داعش دنیا بھر حملوں کے باوجود بھاگ رہی ہے : اوباما

داعش دنیا بھر حملوں کے باوجود بھاگ رہی ہے : اوباما

واشنگٹن ( بیورو رپورٹ) امریکی صدر بارک اوبامہ نے واضح کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم دنیا بھر میں حملے کرنے کے باوجود میدان سے بھاگ رہی ہے اور اس کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابی ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات پینٹاگون کے دورے کے دوران کہی جہاں انہوں نے اعلیٰ دفاعی اور فوجی حکام کے ساتھ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیوں سمیت تمام سکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ ان اعلیٰ حکام میں نائب صدر جوبیڈن، وزیر دفاع ایشٹن کارٹر، سی آئی اے ڈائریکٹر جان بینن کے علاوہ کابینہ کے دیگر ارکان شامل تھے۔ صدر اوبامہ نے اس اجلاس میں داعش کے خلاف شام اور عراق میں جنگی صورت حال اور اب لیبیا میں اس کے ٹھکانوں پر تازہ فضائی حملوں کے نتائج کا جائزہ لیا۔

صدر اوبامہ نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہم داعش کا پوری قوت اور جارحانہ انداز سے پیچھا کرتے رہیں گے۔ ہم داعش کے اعلیٰ لیڈروں اور کمانڈروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ یاد رہے ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ یہ الزام لگا رہے ہیں کہ صدر اوبامہ کی کمزور پالیسیوں کے باعث داعش کنٹرول سے باہر ہوگئی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ اور اس کے حامیوں کے اس الزام کی بھی تردید کی کہ ایران کو 40 کروڑ ڈالر کا جو منجمد فنڈ واپس کیا گیا ہے وہ امریکی شہری کی رہائی کے بدلے میں تاوان کی رقم ہے۔ صدر اوبامہ نے واضح کیا کہ ہم نے نہ اب ایسا کیا ہے اور نہ آئندہ ایسا کریں گے۔ صدر اوبامہ نے بتایا کہ گزشتہ ایک برس میں عراق اور شام میں داعش کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس عرصے میں وہ پسپائی سے دوچار رہی ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا داعش کے حامی ’’اکیلے بھیڑیوں نے دوسرے ممالک میں اپنی کارروائی میں اضافہ کرلیا ہے۔ جس کا سبب یہ ہے کہ اس تنظیم کے عراق اور شام سے پاؤں اکھڑ رہے ہیں۔ صدر اوبامہ نے ایران کے ساھ جوہری سمجھوتے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تمام فریق پورے خلوص کے ساتھ اس پر عمل کر رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...