میرے مرحوم والد اور مَیں

میرے مرحوم والد اور مَیں
 میرے مرحوم والد اور مَیں

  


میرے مرحوم والد سیّد شبیر حسین کا انتقال 2003ء میں ہوا ، وہ قریباً 1950ء سے 1995ء تک صحافت کے پیشے سے منسلک رہے۔ 1995ء میں وہ خرابی صحت کے باعث عملی صحافت کو ترک کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان کی صحافتی زندگی کا بیشتر حصہ راولپنڈی میں گزرا۔ راولپنڈی اس زمانے میں ایک چھوٹا سا شہر تھا اور کوئی بھی شخص پیدل ہی اس کے اہم حصوں تک پہنچ سکتا تھا۔ اس کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کے لئے سائیکل کافی تھا۔ راولپنڈی میں میرے مرحوم والد ’’شاہ جی‘‘ کے نام سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ مَیں چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور میری پیدائش جنوری 1951ء میں ہوئی۔ سب سے پہلی اولاد ہونے کی وجہ سے میرے مرحوم والد نے میری تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ میری زندگی پر اس تربیت کے بہت گہرے اور انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے اور مجھے اپنے تعلیمی کیرئیر اور پیشہ ورانہ زندگی میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جب مَیں یادداشت پر زور دیتا ہوں تو میرے ذہن کے پردے پر اپنے مرحوم والد کی یاد کے ابتدائی ترین نقوش ابھرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نقوش میرے سکول میں داخل ہونے سے پہلے کے ہیں۔ راولپنڈی پرل کانٹی نینٹل کی موجودہ جگہ کے بالکل سامنے ایک بہت بڑی کوٹھی تھی، جس کا نام غالباً ’’رضوان‘‘ تھا۔ اس کوٹھی کی حدود میں اس کے عقبی حصے میں ایک یا دو کمروں کا ایک گھر تھا، جس میں ہم رہتے تھے۔ اس گھر کے سامنے سڑک کی دوسری جانب سگنل کے فوجی میس کی عمارت کا ایک حصہ تھا اور مَیں وہاں کھڑا ہوکر کبھی کبھار وہاں سے گزرنے والی اومنی بسوں یا پھر شاذونادر نظر آنے والی کاروں کو دیکھا کرتا۔ مجھے اپنے والد کا دفتر سے دوپہر کے کھانے سے پہلے گھر آنے کا کبھی کبھار کا منظر یاد ہے۔ وہ مجھ سے بہت خوش ہوکر ملتے۔

اس زمانے میں مجھے مال روڈ پر بالکل قریب ہی واقع سر سیّد سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ مجھے سکول کا پہلا دن، بلکہ اس دن کے ایک آدھ واقعات یاد ہیں۔ اس وقت میں ابھی چار سال سے کچھ ہفتے چھوٹا تھا۔ اس وقت مجھے یاد ہے کہ ہماری استانی نے نرسری کلاس کی چٹخنی چڑھا دی تھی، کیونکہ ایک بچہ بہت زیادہ رو رہا تھا اور بھاگ کر کلاس سے باہر اپنے گھر والوں کے پاس جانے کی کوشش کرتا تھا۔ چونکہ مجھے حروفِ تہجی سکول میں داخل ہونے سے پہلے ہی گھر پر یاد کروا دئیے گئے تھے (مجھے یاد کروائے جانے کا عمل بالکل یاد نہیں) لہٰذا نرسری جماعت کی استانی نے چند ہفتوں بعد ہی مجھے کے جی ون (KG-1) میں چلے جانے کے لئے کہا، چونکہ میں ہم جماعتوں سے مانوس ہو چکا تھا، اس لئے میں نرسری کلاس چھوڑنے پر راضی نہیں تھا اور غالباً والد صاحب کی ڈانٹ کے خوف سے یہ بات میں نے گھر نہیں بتائی تھی۔ ایک روز میرے والد مجھے سائیکل پر سکول لینے آئے۔ مَیں سائیکل کے سامنے والے ڈنڈے پر بیٹھا ہی تھا کہ ایک ہم جماعت نے انتہائی معصومیت سے انہیں بتا دیا کہ ’’انکل مس اسے کے جی ون میں بھیج رہی ہیں، مگر یہ جاتا نہیں ہے‘‘۔۔۔ یہ سننا تھا کہ شاہ جی غیظ و غضب میں آگئے اور نہ صرف مجھے ڈانٹا، بلکہ شاید ایک عدد طمانچہ بھی وہیں پر رسید کیا۔ اگلے روز میں کے جی ون میں بیٹھا تھا۔ اس ہم جماعت کی معصوم شکایت اور شاہ صاحب کے ردِعمل نے میری تعلیمی زندگی کا ایک قیمتی سال بچا لیا اور مَیں نے ایک ہی برس میں دو کلاسوں کا مرحلہ طے کرلیا۔

