فلمی دنیا پر راج کرنیوالی شمیم آراء وطویل علالت کے بعد لندن میں انتقال کر گئیں

فلمی دنیا پر راج کرنیوالی شمیم آراء وطویل علالت کے بعد لندن میں انتقال کر ...
 فلمی دنیا پر راج کرنیوالی شمیم آراء وطویل علالت کے بعد لندن میں انتقال کر گئیں

  


لاہور(فلم رپورٹر) پاکستان فلم انڈسٹری کی ماضی کی مقبول اداکارہ،فلمسازو ہدایتکارہ لیجنڈشمیم آراء طویل علالت کے بعدلندن میں انتقال کر گئیں۔وہ گذشتہ چھے سال سے لند ن کے ایک ہسپتال میں کوما کی حالت میں تھیں۔انہوں نے 1956 میں اپنے کیرئیر کا آغاز نجم نقوی کی فلم’’ کنواری بیوہ ‘‘سے کیا اور 1970 کی دہائی تک وہ فلموں کے افق پر جگمگاتی رہیں،ان کو اس دوران دوسرے بیشمار فلم ایوارڈز کے ساتھ چار مرتبہ نگار ایوارڈز حاصل ہوئے۔ان کی پیدائش 1938 میں علی گڑھ میں ہوئی ان کو پتلی بائی کا نام دیا گیا ۔پاکستان بننے کے بعد ان کا خاندان بھارت سے پاکستان آبسا جہاں انھوں نے نجم نقوی کی فلم ’’کنواری بیوہ‘‘ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور اسی فلم نے ان کو شمیم آراء کا نام دیا تاہم ان کو شہرت 1958 میں بننے والی فلم’’ انار کلی‘‘ سے ملی جس میں انار کلی میڈم نور جہاں بنی تھی اور ان کا کردار ثریا کا تھا۔انھوں نے اپنے اداکاری کے کیرئیر میں بہت سی مقبول فلمیں دیں جن میں’’ دیوداس‘‘،’’ دوراہا‘‘،’’ ہمراز‘‘، ’’قیدی‘‘، ’’چنگاری‘‘، ’’فرنگی‘‘، ’’آگ کا دریا‘‘،’’لاکھوں میں ایک‘‘،’’صائقہ‘‘ اور ’’سالگرہ‘‘ شامل ہیں انھوں نے اپنے کیرئیر میں صرف دو پنجابی فلموں ’’جائیداد‘‘ اور’’ تیس مار خان‘‘ میں کام کیا۔1968 میں بطور فلمساز انھوں نے اپنی پہلی فلم’’صائقہ‘‘بنائی اور بطور ہدایتکارہ ان کی پہلی فلم ’’جیو اور جینے دو‘‘تھی۔وہ پاکستان کی پہلی خاتون فلمساز اور ہدایتکارہ کا اعزاز بھی رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں پہلی رنگین موشن پکچر ’’نائیلہ‘‘ میں کام کرنے کا اعزازبھی حاصل تھا ان کی 1995 میں ریلیز ہونے والی فلم’’مندا بگڑا جائے‘‘نے ریکارڈ بزنس کیا اور ڈائمنڈ جوبلی منائی۔شمیم آراء کو شاندار کارکردگی پر چار بار نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ان کی پہلی شادی سردار رند سے ہوئی تھی جن کے انتقال کے بعد ان کی دوسری شادی ڈائریکٹر فرید احمد سے ہوئی جن سے انھوں نے بعد میں طلاق لے لی۔انہوں نے تیسری شادی دبیر حسین سے کی ۔ان کو 2010 میں برین ہیمریج ہونے کے بعد انتہائی علالت کی حالت میں لندن منتقل کیا گیا جہاں وہ تا دم مرگ اپنے بیٹے سلمان کریم مجیدکی نگرانی میں رہیں۔شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔مصطفےٰ قریشی،عرفان کھوسٹ،سٹار میکر جرار رضوی،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،میگھا،سید فیصل بخاری،فیاض خان،سلیم بزمی،ماہ نور،ثناء،میرا،جان ریمبو،صاحبہ،نشو بیگم،دردانہ رحمان،عاصمہ بٹ،علی جان،شاہد ظہور،راشد محمود،خالد بٹ،اشرف خان،ریما خان،سدرہ نور،مسکراہٹ خان،مسعود بٹ،پرویز کلیم،پرویز رانا اور دیگر نے ملے جلے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ ایک عظیم فنکارہ تھیں ان کی پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔انہوں نے فلم کے جن شعبوں میں بھی کام کیا ان کو کامیابی ملی شمیم آراء کو اپنے کام سے جنون کی حد تک پیار تھا۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے۔

مزید : صفحہ اول


loading...