو تو ان کی باری آئے۔ ہم نے کانوں کو ہاتھ لگایا اور واپسی کا سفر شروع کیا جو آہستہ ہوا کہ گاڑیاں چلتی چلی آ رہی تھیں۔ ہم سوچ رہے تھے کہ غربت کی وہ لکیر اور غربت کہاں ہے۔ شاید وہ کہیں پیچھے رہ گئی یا پھر ہمارے شہر، قصبات اور دیہات تقسیم ہو گئے ہیں یہاں تو غربت کہیں نظر نہیں آئی۔

اگلے روز(یعنی آج) عازم نتھیا گلی ہوئے۔ اسلام آباد سے نکل کر آدھے راستے میں پہنچے تو موسم میں بہت ہی خوشگوار تبدیلی کا احساس ہوا، باڑیاں تک موسم سرد محسوس ہونے لگا ہے اور بادل سڑک کو چھو رہے ہیں، بات ختم کرنے سے پہلے بتا دیں کہ چھرہ پانی مری تک تو مجھے یہ احساس ہوا کہ مَیں بھارت میں چندی گڑھ سے شملہ کی طرف سفر کر رہا ہوں اس پہاڑی سڑک کے دونوں کناروں پر گائے ریوڑ کی صورت میں جگالی کرتی نظر آئیں ۔ (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...