سرسیّد سکول میں اس وقت کلاس دہم تک مخلوط تعلیم تھی ، لیکن پانچویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے لڑکوں کے لئے ساتھ ہی ’’سینئر‘‘ سکول کھل گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ شاہ صاحب مجھے سکول لینے آتے۔ شروع میں مسز شجاع ہماری پرنسپل تھیں اور ان کے شوہر شجاع صاحب کو والد صاحب جانتے تھے۔ مسز شجاع بہت حسین خاتون تھیں اور کبھی کبھی والد صاحب کا ان سے سکول کے احاطے میں مختصر بات چیت کرنا مجھے ہلکا ہلکا یاد ہے۔جب ہم پانچویں جماعت کے اختتام پر ’’سینئر سکول‘‘ منتقل ہوئے تھے تو ایک الوداعی تقریب ہوئی۔ اچھا طالبعلم ہونے کی وجہ سے الوداعی تقریر کے لئے کہا گیا تھا اور یہ تقریر مجھے والد صاحب نے لکھ دی تھی، لیکن شرمیلا ہونے کے باعث میں کلاس کے سامنے کھڑا رہا اور تقریر پڑھ نہ سکا۔ یہ تقریر ایک اور ہم جماعت نے پڑھی۔ سینئر سکول کے پرنسپل کیپٹن نیاز سکندر مرحوم تھے۔ والد صاحب یا تو ان کو پہلے سے جانتے تھے یا پھر صحافی ہونے کے باعث پرنسپل صاحب ان کو جانتے تھے۔ وہ سکول میں اکثر آتے جاتے اور میری تعلیمی کارکردگی سے آگاہ رہتے ۔ مرحوم جمیل ملک جو ایک شاعر بھی تھے، سکول کی بزمِ ادب کے انچارج تھے۔ چونکہ وہ شاہ صاحب کو جانتے تھے، وہ مجھے بزمِ ادب میں تقاریر کرواتے۔ یہ تمام تقاریر مجھے شاہ صاحب لکھ کر دیتے۔ جب مَیں تقریری مقابلے جیت کر آتا تو میں انہیں یہی کہتا کہ تقریر تو آپ نے لکھ کر دی ہے، اس میں میرا کیا کمال ہے تو وہ اکثر ہنس کر پنجابی میں کہتے: ’’پتر اے ابیاں دا مقابلہ ہوندا اے‘‘ (بیٹا یہ مقابلہ باپوں کے درمیان ہوتا ہے)۔

