پنجاب ،قتل کی وارداتوں میں اضافہ ،جدید ٹیکنالوجی بھی ناکام

پنجاب ،قتل کی وارداتوں میں اضافہ ،جدید ٹیکنالوجی بھی ناکام

لا ہور (ر پورٹ :شعیب بھٹی )پنجاب پولیس صوبہ بھر میں قتل کی وارداتوں کو روکنے میں ناکام،رواں سال کے پہلے 6ماہ کے دوران قتل کے2108مقدمات درج ہوئے جبکہ اقدام قتل کے 2265کیسز رجسٹر کئے گئے۔قتل کے مقدمات میں محض 597جبکہ اقدام قتل میں 607مقدمات کی تفتیش جاری ہے جبکہ قتل میں 1364اوراقدام قتل میں 1496مقدمات کے چالان پیش کئے گئے ہیں۔جنوری سے جون تک قتل کے مقدمات میں31ملزما ن تاحال گرفتار نہیں ہو سکے جبکہ اقدام قتل میں 50ملزمان تاحال پولیس کی نظروں سے اوجھل ہیں ۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے تھانہ کلچر کی تبدیلی اور تھانوں میں بائیو میٹرک سسٹم متعارف کروانے کا منصوبہ بھی خاطر خواہ نتائج فراہم نہیں کر سکا ہے۔تفصیلا ت کے مطا بق پنجاب پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں پنجاب بھر میں قتل کے2108مقدمات درج کیے گئے ،جن میں سے پولیس 1364 مقدمات کے مجرموں کو پکڑ کر اور تفتیش مکمل کر کے ان کے چالان عدالت میں پیش کر سکی ہے جبکہ ان مقدمات میں سے 60مقدما ت کو پولیس اہلکار ٹریس ہی نہیں کر سکے،112مقدمات عدم پیروی یا دوسری وجوہات کی بنا پر کینسل کر دئے گئے۔ اقدام قتل کے 2265مقدمات در ج ہو ئے جن میں سے 6 149 مقد ما ت کے چا لا ن عدا لت میں پیش کئے گئے،35مقدما ت کوپو لیس ٹر یس نہیں کر سکی جبکہ 116مقد ما ت عد م پیروی پر کینسل کرد ئے گئے جو کہ پولیس کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔دوسری جانب پولیس حکام کی جانب سے صوبہ بھر میں تھانہ کلچر میں تبدیلی کے لئے بائیو میٹرک سسٹم کو متعارف کروا کے پولیس اہلکاروں کی حاضری اور مجرموں کی شناخت کو یقینی بنانے کا پروگرام بھی جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے اور پولیس میں کرپشن کو کم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے پنجاب پولیس کو 1000 بائیو میٹرک ڈیواسز فراہم کی گئی ہیں ،یہ بائیو میٹرک آلات پنجاب بھر میں 709پولیس اسٹیشنز کو فراہم کئے گئے جن میں لاہور کے53 ، کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ لاہورکے 50،فیصل آبادکے 50،راولپنڈی اور ملتان کے 41،گجرانوالہ کے 40،رحیم یار خان کے 37اور دیگر شہروں شیخوپورہ ،سرگودھا ،ڈیرہ غازی خان ،بہاولپور،ساہیوال وغیرہ کے تھانے شامل ہیں۔ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ پولیس حکام کی جانب سے یہ آلات اس لیے تھانوں کودئے گئے ہیں تاکہ پولیس اہلکاروں کی حاضری کو یقینی بنایا جا سکے اور ناکوں اور سر چ آپریشن پر موجود پولیس اہلکارلوگوں کی شناخت کر سکیں لیکن تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے ان بائیو میٹرک آلات سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...