اب حقیقی معنوں میں بلا تفرق ہر کسی کا احتساب ہو گا ، اسد قیصر

اب حقیقی معنوں میں بلا تفرق ہر کسی کا احتساب ہو گا ، اسد قیصر

 صوابی( بیورورپورٹ) سپیکر خیبر پختو نخوا اسمبلی اسد قیصرنے کہا ہے کہ اب حقیقی معنوں میں احتساب ہوگا مگرگزشتہ ساٹھ سالوں کا گند یک دم صاف نہیں ہوسکتا ۔وہ مرغزصوابی میں واقع اپنی رہائش گاہ پرپارٹی ورکروں کے ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر حاجی رنگیزخان، عبدالستار خان ،ڈاکٹر فضل الٰہی ، ستار علی باچا ، منور باچا، جاوید خان، شاہ ولی خان، میردادخان،یونس خان اور عزیزاللہ خان کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔سپیکر اسدقیصر نے کہا کہ ماضی میں غازی بھروتہ ، سوئی گیس اور تمباکو کے سلسلے میں صوابی کے عوام کا جو استحصال کیا گیا وہ اس سلسلے میں عوام میں جلد بیداری مہم شروع کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ غازی بھروتہ ڈیم کے ذریعے صوابی کا پانی دوسری جانب موڑ دیا گیا جس کی وجہ سے علاقے میں ماہی گیری اور زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور علاقے میں خشک سالی کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار ختم ہوکر رہ گئی ہے انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی اور قومی اسمبلی کے ممبر عاقب اللہ خان نے غازی بھروتہ ڈیم کا مسئلہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھایا ہے انہوں نے کہا کہ ہم عوام کی بقا ء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔سپیکر اسدقیصر نے کہا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے13 صوابی کو سوئی گیس کی فراہمی سے متعلق پشاو ر ہائی کورٹ کے واضح حکم کے باوجود بعض مایوس عناصر کی ایما پر وفاقی حکومت پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اس رابطہ مہم میں ان عناصر کوبے نقاب کریں گے سپیکر اسدقیصر نے کہا کہ صوابی ، چارسدہ اور مردان کے درمیان ایک تیز ترین ٹرین کے لئے ٹریک بچھائی جائے گی جبکہ سوات ایکسپریس وے کی تعمیر کا کام بھی بہت جلد شروع کیا جائے گاانہوں نے کہا کہ صوابی میں ایک کیڈٹ کالج اور جدید ہسپتال سمیت پورا ایک نیٹ ورک قائم کیا جائے گا ۔سپیکر اسدقیصر نے کہا کہ ان کا دامن صاف ہے اور وہ پائی پائی کا حساب دینے کے لئے تیار ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ عوام اگلے انتخابات میں ان کا احتساب کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اب ملازمتوں پر بولیاں نہیں لگتی ۔ترقیاتی منصوبوں کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتاکمشن کے فلسفے کو یکسر ختم کردیا گیا ہے انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ کسی ٹھیکدار کی جانب سے منرل واٹر کی ایک بوتل بھی میر گھر میں آئی ہو تو عوام اس کا بھی محصابہ کریں انہوں نے کہا کہ لوگوں کے مسائل بہت زیادہ مگر دوسری جانب وسائل انتہائی کم ہیں انہوں نے کہا کہ حکومتی امور کو شفاف بنانے کے لئے بعض سخت فیصلے کیے گئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک پیسہ بھی تنخواہ نہیں لی بلکہ ان کی تنخواہ ہر ماہ باقاعدگی سے شوکت خانم ہسپتال کوجاتی ہے جبکہ سپیکر ہاؤس کا خرچہ بھی وہ خود اپنی جیب سے چلاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری انداز میں مثبت تنقید ہر ایک حق ہے انہوں نے کہا کہ عوام ان کے اورسابقہ ادوا ر کے ترقیاتی کاموں کا خود ہی موازنہ کریں تو حقیقت کھل کر ان کے سامنے آجائی گی #

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...