شاہ صاحب علامہ مشرقی کی اسلام اور قرآن کی تبیین سے بہت متاثر تھے۔ وہ مجھے اکثر بتایا کرتے تھے کہ علم اور عسکریت ہی عملی اسلام ہے۔ نیز خدا کے نزدیک صرف اعمال اہم ہیں، زبانی جمع خرچ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ علم سے ان کی مراد ہمیشہ فطرت کا علم ہوتا، لہٰذا وہ یہ کہا کرتے کہ میری اولاد سائنسدان یا فوجی بنے۔ ان کی سوچ ہی کا نتیجہ ہے کہ میں نے فزکس اور میرے چھوٹے بھائی عامر نے ایئروسپیس انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی۔ وہ کہا کرتے کہ دنیا میدانِ جنگ ہے اور میدانِ جنگ میں غالب رہنا ہی عین اسلام ہے۔ جو قوم مستقل غالب ہے، وہی خدا کے نزدیک ’’مسلمان‘‘ ہے، چاہے اس کا زبانی عقیدہ کچھ بھی ہے اور جو قوم مستقل شکست و ریخت کا شکار ہے، وہ کفر کی مرتکب ہے، چاہے وہ زبانی کلامی خود کو خدا کا پیروکار کہتی ہو۔ قوموں کے عروج و زوال سے متعلق علامہ مشرقی کی تحریر سے اقتباسات وقتاً فوقتاً پڑھ کر سنایا کرتے۔ علاوہ ازیں دیگر اہم مصنّفین (مثلاً مورخ ٹائین بی) کے اقتباسات بھی ہمیں سننے کو ملتے۔ وہ یہ بھی کہا کرتے کہ بنی نوع انسان کا متحد ہوکر کائنات کی ماہیت کی تہہ تک پہنچنا اور اس علم کے بل بوتے پر کائنات کی تسخیر ہی مقصدِ پیدائشِ کائنات ہے۔

مجھے یاد نہیں کہ مَیں کس جماعت میں تھا جب ہمیں اپنا گھر تبدیل کرنا پڑا۔ عین ممکن ہے کہ یہ پانچویں جماعت سے پہلے ہو گیا ہو۔ ہمارا نیا گھر راولپنڈی کے صدربازار کے قریب براؤن لوسٹریٹ (Brown Low Street) پر واقع تھا۔ آپ اس انگریزی نام سے دھوکا نہ کھائیں۔ یہ ریلوے لائن کے متوازی، لیکن اس سے قریباً سو گز دور دو تین سو گز طوالت کی ایک سڑک تھی، جس کا ایک سرا راولپنڈی کے معروف کلودنگ ڈپو کے سامنے تھا اور دوسرے سرے پر ایک سکول تھا جو غالباً ہندوؤں کے زمانے میں بنا تھا۔ سڑک کے دونوں سرے کھلے ہوئے تھے۔ سڑک کی ایک جانب کچھ مکانات تھے اور تانگہ سازوں کی گیراج نما دکانیں۔ دوسری جانب ایک احاطہ بنام احاطہ مٹھو خان تھا۔ احاطہ مٹھو خان میں زیادہ تر کوچوان رہتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر کے قریب ریلوے لائن کی دوسری جانب اخبار کوہستان کا دفتر تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میں شاہ صاحب نے پکٹوریل(Pictorial) نامی ایک رسالہ بھی شروع کیا تھا، جس کا دفتر گھر سے ملحقہ گیراج میں تھا۔ اکثروبیشتر نسیم حجازی (معروف ناول نگار اور ایڈیٹر کوہستان) وہاں سے گزرتے اور شاہ صاحب اور وہ آپس میں سلام دعا کرتے یا کھڑے کھڑے مختصر گفتگو ہوتی۔ ریلوے سٹیشن بھی گھر کے قریب تھا اور مجھے یاد ہے کہ کبھی کبھار شاہ صاحب وہاں ممتاز مفتی صاحب سے ملتے اور مجھے بھی کبھی کبھی ساتھ لے جاتے۔ ایک اور ہستی وانی صاحب تھے جو پونچھ ہاؤس سے ملحقہ گھر میں رہتے تھے۔ ہمارے والدین کا ان کے گھر آنا جانا تھا۔ ایک اور صحافی قیوم قریشی صاحب تھے جو غالباً تعمیر اخباریا کوہستان سے تعلق رکھتے تھے اور شاہ صاحب کے بہت دوست تھے۔ روزنامہ ’’ نوائے وقت‘‘ کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہدایت اختر سے شاہ صاحب کی گہری دوستی تھی۔ ہدایت اختر صاحب کا غالباً دل کا دورہ پڑنے سے جلد انتقال ہو گیا تھا۔

