انسانی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائیگا :حکومت

انسانی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائیگا :حکومت

اسلام آباد( اے این این )قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ تھائی راکسن سمیت انسانی جان بچانے والی کم قیمت ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے اور ان کی مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنانے کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے‘ ادویات کے معیار پر کسی قسم کا کوئی سجمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران نسیمہ پانیزئی کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر درشن نے بتایا کہ وزیراعظم کے قومی صحت پروگرام پر بلوچستان میں چار اضلاع میں عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ یہ ہیلتھ انشورنس کی سہولت سرکاری ہسپتالوں کی عدم موجودگی پر نجی ہسپتالوں میں بھی دی گئی ہے۔ بلوچستان میں دو لاکھ 44 ہزار 810 غریب خاندان مستفید ہوں گے۔ عائشہ سید کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے پانچ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرکے چھ ہزار 18 کیسپول 4 لاکھ 8 ہزار 597 گولیاں‘ 14500 سیرپ‘ 23561 مرہم کریم‘ 1473 آئی ڈراپس‘ 1033 ٹیکے اور 298 رورل ڈرپس قبضے میں لئے۔ وفاق نے پہلی بار ادویات کی مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لے کر نافذ کیا ہے۔ ہم نے 525 کمپنیوں کو ایکسپورٹ لائسنس دیئے ہیں۔ صحت پالیسی موجود ہے۔ برآمد کی جانے والی کسی دوائی کے معیار کے بارے میں کوئی مشکلات ہیں تو آگاہ کریں اس پر کارروائی کریں گے۔ تھائی راکسن یا ایسی کم قیمت ادویات جو کم استعمال تاہم ضروری ہیں کی قیمتوں پر نظرثانی کے لئے تیار ہیں تاکہ یہ مارکیٹ میں دستیاب ہوں۔ حکومت کوالٹی کنٹرول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اب موقع پر جاکر چھان بین کی جارہی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...