سپریم کورٹ میں مغوی بچوں کے والدین کی پولیس کیخلاف شکایات

سپریم کورٹ میں مغوی بچوں کے والدین کی پولیس کیخلاف شکایات

سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت کے موقع پر مغوی بچوں کے والدین کی طرف سے اغوا کاروں اور پولیس کے تفتیشی اہلکاروں کی ملی بھگت کی سنگین شکایات سامنے آئی ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن نے بھی پولیس کی ناقص تفتیش کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ بچوں کے اغواء بارے مقدمات میں پولیس جان بوجھ کر درست تفتیش نہیں کر رہی۔ مغوی بچوں کے والدین نے سپریم کورٹ میں یہ شکایت بھی کی کہ پولیس کی طرف سے صحیح تفتیش نہیں کی جاتی اور دباؤ ڈال کر صلح کرانے کے بہانے وقت ضائع کر کے اغواء کاروں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ از خود نوٹس کی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں ماحول اُس وقت بہت زیادہ اُداس اور غمگین ہو گیا، جب سینئر سول جج راولا کوٹ خواجہ یوسف ہارون نے دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے اپنے آٹھ سالہ بیٹے کے اغواء کار اور پولیس کی ملی بھگت بارے بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ اغواء کار کو گرفتار کرایا گیا تو پولیس نے اُسے فرار کرا دیا۔ صوابی پہنچ کر ملزم نے مجھ سے رابطہ کر کے بھاری تاوان طلب کیا۔ سینئر سول جج نے بتایا کہ ملزم کو افغانستان جاتے ہوئے فوج نے گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا تو پولیس نے اسے بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا اور میرا بیٹا ابھی تک بازیاب نہیں ہو سکا، مجھے پولیس پر اعتماد نہیں، لہٰذا تفتیش فوج سے کروائی جائے۔

ایسی بہت سی شکایات سننے کے بعد سپریم کورٹ کے ڈویژن بنچ کے فاضل اراکین جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس خلجی عارف حسین نے گہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ کیا ریاست ان شکایات سے آگاہ نہیں۔ کیا متعلقہ ذمہ داران سوئے ہوئے ہیں۔ بچوں کو اغواء کرنے کے گینگز چند دن میں نہیں بنتے، توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بچوں کی بازیابی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی سربراہی میں چھ رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بناتے ہوئے والدین کو فوری رابطے کے لئے ہاٹ لائن نمبر کی سہولت مہیا کرنے کا حکم بھی دیا،جبکہ آئی جی پنجاب پولیس کو ہدایت کی گئی کہ اچھی شہرت کے حامل ملازمین سے تفتیش کرائی جائے۔ بلاشبہ سپریم کورٹ کی طرف سے نہایت اہم معاملے میں بہت زیادہ دلچسپی لی جا رہی ہے۔ کئی معاملات میں ضروری ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں، تاہم اغواء کاروں اور پولیس کی ملی بھگت کی شکایات نہایت سنگین معاملہ ہے۔ بعض عوامی حلقوں کی طرف سے اس رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اغوا کار بعض پولیس ملازمین کے تعاون سے وارداتیں کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی شکایات سے یہ خدشہ درست ثابت ہو رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اغواء کاروں اور پولیس کی ملی بھگت سے متعلق شکایات کے حوالے سے اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے اور جو پولیس ملازمین ملوث ثابت ہوں انہیں عبرتناک اور مثالی سزائیں دی جائیں، کیونکہ ان پولیس ملازمین کی وجہ سے ماؤں کی گود اجڑتی ہے اور لوگ اپنے جگر کے ٹکڑوں کے غم میں اذیت ناک زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...