جس علاقے میں ہم رہائش پذیر تھے اس کی اکثر آبادی پڑھی لکھی نہیں تھی۔ وہاں پر دیسی شراب پینے والے بھی رہتے تھے، جواری بھی رہتے تھے، خاکروب بھی رہائش پذیر تھے اور تانگہ بان بھی۔ اس ماحول میں میرے بگڑ جانے کا بھی اندیشہ تھا، لیکن شاہ صاحب نے میری تربیت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ وہ گھر آکر مختلف اکابرین اور وزراء سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے۔ وہ نڈر اور بیباک تھے، انتہائی محنتی اور دیانتدار تھے، محب وطن تھے۔ 1958ء کے مارشل لاء میں جنرل کے ایم شیخ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمیں سادگی اختیار کرنی چاہیے ۔ شاہ صاحب نے ان سے کہا کہ "Charity begins at home" ۔ آپ اپنی بیگم سے شروع کریں،جو گزشتہ روز فن فیئر پر کسی طرح سے سادہ ملبوس میں نہیں تھیں۔ بعد میں دیگر صحافیوں نے ان سے کہا کہ تم نوکری سے نکالے جاؤ گے جس پر شاہ صاحب کا ردعمل یہی تھا کہ ’’مینوں کڈنا ایڈا سوکھا نئیں‘‘ (مجھے نکالنا اتنا آسان نہیں)۔۔۔ شاہ صاحب راولپنڈی میں مختلف دوستوں سے ملاقاتیں کرتے اور کبھی کبھار مجھے ساتھ لے جاتے۔ پنڈی کلب کرکٹ گراؤنڈ کے پاس ISPR (انٹرسروسز پبلک ریلیشنز) کا دفتر تھا، جہاں وہ کبھی کبھار ضمیر جعفری اور دیگر دوستوں سے ملتے۔ وہاں ان کے ایک دوست کیپٹن تفضل صدیقی بھی تھے، جو بعد میں بریگیڈیر ہوگئے اور ضیاء الحق کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔ راولپنڈی میں بلیو لیگون (Blue Lagoon) سوئمنگ پول فوجیوں اور ان کے بچوں کے لئے تھا۔ تفضل صدیقی صاحب نے مجھے اپنا بیٹا لکھ کر مجھے وہاں کا پاس بنوا دیا اور اس طرح آٹھویں جماعت میں مَیں نے تیراکی سیکھ لی۔ شاہ صاحب اقبال کا ایک فارسی قطعہ سنایا کرتے :

تنی پیدا کن از مشتِ غباری

تنی محکم تر از سنگیں حصاری

درون او دلِ درد آشنائی

چو جوئی درکنار کوہساری

(مٹھی بھر خاک سے ایسا جسم پیدا کر جو پہاڑوں کی چٹانوں سے مضبوط ہو، جس کے اندر درد آشنا دل ہو جو پہاڑ کے کنارے پر ندی کی مانند ہو)

مَیں میٹرک میں سکول میں اوّل آیا۔ شاہ صاحب اس پر بہت خوش تھے۔ میں نے راولپنڈی کے مشہور مشنری کالج گورڈن کالج (Gordon College) میں داخلہ لیا اور پری انجینئرنگ گروپ میں شامل ہوا۔ اس وقت ہمارے وائس پرنسپل ڈاکٹر ٹیبی (Tebbe) تھے، جن کے صاحبزادے اب ایف سی کالج اور اس کی یونیورسٹی کے سربراہ ہیں۔اس وقت ہم معروف شراب ساز فیکٹری مری بروری کی کالونی میں منتقل ہو چکے تھے، جہاں میرے ماموں کو، جن کا تعلق محکمہ ایکسائز سے تھا، ایک گھر کمپنی کی طرف سے دیا گیا تھا۔ اسی زمانے میں1965ء کی جنگ ہوئی تھی اور 6 ستمبر ہی کو شاہ صاحب صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ چھمب جوڑیاں سیکٹر گئے تھے۔ وہ وہاں سے بہت مسرور لوٹے تھے اور ان کی روح اس بات پر سرشار تھی کہ پاکستانی فوج نے شاندار کارکردگی دکھا کر قوم میں اعتماد اور جذبۂ ایمانی کی نئی روح پیدا کر دی تھی۔ اس جنگ کے فوراً بعد انہوں نے اپنی پہلی کتاب ’’صراطِ مستقیم‘‘ تحریر کی۔اِس دور میں ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ تھے اور وہ جس گھر میں رہائش پذیر تھے، وہ مری بروری سے زیادہ دور نہیں تھا۔ شاہ صاحب کو تاریخ انسانی، قوموں کے عروج و زوال اور بین الاقوامی امور میں قلبی دلچسپی تھی اور چونکہ ذوالفقار علی بھٹو کی مطالعے کی عادات بہت وسیع تھیں، ان دونوں کے تعلقات میں گہرائی آ گئی۔ شاہ صاحب جلدی سونے کے عادی تھے، لیکن کئی مرتبہ اُن کے رات کو گھر واپس آنے سے پہلے یا بعد ذوالفقار علی بھٹو کا بلاوا آ جاتا۔یہ بلاوا میں نے کئی دفعہ خود ٹیلیفون پر وصول کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے پی اے یا سیکرٹری مالک صاحب تھے جو یہ پیغام دیا کرتے۔

