کرپشن اور بد عنوانی ختم کرنے کیلئے فریقین کو مل کر اقدامات کرنا ہونگے :چیئر مین نیب

کرپشن اور بد عنوانی ختم کرنے کیلئے فریقین کو مل کر اقدامات کرنا ہونگے :چیئر ...

لاہور (سپیشل رپورٹر)چیئرمین نیب قمر زمان چودھری نے کہا ہے کہ کرپشن کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے اور بدعنوانی کے خلاف مہم وسیع پیمانے پر جاری ہے، نیب پرامید ہے کہ تمام فریقین کے ساتھ مل کر کاوشوں سے کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ ہو گا جبکہ نیب راولپنڈی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مضاربہ مشارقہ سکینڈل میں 29 کیس احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے ہیں، اس سکینڈل سے بازیاب کرائی گئی رقم میں سے 104 متاثرین کو ادائیگی کا کیس آخری مراحل میں ہے۔ چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے نیب ہیڈ کوارٹر میں گزشتہ روزاربوں روپے کے مضاربہ سکینڈل پر حالیہ پیشرفت کے حوالہ سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ ڈی جی نیب راولپنڈی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مضاربہ سکینڈل کی تحقیقات نیب راولپنڈی بیورو میں جاری ہے۔ احتساب عدالتوں میں مضاربہ سکینڈل میں 29 کیس ہیں جن میں ایک انکوائری اور 28 ریفرنسز دائر کئے گئے ہیں، ان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر الیگزر گروپ اکبر خان کے خلاف انکوائری نیب راولپنڈی میں زیر سماعت ہے جبکہ کرپشن کے 28 ریفرنسز بھی احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ڈی جی نیب راولپنڈی نے بتایا کہ نیب راولپنڈی نے اب تک مضاربہ مشارقہ سکینڈل میں 43 افراد کو گرفتار کیا۔ ڈی جی نیب راولپنڈی نے بتایا کہ مضاربہ مشارقہ سکینڈل سے اب تک 56 کروڑ 88 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کی گئی ہے۔ ریاست بنام مفتی احسان الحق کیس میں 71 متاثرین جبکہ سٹیٹ بنام مفتی محمد ثاقب کیس میں 33 متاثرین کو ادائیگیوں کیلئے منظوری آخری مراحل میں ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے کرپشن کے خاتمہ کیلئے جامع قومی انسداد بدعنوانی حکمت عملی وضع کی ہے اور ملک سے بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 16 سال میں نیب نے 3 لاکھ 9 ہزار شکایات پر 6 ہزار 300 انکوائریاں کیں جن میں سے 56 فیصد کی تحقیقات مکمل کی گئیں جبکہ 80 فیصد تحقیقات پر قانون کی عدالتوں میں مقدمہ چلایا گیا جن میں سے ایک ہزار 762 کے فیصلے ہو چکے ہیں، 889 مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب عوام کے ساتھ دھوکہ دہی، مالیاتی کمپنیوں کی جانب سے کئے گئے فراڈ، بینکوں کے فراڈ، بینک قرضوں کے نادہندگان، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری ملازمین کی جانب سے ریاستی فنڈز میں خوردبرد کے کیسوں پر خصوصی طور پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ نیب کے وجود میں آنے کے بعد اس کی سب سے بڑی کامیابیاں ناجائز ذرائع سے حاصل کئے گئے 276 ارب روپے کی وصولی اور اسے قومی خزانہ میں جمع کرانا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے مانیٹرنگ اور جائزہ کا مؤثر نظام وضع کیا ہے۔ شکایات کے اندراج، اس کی تصدیق، تحقیقات سے لے کر سزا کے مرحلہ تک تمام ڈیٹا کو برقرار رکھنے اور اسے محفوظ بنانے سمیت دیگر اہم اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور 10 ماہ کے اندر کیس نمٹانے کو یقینی بنائے جانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے پہلی فرانزک سائنس لیب نیب راولپنڈی اسلام آباد ریجنل بیورو میں قائم کی ہے جہاں پر ڈیجیٹل فرانزک اور فنگر پرنٹ کے جائزہ کی سہولت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب اپنے آفیسران کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے اسلام آباد میں انسداد بدعنوانی اکیڈمی قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے اور اس کی بدعنوانی کے خلاف مہم وسیع پیمانے پر جاری ہے۔ نیب پرامید ہے کہ تمام فریقین کے ساتھ مل کر کاوشوں سے کرپشن اور بدعنوانی کا خاتمہ ہو گا۔

مزید : صفحہ اول


loading...