بھارتی وزیر داخلہ کی تقریر کی لائیو کوریج کا تنازع

بھارتی وزیر داخلہ کی تقریر کی لائیو کوریج کا تنازع
بھارتی وزیر داخلہ کی تقریر کی لائیو کوریج کا تنازع

  


بھارتی وزیر داخلہ سارک کانفرنس ادھوری چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ ہمارے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی تقریر سے ناراض ہو گئے اس لئے واپس چلے گئے۔ لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ نے سارک کانفرنس سے خطاب کیا اور وہ خطاب کرنے کے بعد واپس گئے ہیں۔ تا ہم بھارتی میڈیا کا اس حوالہ سے موقف مختلف ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وجہ عناد پاکستان کے وزیر داخلہ کی تقریر نہیں بلکہ وجہ عناد یہ ہے کہ پاکستانی حکام نے بھارتی میڈیا کو بھارتی وزیر داخلہ کی تقریر کی نہ تو خود کوریج کرنے دی اور نہ ہی پاکستانی میڈیا نے بھارتی وزیر داخلہ کی تقریر کو لائیو دکھا یا۔ جس کی وجہ سے ناراضگی پیدا ہوئی۔بھارتی وفد کی خواہش تھی کہ اول تو بھارتی وزیر داخلہ کی تقریر بھی پاکستان میں براہ راست نشر کی جاتی اور اگر پاکستان کے میڈیا نے بھارتی وزیرداخلہ کی تقریر کی کوریج نہیں کرنی تھی تو بھارتی میڈیا کو اس تقریر کی کوریج کی اجازت دی جانی چاہئے تھی،تاکہ کم از کم ان کی تقریر بھارت میں تو دکھائی جا سکتی۔ لیکن اس کو بالکل کوریج کی اجازت نہ دینے سے بھارت کے ناظرین بھی اپنے وزیر داخلہ کی تقریر سننے اور دیکھنے سے محروم ہو گئے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ نے چودھری نثار علی خان سے پہلے خطاب کیا ہے، لیکن تنازعہ لائیو کوریج کا ہے۔ٍ

بھارت میں یہ کہا جا رہا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ کی تقریر کی کوریج کی اجازت نہ دینا دراصل پاکستان میں کمزور جمہوریت کا ثبوت ہے اور پاکستانی میڈیا اور منتظمین نے فوج کے ڈر سے یا فوج سے کلئیرنس نہ ملنے کی وجہ سے بھارتی وزیر داخلہ کی تقریر کی کوریج کی اجازت نہیں دی ہے۔دوسرا بھارت کا کہیں بھی یہ موقف سامنے نہیں آیا کہ بھارتی وفد نے بائیکاٹ کیا ہے یا بھارتی وفد کانفرنس کو ادھوری چھوڑ کر واپس آگیا ہے۔ بھارتی موقف کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ اپنی تقریر کر کے گئے ہیں۔

