سندھ حکومت کے منصوبے اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کیلئے جائزہ لیا جائے گا ،وزیر اعظم کی مراد علی شاہ کو یقین دہانی

سندھ حکومت کے منصوبے اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کیلئے جائزہ لیا جائے گا ...

اسلام آباد(آئی این پی)وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے منصوبے اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کا جائزہ لیا جائے گا ‘ پانی و بجلی سے متعلق معاملات کو مل کر حل کیا جائے ‘ یقین ہے وزیر اعلیٰ سندھ صوبے کی ترقی کیلئے کوشاں رہیں گے ‘ سندھ کے عوام کی بہبود کے لئے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ جمعہ کو وزیر اعظم نوا زشریف سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملاقا ت کی جس میں وزیر اعظم نے مراد علی شاہ کو وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم نوا زشریف سے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ ملاقات میں سندھ سے متعلق مختلف امو رپر تبادلہ خیال کیا گیا اور صوبے کی مجموعی صورتحال ‘ کراچی میں امن و امان سے متعلق بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومت کے منصوبے اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے وزارت پانی و بجلی سے متعلق بعض معاملات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا اور وزیر اعظم نے سیکرٹری پانی و بجلی کو وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پانی و بجلی سے متعلق معاملات کو مل کر حل کیا جائے۔ یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ صوبے کی ترقی کیلئے کوشاں رہیں گے۔ سندھ کے عوام کی بہبود کیلئے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہمیشہ ہمیں تعاون فراہم کیا۔ یقین ہے کہ آئندہ بھی وزیر اعظم اور وفاق کی حمایت حاصل رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ تھرکول منصوبے پر وزیر اعظم کی مکمل حمایت پر مشکور ہیں کیونکہ وزیر اعظم کی ذاتی دلچسپی کے باعث تھرکول منصوبے کا آغاز ہوا ہے۔ اقتصادی راہداری پر عمل درآمد کیلئے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور وزیر اعلیٰ سندھ نے اقتصادی راہداری میں کچھ منصوبے شامل کرنے کی تجویز دی ۔ ملاقات میں وفاقی حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلشن شپ سمیت سندھ میں امن و امان اور رینجرز اختیارات پر مشاورت کی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات، وسائل کی تقسیم ، سندھ میں امن و امان اور رینجرز کے اختیارات سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہو ئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ میرے پاس بہت اچھی ٹیم ہے،وزیر اعظم نواز شریف نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور وفاق اور سندھ ملکر ہر مشکل کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرزکے پاس آرٹیکل147کے تحت سندھ میں اختیارات ہیں، رینجرزکے پاس90روز کے اختیارات کراچی کے لئے ہیں۔مجھے صوبے کے عوام نے چنا ہے،قیادت کا پورااعتماد حاصل ہے،لیکن رہنمائی قیادت سے ہی لوں گا ،سندھ کی صورتحال خراب نہیں تاثرخراب تھا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ، صوبے کے پاس وسائل ہیں تو مسائل بھی موجود ہیں تاہم ان وسائل کو مسائل کے حل کیلئے اسستعمال کریں گے۔’’میں یہ نہیں کہ رہاکہ میرنے آنے مسائل ختم ہوجائیں گے‘‘۔مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ صوبے کے مسائل حل کرنے کیلئے دن رات کام کرنا ہو گا تاہم لوگوں کو میرے کام سے تبدیلی نظر آئے گی۔رینجرز کامسئلہ بڑی خوش اصلوبی سے حل ہوا۔میں نہیں بولوں گا ، میرا کام بولے گااور آپ سب کو جلد سندھ میں تبدیلی نظر آئے گی

اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں احتساب کے لئے قانون سازی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کے پلی بارگیننگ کے قانون سے اختلاف ہے‘ ہمارے احتساب کے قانون میں پلی بارگیننگ نہیں ہوگی‘ وزیراعظم نے سندھ کے مسائل حل کرنے کے لئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے‘ امید ہے وہ وعدہ نبھائیں گے‘ جلد سندھ کابینہ میں مزید توسیع کی جائے گی‘ کسی محکمے میں کرپشن برداشت نہیں کروں گا‘ میرا بھائی بھی کسی جرم میں ملوث ہوا تو کارروائی ہوگی‘ صوبے میں میں نہیں میرا کام بولے گا‘ سندھ کے حقوق سے متعلق وفاق یا دیگر سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘ کالا باغ ڈیم سے متعلق میرا موقف وہی ہے جو سابق وزیراعلیٰ اور پارٹی کا ہے مردہ گھوڑے کو چابک مارنے سے وہ زندہ نہیں ہوگا‘ سندھ میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے‘ سندھ کے ذمے واجبات ادا کرنے کے لئے تیار ہیں‘ وزیراعظم واپڈا کو لوڈشیڈنگ سے متعلق خصوصی ہدایات کریں‘تھر کے مسائل ان کی روایات کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں‘ تھر میں ترقیاتی منصوبے تیزی سے جاری ہیں۔ وہ جمعہ کو وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد سندھ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کا چیف منسٹر بنانے پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کا شکر گزار ہوں۔ آج اگر شہید بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو مجھے چیف منسٹر کے عہدے پر دیکھ کر بہت خوش ہوتیں۔ سندھ کے عوام نے مجھے جس کام کے لئے منتخب کیا ہے میں عوام کی خدمت کرکے یہ مقصد پور اکرونگا۔ امید ہے کہ مجھے پارٹی قیادت اور سندھ کی عوام کی طرف سے بھرپور حمایت ملتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں سندھ میں امن و امان قائم کرنے‘ ہر شخص کو علاج کی بہترین سہولیات اور تعلیم فراہم کرنے کے لئے کام کرونگا۔ جانتا ہوں کہ میرے پاس صرف ڈیڑھ سال ہے اس میں اتنے بڑے بڑے چیلنجز اور مسائل سے نمٹنا ممکن نہیں لیکن پھر بھی ان چیلنجز پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ غلطیاں سب سے ہوتی ہیں مجھ سے بھی ہوسکتی ہیں میڈیا میری غلطیوں کی اصلاح کے لئے نشاندہی کرے۔ دعوے سے کہتا ہوں کہ میرے منصب سنبھالنے کے بعد ان سات دنوں میں سندھ میں سب کو تبدیلی نظر آنا شروع ہوگئی ہوگی۔ میں سندھ کے عوام کو بہتر کل دونگا۔ سب کو روزگار مہیا کرنا میری ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں سندھ کے مسائل پر بات ہوئی۔ وزیراعظم نے مجھے وزیراعلیٰ سندھ بننے پر مبارکباد دی اور میں نے ان کی صحت بارے دریافت کیا۔ پہلے بھی سید قائم علی شاہ کے ساتھ وزیراعظم نواز شریف سے ملاقاتیں کرچکا ہوں وزیراعظم نواز شریف نے سندھ کے مسائل حل کرنے کے لئے مجھے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مجھے امن و امان سمیت دیگر بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے وفاق کی مدد کی ضرورت ہے۔ وہ مجھ سے تعاون کریں اور سندھ میں جس بات کے لئے انہیں میری مدد کی ضرورت ہوگی میں تعاون کرونگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نہیں بولتا میرا کام بولے گا چیلنجز سے نمٹنے کے لئے دن رات کام کرونگا۔ سندھ کی صورتحال کو انتہائی خراب ظاہر کرنا درست نہیں یہ ایسے چیلنجز نہیں جن پر قابو نہ پایا جاسکے۔ رینجرز کا مسئلہ بہت خوش اسلوبی سے طے ہوا ہے رینجرز کو کراچی 90روز کیلئے خصوصی اختیارات دیئے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں آئین کے آرٹیکل 147کے تحت قیام میں توسیع دی گئی ہے۔ صوبے میں رینجرز صوبائی انتظامیہ کے تحت کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ملاقات میں انتہائی مثبت جواب دیا ہے اور کہا کہ جب بھی مجھے ان کی ضرورت پڑے گی وہ حاضر ہونگے۔ تھر کی صورتحال سے متعلق افواہیں کافی حد تک غلط ہیں تھر میں ترقیاتی کام تیزی سے ہورہے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ اگر بارشیں نہیں ہوں گی تو مسئلہ پیدا ہوگا۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ‘ لاہور یا کسی اور علاقے میں بچوں کی شرح اموات اور تھر میں شرح اموات میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ تھر کے مسائل ان کے کلچرل ایشوز کی وجہ سے ہیں۔ تھر میں بچوں کی جلدی شادی ہوجاتی ہے جس کے بعد پیدائش میں وقفہ نہیں ہوتا اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تھر کے مسائل مکمل ختم کردونگا لیکن مجھ سے جو ہوا وہ کرونگا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر قیادت نے اعتماد کا اظہار کیا ہے میں ترقیاتی کاموں اور مسائل کے خاتمے کے لئے قیادت سے ہدایات لوں گا۔ عوام کے مسائل حل کرنا پارٹی پالیسی ہے اسی پالیسی کو لے کر آگے چلوں گا۔ یہ غلط فہمی ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کے پاس اختیارات نہیں ہوتے مجھے قیادت نے سارے اختیارات دیئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی محکمے میں کرپشن بالکل برداشت نہیں کرونگا میرے پاس بہترین کابینہ پر مشتمل ٹیم ہے جس میں سینئرز بھی موجود ہیں اور جونیئر بھی۔ اسی ٹیم سے سندھ میں تبدیلی لاؤنگا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے جائز مطالبات ضرور مانے جائیں گے لیکن جرائم پیشہ عناصر جس جماعت میں بھی ہونگے اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ جرائم پیشہ عناصر کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے حقوق پر وفاق سمیت کسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا تمام ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ وزیراعظم سے سندھ میں لوڈشیڈنگ پر تفصیلی بات کی صوبے میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ میں نے کہا ہے کہ اگر ہمارے ذمے کوئی واجبات ہیں تو ادا کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کیا جائے وزیراعظم نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کالا باغ ڈیم سے متعلق میرا موقف وہی ہے جو پارٹی کا ہے چاروں صوبوں کی عوام نہیں چاہتی کہ کالا باغ ڈیم بنے۔ ڈیم بنانے سے سیلابوں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا یہ مسئلہ پشتے اونچے کرنے سے حل ہوگا اور ہم یہ کام کررہے ہیں۔ مردہ گھوڑے کو چابک مارنے سے وہ نہیں اٹھے گا۔ وزیراعظم سے بات کریں گے کہ کے الیکٹرک اور اس جیسے دیگر وفاقی اداروں میں سندھ کو بھی نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت سارے ایسے اشخاص کو جانتا ہوں جو شریف ہوتے ہیں لیکن نیب انہیں پکڑ کر تیس چالیس لاکھ روپیہ مانگتی ہے اور پھر چھوڑ دیتی ہے۔ نیب کا پلی بارگیننگ کا قانون غلط ہے ہم اپنے صوبے میں احتساب کے لئے قانون سازی کرینگے اگر میرا بھائی بھی کسی غلط کام میں ملوث ہوا تو نہیں چھوڑوں گا۔ ہمارے احتساب کے قانون میں پلی بارگیننگ نہیں ہوگی۔ اگر سارے وزراء اس پر متفق ہو کر کام کریں تو ایک ماہ میں این ایف سی کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ وزیراعظم کو آصف علی زرداری کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا قیادت کے آپس کے معاملات ہیں میں دخل اندازی نہیں کرونگا

مزید : صفحہ اول


loading...