عمران خان کی نا اہلی کیلئے ریفرنس دائر ،مسلم لیگ (ن) بلیک میل کرنا چاہتی ہے ،پیچھے نہیں ہٹوں گا :چیئر مین تحریک انصاف

عمران خان کی نا اہلی کیلئے ریفرنس دائر ،مسلم لیگ (ن) بلیک میل کرنا چاہتی ہے ...

اسلام آباد(آئی این پی)مسلم لیگ ن نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی نا اہلی کیلئے ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق کے آفس میں جمع کرادیا۔مسلم لیگ ن نے گزشتہ روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی نااہلی کیخلاف ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق کے آفس میں جمع کرادیا۔ریفرنس دانیال عزیز،طلال چوہدری اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر اراکین کی طرف سے دائر کیا گیا ،سپیکر سردار ایاز صادق نے ریفرنس وصول کرنے کے بعد کہا کہ ریفرنس کا فیصلہ آئین اور قانون کا جائزہ لے کر کروں گا۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف نے اپنے اثاثوں اور کاغذات نامزدگی میں آف شور کمپنیاں چھپائی ہیں،پانامہ پیپر میں نام آنے کے بعد عمران خان کو نااہل قراردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان آرٹیکل62اور 63پر پورا نہیں اترتے لہٰذاکسی جھوٹے شخص کو اسمبلی میں بیٹھنے کا کوئی اختیار نہیں ہے،جھوٹ بولنے پر عمران خان صادق اور امین نہیں رہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے نجکاری کمیشن محمد زبیر عمر ‘ رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز اور طلال چوہدری نے کہا کہ ریفرنس میں عمران خان کے 1981 سے لے کر 2015تک ٹیکس چوری‘ اثاثے چھپانے سمیت دیگر جرائم کی تفصیلات موجود ہیں‘ عمران خان نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں یہ کہا ہے کہ بنی گالہ کی زمیں ان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان نے گفٹ کی حالانکہ خون کے رشتے کے علاوہ کوئی گفٹ نہیں دے سکتا‘ عمران خان نے بنی گالہ کی زمین پر ٹیکس ادا نہیں کیا‘ دانیال عزیز نے کہا کہ تحریک انصاف نے وزیراعظم کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرکے آئین کی خلاف ورزی کی‘ قومی اسمبلی کے کسی رکن کی نااہلی کے لئے ریفرنس سپیکر کے پاس دائر کرنا ہوتا ہے‘ الیکشن کمیشن اور قومی اداروں کو برا بھلا کہنا تحریک انصاف کا وطیرہ ہے‘ عمران خان بیرونی فنڈنگ کیس سے خوفزدہ ہیں‘ طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اے ٹی ایم مشینوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے‘ عمران خان عورتوں کے پیچھے چھپنا بند کریں‘ عمران خان کرپٹ ترین لوگوں کو اپنے پروں میں چھپا کر احتساب سے بچانا چاہتے ہیں۔ محمد زبیر عمر نے کہا کہ عمران خان کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو ریفرنس فائل کردیا ہے اس میں عمران خان کی غلط بیانی سے متعلق ساری تفصیلات درج ہیں عمران خان نے 1981 سے لے کر2015 تک جو ٹیکس چوری کیا‘ اثاثے چھپائے‘ آف شور کمپنی بنائی ان سب کی تفصیلات ریفرنس میں شامل کی گئی ہیں۔ عمران خان نے کبھی اپنے اثاثے ڈکلیئر نہیں کئے۔ عمران خان نے 1983ء میں لندن میں اپارٹمنٹ خریدا تب انہوں نے کہا تھا کہ ان کی تین برسوں کی آمدنی ایک لاکھ روپے سے کم ہے۔ عمران خان بتائیں کہ اتنی کم آمدنی میں انہوں نے دو لاکھ پاؤنڈز کا اپارٹمنٹ کیسے خرید لیا۔ انہوں نے اپارٹمنٹ خریدنے سے پہلے آف شور کمپنی بنائی جسے کبھی شو نہیں کیا۔ میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد 2016میں تسلیم کیا کہ ان کی آف شور کمپنی ہے۔ عمران خان نے اپنا اپارٹمنٹ بھی 1997 کے انتخابات میں ظاہر نہیں کیا تھا جب 2000ء میں مشرف نے کالا دھن سفید کرنے کے لئے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا تب عمران خان نے اپنا اپارٹمنٹ ظاہر کیا۔ فلیٹ تو انہوں نے 2005ء میں بیچ دیا لیکن آف شور کمپنی کا 2016 تک کسی کو پتہ نہیں لگنے دیا۔ عمران خان نے 2000ء میں اپنے اثاثوں کی مالیت 56لاکھ روپے ظاہر کی اگلے ہی سال ان کو باہر سے ایک کروڑ سولہ لاکھ روپے آئے بتائیں کہ وہ کہاں سے آئے۔ اس پیسے سے پھر انہوں نے بنی گالہ کی زمین خریدی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ 2005ء میں ان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان نے بنی گالہ کی زمین انہیں گفٹ کی حالانکہ ان کی طلاق 2004ء میں ہوئی تھی۔ خون کے رشتے کے علاوہ کوئی گفٹ نہیں کرسکتا اور تب تو جمائما ان کی بیوی بھی نہیں تھیں عمران خان کو ایف بی آر کے قوانین کے تحت اس زمین کا ٹیکس جمع کروانا چاہئے تھا لیکن انہوں نے نہیں کروایا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دانیال عزیز نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت ہم نے سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ریفرنس دائر کردیا ہے تحریک انصاف نے وزیراعظم کے خلاف الیکشن کمیشن میں جو نااہلی کا ریفرنس دائر کیا ہے وہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ آئین میں واضح لکھا ہے کہ جب کسی ایم این اے کی نااہلی کا ریفرنس فائل کرنا ہے تو پہلے سپیکر کو کرنا پڑتا ہے اگر وہ مناسب سمجھے تو آگے الیکشن کمیشن کو ریفر کردے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ‘ عوامی تحریک‘ پیپلز پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کے پاس اپنے ریفرنسز میں کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی ان میں پانامہ کا ذکر کیا گیا بلکہ شیخ رشید نے تو اپنا ریفرنس بھی الیکشن کمیشن سے واپس لے لیا۔ الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنا تحریک انصاف کی ڈرامہ بازی ہے کبھی یہ ٹی او آرز کمیٹی کو چھوڑنے کا اعلان کرتے ہیں اور اب پھر یہ کہہ رہے ہیں کہ احتجاج بھی کریں گے اور ٹی او آرز کمیٹی میں بھی آئیں گے۔ کنپٹی پر پستول رکھ کر تحریک انصاف والے اپنی بات نہیں منوا سکتے عمران خان غیر ملکی فنڈنگ کیس سے خوفزدہ ہیں غیر ملکی فنڈنگ والے کاغذات پر عمران خان کے خود دستخط ہیں۔ قومی اداروں پر انگلیاں اٹھانا اور برا بھلا کہنا عمران خان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کی بنیاد تو ایلیٹ کلاس کے خلاف لڑنے کے لئے رکھی گئی تھی لیکن عمران خان خود کبھی کرکٹ کے ہیرو بنے اور کبھی مشرف کے۔ آج جب ان کی تلاشی لی گئی تو ان کی ایک جیب سے ٹیکس چوری دوسری جیب سے غیر قانونی اثاثے نکلے۔ ان کے آس پاس ان کی اے ٹی ایم بھی کرپٹ ترین لوگ ہیں ایک کے خلاف بیواؤں اور غریب لوگوں کی زمینوں پر قبضے کا ریفرنس دائر کرچکے ہیں دوسری اے ٹی ایم مشین کے خلاف بھی جلد ریفرنس دائر کیا جائے گا کہ انہوں نے سائیکل سے جہاز کیسے خرید لئے عمران خان کرپٹ ترین لوگوں کو اپنے پروں میں چھپا کر احتساب کرانا چاہتے ہیں یا احتساب سے بچنا چاہتے ہیں۔ عمران خان خود تو عورتوں کی عزت نہیں کرتے لیکن جب بات ان پر آتی ہے تو عورتوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ عمران خان اور ان کی اے ٹی ایم مشینوں کو حساب دینا ہوگا۔ سپیکر قومی اسمبلی کو عمران خان کے خلاف ریفرنس فائل کردیا ہے امید ہے کہ وہ پرانی دوستی کا لحاظ نہیں کرینگے اور میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔

ریفرنس