اس ضمن میں غیر سرکاری طور پر جو سارک کانفرنس کے منتظمین کا موقف سامنے آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ سارک کانفرنس کی روایت یہی ہے کہ افتتاحی سیشن کی صدارتی تقریر دکھائی جاتی ہے اور باقی ممبران کی تقاریر کی کوریج نہیں ہو تی۔ صرف سربراہان کے سیشن میں سب سربراہان کی تقاریر کو میڈیا میں دکھانے کی روا یت ہے۔ باقی جب وزرا کا اجلاس ہو تا ہے تو صرف افتتاحی تقریر کی کوریج ہوتی ہے اور باقی ممبران کی تقاریر کی کوریج نہیں ہوتی۔ اس لئے پاکستان نے بطور میزبان کوئی کام بھی روایت اور اصولوں سے ہٹ کر نہیں کیا جس پر بھارت ناراض ہو۔بھارت صرف یہ چاہتا تھا کہ جس طرح چودھری نثار علی خان کی تقریر کی کوریج ہوئی ہے اس کے جواب میں بھارتی وزیر داخلہ کی تقریر کی بھی کوریج ہو تا کہ بھارت کا جواب بھی میڈیا کے سامنے آجائے۔ لیکن چودھری نثار علی خان نے بلا شبہ ہوم وکٹ اور ہوم گراؤنڈ کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب سکو ر کیا بھارت کو زچ کیا ہے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کانفرنس کے آغاز سے ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ تھا۔ پاکستان اور بھارت کے وزر ا ء داخلہ نے ایک دوسرے سے ہاتھ بھی نہیں ملایا اور دونوں کے درمیان تناؤ اور کشیدگی نمایاں تھی۔یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں جس پر بھارتی وفد بائیکاٹ کر دیتا کیونکہ یہ سارک کانفرنس تھی اور یہ ضروری نہیں کہ سارک کانفرنس کی سائیڈ لائنز پر پاک بھارت مذاکرات ضرور ہوں۔ اس سے پہلے بھی ایسی سارک کانفرنس ہوئی ہیں جن کی سائیڈ لائنز پر پاک بھارت مذاکرات نہیں ہوئے۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چونکہ پاکستان کی حکومت نے بھارتی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد کے موقع پر پاکستان کی کشمیری اور مذہبی تنظیموں کو بھارتی وزیر داخلہ اور بھارتی وفد کے خلاف احتجاج کی کھلی اجازت دی ہے۔اس لئے بھارتی وفد نے ان احتجاج سے ناراض ہو کر کانفرنس ادھوری چھوڑ دی۔ لیکن یہ بھی پاکستانی موقف ہی ہے۔ بھارت کا یہ موقف نہیں ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ کے رویہ کو سامنے رکھنے سے پہلے ہمیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ مقبو ضہ کشمیر کے مخصوص حالات اور ان حالات میں پاکستان کے موقف کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت تعلقات میں سرد مہری ہونا کوئی خلاف معمول بات نہیں ۔ بلکہ خلاف معمول بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے اتنے سخت موقف کے باوجود بھارت خاموش ہے۔ کنٹرول لائن خاموش ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اب پاکستان جارحا نہ حکمت عملی پر ہے اور مودی نرم ہیں۔

اس وقت بھارت میں مودی کو پاکستان کے حوالہ سے خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ مودی پاکستان کے حوالہ سے شدید کنفیوژ ن کا شکار ہیں۔ کبھی وہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور کبھی نوز شریف کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ کبھی مذاکرات شروع کر دیتے ہیں کبھی چھوٹی سی بات پر مذاکرات ختم کر دیتے ہیں۔ کبھی حریت کے رہنماؤں سے ملاقات بھی ہضم نہیں ہوتی اور کبھی وانی کو شہید کہنے پر بھی خاموشی ہے۔ اس لئے بھارت کی ایسے ماحول میں سارک کانفرنس میں شرکت ہی کافی ہے۔ ہمیں ایسے ماحول میں اس سے زیادہ کی امید نہیں رکھنی چاہئے تھی۔ اگر بھارتی وزیر داخلہ پاکستانی وزیر داخلہ کے ساتھ گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے تو انہیں بھارت میں جوتیاں پڑتیں۔ حالا نکہ جوتیاں انہیں اس وقت بھی کافی پڑ رہی ہیں۔ مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف بھارت میں جو ماحول بنایا تھا۔ اس کا اسے کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوا۔ لیکن شاید اب مودی اتنی غلطیاں کر چکے ہیں کہ ان کے پاس انہیں ٹھیک کرنے کا بھی کوئی فارمولہ نہیں ہے۔ ایک ایسے ماحول میں اگر بھارت تقریر دکھانے کے ایشو کو اپنی اندرونی ضروریات کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے تو کوئی بری بات نہیں ہے۔ ہمیں مودی کی سیاسی ضرو ر یات کا احساس کرنا چاہئے۔

مزید : کالم


loading...