تین سال بعد وزیراعظم کی مجلس مشاورت، ان کی ذات پر مکمل اعتماد

تین سال بعد وزیراعظم کی مجلس مشاورت، ان کی ذات پر مکمل اعتماد

تجزیہ:چودھری خادم حسین

وزیراعظم محمد نواز شریف کو احساس ہو چکا ہے کہ خود مسلم لیگ(ن) کی صفوں میں بھی بے چینی موجود ہے ۔ اس کی نوعیت کا پہلے ہی احساس تھا، تاہم جمعرات کو پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس میں جہاں ان کو اطمینان ہوا، وہاں تشویش بھی لازم ہے کہ قومی اسمبلی کے اراکین کی شکایت اور بے چینی ان کے علم میں آئی اور کسی نے بات کی یا نہیں کی، کم از کم اسد الرحمن نے تو باہر آ کر بھی نیم شکوہ کر ہی دیا، انہوں نے بتایا کل پچیس منٹ تھے اور اتنے وقت میں دو سو پچاس اراکین اپنی بات کیسے کر سکتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جو پرفارمے (ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے) بھرنے کو دیئے گئے، وہ بھر دیئے گئے تھے، اس کے باوجود عمل نہ ہونا، خود وزیراعظم کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ بہرحال وزیراعظم کے لئے یہ امر تو باعث اطمینان ہونا چاہئے کہ تمام اراکین نے نہ صرف ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا،بلکہ ان پربھرپور اعتماد کا بھی اظہار کر دیا۔ ہم نے ان سطور میں پہلے بھی عرض کیا تھا کہ سالانہ وفاقی بجٹ کے موقع پر جو تناؤ نظر آیا، وہ وزیراعظم کی ذات کے حوالے سے نہیں تھا، شکایت اسحاق ڈار سمیت چند دوسرے وزراء کے رویئے کے بارے میں تھی، وزیراعظم نے یہ اجلاس بظاہر مشاورت کے لئے طلب کیا تھا، لیکن مشاورت بہت ہی کم ہوئی، زیادہ وقت خود انہوں نے لیا اور اپنی حکومتی کارکردگی کا ذکر کیا، شاید وہ توقع کر رہے تھے کہ اراکین ان کی زبانی بات سن کر اطمینان محسوس کریں گے اور اپنے حلقہ نیابت میں ووٹروں کو باور کرا سکیں گے۔ بہتر تو یہ تھا کہ وہ خود تقریر کرنے کی بجائے آتے ہی سوالات طلب کرتے اور جواب دیتے۔ یوں مشاورتی عمل بھی ہو جاتا اور شکوے شکایت بھی کر لی جاتی۔ وزیراعظم آگاہ بھی ہوتے(اگرچہ وہ ہیں) یوں بہت کچھ براہ راست ان کے علم میں آ جاتا، اب بھی حالات میں تبدیلی نہیں، ان پر مکمل اعتماد اور وزراء سے شکایات موجود ہیں، اراکین کی بددلی دور نہیں ہوئی۔ البتہ اپوزیشن کے بارے میں بھی ان کی رائے بہتر نہیں، وہ بے چینی کو دور رکھنا چاہتے ہیں۔

اسلام آباد میں دو تین دن بہت گہما گہمی رہی۔ سارک کے وزرائے داخلہ کی کانفرنس ہوئی۔ بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ آئے، ماحول کھنچا کھنچا تھا، ہمارے وزیر داخلہ سے تو صرف ہاتھ(ہتھ جوڑی) ملا، البتہ وزیراعظم نے ملاقات کے وقت حال چال پوچھا، ان کی آمد پر مظاہرے بھی ہوئے ہیں، اندازہ ہوتا ہے کہ پاک بھارت تعلقات نازک موڑ پر ہیں، پاک فوج چوکس ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، ایسے میں خطے میں کوئی بدامنی اور بے چینی مناسب نہیں، چاروں طرف نظر دوڑائیں تو چین اپنا یار ہے، تاہم افغانستان، بھارت حتیٰ کہ ایران سے تعلقات خوشگوار نہیں ہیں ، جبکہ امریکہ ڈو مور کہہ رہا ہے۔ اب چین سے توقعات زیادہ ہیں جس کے اپنے مفادات بھی وابستہ ہو گئے ہیں،اِس لئے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔آج(ہفتہ) عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک شروع ہونے والی ہے، عوامی تحریک کی طرف سے مختلف شہروں میں دھرنے بھی دیئے جائیں گے، جبکہ تحریک انصاف پہلے مرحلے میں پشاور سے اٹک تک جلوس نکالے گی، اس کے اثرات حکمران جماعت تو تسلیم نہیں کرتی، البتہ تحریک والے پُریقین ہیں، وزیراعظم کو ٹی او آر پر فیصلہ کر لینا چاہئے، ابھی تک اپوزیشن تقسیم ہے، لیکن عقابوں کے باعث ایک دو نکات پر متحد بھی ہو سکتی ہے۔

مزید : تجزیہ


loading...