اسلام آباد ( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)کی جانب سے دائر ہونے والا ریفرنس مجھے ڈرا نہیں سکتا ،حکومت مجھے بلیک میل کر کے پیچھے ہٹانا چاہتی ہے لیکن ایسا نہیں ہو گا ،حکومت کچھ بھی کر لے وزیر اعظم کے احتساب کیلئے آخری حد تک جائیں گے،اگر میں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو حکومت تین سال کیوں خاموش رہی،اب نظر آرہا ہے کہ بہت جلد ہمیں اقتدار مل جائے گا ،تحریک انصاف کرپٹ عناصر کو جیلوں میں ڈالے گی ،بھارتی وزیر داخلہ کے سامنے چودھری نثار کے موقف کی تعریف کرتا ہوں،پاکستان کے تمام ہمساۂ ممالک سے تعلقات ٹھیک اور امن لانا چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ ملک میں بے روز گاری اور غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے ، کرپشن کی وجہ سے ادارے تباہ ہو رہے ہیں ۔اپنے خلاف ریفرنس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موٹو گینگ تین سال سے اقتدار میں تھا ،اگر میں نے کوئی قانون توڑا تو انہوں نے ایکشن کیوں نہیں لیا ،نواز شریف جمہوری ملک کے وزیر اعظم ہیں یا مافیہ کے ہیڈ ہیں ۔نواز شریف سیاستدانوں کو رشوت دے کر اور ان کی کرپشن کی فائلیں بنا کر بلیک میل کرتے ہیں لیکن وہ عمران خان کو بلیک میل نہیں کر سکتے ۔عمران خان نے کہا کہ نواز شریف مجھے بلیک میل کر کے پیچھے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن میں کرپشن کے خلاف مہم سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ،حکومت میرے خلاف جو مرضی قانون استعمال کر لے لیکن آخر تک جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ٹی او آر کے تحت نواز شریف کے ساتھ ساتھ میرا بھی احتساب کر لیا جائے لیکن وہ ڈرتے ہیں کیونکہ موٹو گینگ نے موٹر وے ،میٹرو،رنگ روڈ اور یلو کیب اسکیم پر پیسے بنائے ۔چیئر مین تحریک انصاف نے کہا کہ اب اقتدار نظر آرہا ہے ،تحریک انصاف اقتدار میں ضرور آئے گی،ہم اقتدار میں آکر کسی کو بلیک میل نہیں کریں گے بلکہ کرپٹ عناصر کو جیلوں میں ڈالیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں سرکاری ملازم کرپشن کی نشاندہی کرے گا تو اس کا نام پوشیدہ رکھ کر حاصل ہونے والی رقم کا 25فیصد دیا جائے گا ۔اس اقدام سے کرپشن میں بہت کمی ہو گی اور نیب کی پلی بارگینگ بھی ختم ہو گی جس سے کرپشن بڑھتی ہے ۔ خیبر پختونخوا میں پہلے سے موثر احتساب بل لیکر آئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اب کوئی سیاست دان ذاتی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ کے پی حکومت کو مبارک دیتا ہوں کہ جو ایکٹ پاس ہوئے ہیں یہ پاکستان کی تاریخ بنی ہے۔نئے اقدامات سے صوبے میں تبدیلی نظر آئے گی۔انہوں نے کہا کہ سیاستدان اب عوام کے ٹیکس سے عیاشی نہیں کر سکیں گے۔ کے پی کے کی طرح کی نیب ہوتی تو وہ خود ہی کام کرتی۔ محکمے کے اندر جو لوگ کرپشن کی نشاندہی کرینگے اسکی ریکوری پر 25فیصد انہیں جائے گا۔ کے پی میں جو بھی چوری ہو گی اسکا پیسہ واپس آئے گا۔ عمران خان نے کہا کہ یونیورسٹی اور جی ڈی اے ایکٹ پاس کیا ہے۔ تمام ریسٹ ہاؤسز اور وزیر اعلی ہاؤس بھی جی ڈی اے کو دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے پی میں پولیس پہلی مرتبہ قانونی طور پر غیر سیاسی ہوئی ہے۔ پولیس میں بھرتیاں این ٹی ایس کے تحت ہونگی کوئی بھی اپنی مرضی سے بھرتی نہیں کروا سکے گا۔ کپتان نے کہا 7کہ اگست سے کرپشن کے خلاف تحریک شروع کر رہے ہیں جبکہ تیرہ اگست کوراولپنڈی سے اسلام آباد جائیں گے ۔۔ کرپشن کیخلاف مہم سے حکومتی اداروں پر دبا ؤبڑھے گا۔ عمران خان نے کہا کہ کرپٹ سیاستدانوں کا مک مکا ہو جاتا ہے۔ پوری اپوزیشن نے مل کر ٹی او آرز بنائے ہیں تحریک انصاف نے نہیں بنائے۔ وزیراعظم خود کو ان ٹی او آرز کے تحت احتساب کیلئے پیش کریں۔ جب میں احتساب سے نہیں ڈر رہا تو انکو کیا ڈر ہے۔ کپتان نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کے سامنے چودھری نثار کے موقف کی تعریف کرتا ہوں۔ پاکستان کے تمام ہمساۂ ممالک سے تعلقات ٹھیک ہونا چاہیے اور امن لانا چاہیے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...