جب ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت سے الگ کیا گیا اور انہوں نے ایوب خان کے خلاف تحریک میں شمولیت اور پھر اس کی قیادت اختیار کی تو ان کے اور شاہ صاحب کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ شاہ صاحب ہمیشہ کہتے تھے کہ ایوب خان کو نکالنے کی تحریک کے پیچھے سی آئی اے ہے، لیکن اس وقت لوگ یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھے۔ وہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ ایوب کے جانے کے نتیجے میں ملک ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے ایوب خان کے حکومت سے الگ ہوجانے کے بعد ایک معروف کتاب Lengthening Shadows (’’پھیلتے سائے‘‘) تحریر کی۔ اس کے ایک باب میں انہوں نے مختلف سیاستدانوں کے سیاسی خاکے بھی درج کئے۔ انہوں نے اس میں لکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو اگرچہ بہت پڑھے لکھے انسان ہیں، لیکن ان کے اندر کا جاگیردار بہت مضبوط ہے اور سوشلزم کا نعرہ انہوں نے اس لئے لگایا ہے کہ سوشلزم میں آمریت کا ایک پہلو ہے جوان کی نفسیات کے عین مطابق ہے اور برسرِ اقتدارآ کر وہ سب کو دبا دے گا۔ انہوں نے یہ بھی تحریر کیا کہ ایوب مخالف تحریک کو سی آئی اے کی حمایت حاصل تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو اس بات سے ناراض ہو گئے اور جب وہ برسرِ اقتدار آئے تو ان کی ناراضی کچھ ’’عتاب‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ 1976ء میں شاہ صاحب برطانیہ چلے گئے۔ ان کے دوست معظم علی پی پی آئی کے مالک تھے اور ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کے سبب لندن منتقل ہو گئے تھے۔ شاہ صاحب کو انہوں نے ہی وہاں بلایا تھا۔ شاہ صاحب برطانیہ میں کئی ماہ مقیم رہنے کے بعد 1977ء میں واپس آئے۔ واپسی کے کچھ ہی عرصے بعد جنرل ضِیأ الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ برطانیہ میں شاہ صاحب ایک مرتبہ مجھے ملنے کے لئے لندن سے ایڈنبرا آئے جہاں میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔

مَیں جنوری 1980ء میں پی ایچ ڈی کر کے واپس آیا تو افغانستان میں روسی فوجیں آ چکی تھیں۔ میں واپس آ کر اپنے کام میں منہمک ہو گیا اور پنجاب یونیورسٹی کی ’’سیاست‘‘ سے الگ تھلگ ہو گیا۔ شاہ صاحب مجھے کہا کرتے کہ دُنیا میں زندہ رہنے کے لئے دوستوں کا گروہ ضروری ہے، وہ جب بھی مجھے ملنے آتے تو پروفیسر محمد سلیم، جو میرے استاد بھی تھے اور جنہوں نے یونیورسٹی میں مجھے بھرتی کروانے اور ’’سیاست‘‘میں داخل کرنے میں کلیدی رول ادا کیا، کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو سے لطف اندوز ہوتے۔ علاوہ ازیں لاہور میں آکر وہ ہمیشہ مجید نظامی صاحب سے ملتے اور اکثر مجھے ساتھ لے جاتے۔

مزید : کالم


loading...