سارک کانفرنس میں راجناتھ کا قابلِ اعتراض طرزِ عمل

سارک کانفرنس میں راجناتھ کا قابلِ اعتراض طرزِ عمل

بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سارک کانفرنس کے آخری سیشن میں شرکت کئے بغیر اپنے وطن لوٹ گئے،اس سے پہلے کانفرنس میں انہوں نے جو تقریر کی اُس میں کہا دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سارک ریجنل کنونشن پر عمل درآمد کی ضرورت ہے، دہشت گردی کے حملوں کی سخت مذمت ہی کافی نہیں ،اس ناسور کے خاتمے کے لئے پختہ عزم اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے اِس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ کوئی ریاست دہشت گردی کو سراہے نہ اس کی سرپرستی کرے، کسی ایک مُلک کا دہشت گرد یا آزادی پسند کسی دوسرے مُلک کے لئے شہید نہیں ہونا چاہئے۔ اچھے اور بُرے دہشت گردوں کے درمیان فرق کرنے کی کوششیں گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے سارک کانفرنس کے اچھے انتظامات اور بھارتی وفد کی اچھی میزبانی پر شکریہ بھی ادا کیا اور چودھری نثار علی خان کو چیئرمین منتخب ہونے پر مبارک باد بھی دی، لیکن جب چودھری نثار علی خان نے جدوجہد آزادی اور دہشت گردی میں فرق واضح کیا اور کشمیریوں پر ریاستی تشدد کو دہشت گردی قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ بھارت ڈھٹائی کے ساتھ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے تو راج ناتھ سنگھ ناراض ہو کر اجلاس سے اُٹھ کر چلے گئے، انہوں نے ظہرانے میں بھی شرکت نہ کی اور کھانا اپنے کمرے میں منگوا کر کھایا، اور وہ تھوڑا عرصہ پہلے کے خیرسگالی کے جذبات کو بھی بھول گئے۔

بھارتی وزیر داخلہ کا یوں کانفرنس چھوڑ کر چلے جانا ان کی تنگ نظری پر دلالت کرتا ہے اجلاس میں اُن کی تقریر پوری توجہ سے سُنی گئی تھی انہوں نے جو بات بھی کہنا چاہی کھل کر کہی۔ اس کے جواب میں اگر چودھری نثار علی خان نے حقائق بیان کر دیئے اور چھوٹے چھوٹے دس دس سال کے بچوں کو پیلٹ گنوں کے چھرّوں سے چھلنی کرنے کو ریاستی دہشت گردی قرار دے دیا تو یہ ان کا استحقاق تھا اور اس پر راج ناتھ کا یوں احتجاج کرنے کا کوئی حق نہیں بنتا تھا، بلکہ اُن کا فرض یہ تھا کہ وہ یہ باتیں اسی طرح تحمل سے سنتے، جس طرح چودھری نثار کی تقریر سے پہلے تمام شرکاء نے اُن کی باتیں خاموشی سے سنی تھیں۔ اگر چودھری نثار علی خان نے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا کو دہشت گردی سے تعبیر کر دیا تو اس پر احتجاج نہیں، ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے، جو کشمیری بچے اندھا دھند پیلٹ فائرنگ سے زندگی بھر کے لئے بینائی سے محروم ہو گئے ہیں یا کسی اور وجہ سے اپاہج بن کر رہ گئے ہیں اُنہیں اِس حال کو پہنچانے والوں کو آخر کِس نام سے یاد کیا جائے؟ چودھری نثار علی خان نے اگر اسے ریاستی دہشت گردی سے تعبیر کر دیا تو کیا غلط کیا؟ راجناتھ اگر غور کریں گے تو وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس طرح کا ظلم و ستم روا رکھنے کو ہی ریاستی دہشت گردی کہتے ہیں۔

کشمیر کے عوام اس وقت سخت ترین پابندیوں اور مشکل ترین حالات میں عزم و استقامت کے لئے اپنی جو جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں دُنیا کا کوئی انصاف پسند شخص اسے دہشت گردی سے تعبیر نہیں کر سکتا، جن لوگوں نے فوجیوں کے ٹینکوں پر پتھر برساتے نہتے کشمیریوں کے اِن واقعات کی ویڈیوز دیکھی ہیں وہ بھی اس نتیجے پر پہنچیں گے، جس پر چودھری نثار علی خان پہنچ چکے اور انہوں نے سارک کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران حق گوئی کا مظاہرہ کر دیا اور لگی لپٹی رکھے بغیر صاف صاف کہہ دیا کہ دہشت گردی وہ نہیں جو کشمیری کر رہے ہیں دہشت گردی وہ ہے جو ان نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج روا رکھے ہوئے ہے۔ یہ بات اگر راج ناتھ کو بُری لگی تھی تو ان کی جانب سے ردعمل کا اظہار زیادہ بہتر انداز میں بھی ہو سکتا تھا، جس طرزِ عمل کا مظاہرہ انہوں نے کیا اُسے نرم سے نرم الفاظ میں بھی نامناسب ہی کہا جائے گا۔ پاکستان کے علاوہ انہوں نے کانفرنس کے دوسرے شرکا کے جذبات کا بھی لحاظ نہیں رکھا۔

کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی اِس وقت جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس میں بھارت کے لئے یہ پیغام بھی بڑا واضح ہے کہ اب اس تحریک کو تشدد کے ذریعے دبانا ممکن نہیں رہا۔ اس کا حل یہی ہے کہ جذباتیت کو ایک جانب رکھ کر کشمیریوں کے مطالبات پر غور کیا جائے۔ نریندر مودی نے اگر طاقت کے ذریعے اس مسئلے کے حل کا آپشن چُنا ہے اور اس مقصد کے لئے راجناتھ کو ہر قسم کی دہشت گردی کی کھلی اجازت دے دی ہے تو انہوں نے درست راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ کشمیریوں کے جذبات کیا ہیں اس کا اندازہ تو اُنہیں اس وقت بھی ہو جانا چاہئے تھا جب انہوں نے ریاستی انتخابات کے بعد کشمیر میں بی جے پی کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی تھی اور اُنہیں ناکامی ہوئی تھی پھر انہوں نے ریاستی گورنر کے مشورے کے برخلاف کشمیر میں گورنر راج لگا دیا اور درپردہ اپنی کوششیں جاری رکھیں پھر بھی اُنہیں ناکامی ہوئی اور اُنہیں مفتی محمد سعید کو وزیراعلیٰ ماننا پڑا اب اُن کی بیٹی محبوبہ مفتی کی وزارت علیا بھی مجبوراً قبول کی ہوئی ہے، حالانکہ ریاستی انتخابات نہ تو رائے شماری کا بدل ہیں اور نہ ہی کشمیر کے تمام لوگ ان انتخابات میں حصہ لیتے ہیں، لیکن جو تھوڑی بہت تعداد بھی انتخاب لڑتی ہے اگر اس کے راستے میں بھی بی جے پی مشکلات کھڑی کر رہی ہے اور دوسری جانب کشمیر میں مسلم اکثریت کو بدلنے کے لئے ہندوؤں کی بستیاں بسانے کے منصوبے پر بھی عمل پیرا ہے۔ بی جے پی نے اگر یہ عزائم جاری رکھے تو اس میں اسے ناکامی ہو گی اور کشمیری عوام پہلے سے زیادہ جوش و جذبے سے اس کی مزاحمت کریں گے۔

راجناتھ نے سارک کانفرنس میں جس رویئے کا اظہار کیا ہے اس نے یہ سوال ایک بار پھر اُٹھا دیا ہے کہ کیا یہ تنظیم اِس قابل بھی ہے کہ اپنے چارٹر کے مطابق اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرسکے اور اس میں سرخرو ہو۔ اگر آج بھارتی وزیر داخلہ نے اس انداز میں ردعمل دیا ہے تو کل کو مودی کا کوئی اور ساتھی کوئی دوسری حرکت کر سکتا ہے، اِس لئے یہ تنظیم دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات کی یرغمالی بنی رہے گی اور دُنیا کی دوسری علاقائی تنظیموں کی طرح علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر سکے گی۔ بھارتی وزیر داخلہ اب اپنے مُلک واپس جا چکے ہیں انہوں نے اپنے وزیراعظم کو سارک کانفرنس رپورٹ پیش کر دی ہو گی، گھر جا کر چودھری نثار علی کی شکایت بھی لگا دی ہوگی، تاہم اب ان تمام واقعات پر از سر نو غور کر کے یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ دہشت گردی اور جدوجہد آزادی کو آپس میں گڈ مڈ نہ کیا جائے اور اپنے جائز حقِ خود ارادیت کے لئے جدوجہد کرنے والوں سے بہتر سلوک کیا جائے، طاقت کے ذریعے نہ تو مسئلہ حل ہو گا اور نہ ہی غصے کے عالم میں کوئی کانفرنس ادھوری چھوڑ کر جانے سے حالات سدھریں گے حالات کو ناخنِ تدبیر ہی سے سدھارنا ہو گا۔

مزید : اداریہ


loading...