چوہدری نثارکو کشمیر کا موقف پیش کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں،سیف اللہ

چوہدری نثارکو کشمیر کا موقف پیش کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں،سیف اللہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)جماعۃ الدعوۃ اور تحریک آزادی جموں کشمیرکی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی قیادت جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما سیف اللہ خالد ، شفیق الرحمن و دیگر نے کی احتجاجی مظاہرہ جامع مسجد قباء آئی ایٹ مرکز کے باہر کیا گیا احتجاجی مظاہرے میں شریک بچوں کی جانب سے کشمیری بچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے خون آلود کفن اور جسم پر پٹیاں باندھ کر منفرد انداز اپنایاگیا ۔ احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ کے سارک کانفرنس سے بھاگ جانے اور چوہدری نثار کی جانب سے کشمیر کا موقف زبردست انداز میں پیش کرنے پر شرکاء میں مٹھائی بھی تقسیم کی گئی شرکاء کی جانب سے بھارتی پرچم بھی نذر آتش کیا گیا ۔ مظاہرے کے دوران کشمیریوں سے رشتہ کیا لالہ الااللہ ، حافظ سعید کا کیا اعلان کشمیر بنے گا پاکستان، سید علی گیلانی قدم بڑھاؤ ہم تمھارے ساتھ ہیں ، بھارتی فوجیو کشمیر ہمار ا چھوڑ دو، کشمیر ہمارا ہے سارے کا سارا ہے کے نعرے بھی لگائے جاتے رہے جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنماسیف اللہ خالد نے مظاہرے سے خطاب کرتئے ہوئے کہا کہ راج ناتھ کشمیریوں کا قاتل ہے اس کا اسلام آباد میں استقبال نہیں کیا جانا چاہیے تھا ، چوہدری نثار کی جانب سے کشمیر کا موقف زبردست انداز میں پیش کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں چوہدری نثار کا بیان قوم کی امنگوں کے مطابق تھا انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے، کشمیری پاکستان کو اپنا وکیل سمجھتے ہیں وزیر اعظم کی جانب سے سفیروں کو بلا کر انہیں دنیا میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے ٹاسک دینا اور خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر کواولین فوقیت دینے کے فیصلے کو سراہتے ہیں ، جس طرح راج ناتھ سارک کانفرنس چھوڑ کر بھاگا ہم بھارت کو کہتے ہیں اسی طرح بھارتی فوجیوں کو بھی واپس بلا لے ورنہ کشمیری نوجوان کشمیر کو ان کا قبرستان بنا دیں گے انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں کی جانب سے بھارتی مظالم پر خاموشی افسوسناک ہے ثابت ہو گیا کہ اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی ادارے دہرا میعار رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ حافظ سعید نے شہدا ء مسجد میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ چوہدری نثار اگر راج ناتھ پاکستان سے پریشان ہو کر بھاگا تو تمہاری کامیابی ہو گی اور چوہدری نثار کامیاب ہو گیا انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمان اس وقت پاکستان کا جھنڈا اٹھا کر کھڑے ہیں۔ وہ بھارتی فورسز کی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہداء کو پاکستانی پرچم میں دفن کر رہے ہیں یعنی وہ خود کو پاکستانی قرار دے رہے ہیں۔ایسی صورتحال میں اگر ہم آواز نہیں اٹھائیں گے تو پھران کیلئے کون آواز بلند کرے گا۔انہوں نے کہاکہ بھارتی فوج کشمیر میں نہتے مسلمانوں پر بدترین ظلم و ستم ڈھا رہی ہے۔ وہاں سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی گئی اوراخبارات بند کر دیے گئے۔منظم منصوبہ بندی کے تحت ان کی آواز دبائی جارہی ہے۔ان حالات میں پاکستان جو کشمیریوں کا اصل وکیل ہے اسے جرأتمندانہ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔کشمیر کا مسئلہ درحقیقت پاکستان کا اپنا مسئلہ ہے۔ کشمیری مسلمان پاکستان کے دفا ع کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ان کے حق میں آواز بلند کرنے پر انڈیا ناراض ہو تا ہے توہوتا رہے ہمیں اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ انڈیا نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی ریاستی دہشت گردی اور ظلم و تشدد کو چھپانے کیلئے پاکستان کیخلاف بے بنیاد الزام تراشیوں کا سہارا لیا ہے،جماعۃ الدعوۃ اسلام آباد کے مسؤل شفیق الرحمن نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ نے ہندوستان سے روانہ ہوتے وقت متکبرانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان پر دباؤ ڈالیں گے لیکن جب چوہدری نثار نے انہیں آئینہ دکھایا اورانڈیا کا دہشت گردی کا چہرہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں دہشت گردی نہیں ہو رہی بلکہ مظلوم کشمیری اپنی عزتوں و حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں تو راجناتھ کو یہ باتیں برداشت نہیں ہوئیں۔ یہ قانون اور انصاف کی بات ہے جسے پوری انصاف پسند دنیا تسلیم کرتی ہے لیکن انڈیا جو کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اپنا حق سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ کشمیر میں جو چاہے کرتا رہے کوئی اس کا ہاتھ روکنے والا نہ ہو اور یہ کہ اس کی دہشت گردی کیخلاف کوئی بات تک نہ کرے بلکہ پاکستان اس ظلم و ستم کے باوجود ان کا محض استقبال ہی کرتا رہے تو یہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثاراحمد کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے سارک کانفرنس کے دوران دہشت گردی و جدوجہد آزادی میں فرق کیا ہے۔راجناتھ کا سارک کانفرنس چھوڑ کر بھاگ جانا اس کی ناکامی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ادھر آکر جو کچھ کرنا چاہتا تھا اسے یہاں وہ ماحول نہیں ملا۔ بھارتی وزیر داخلہ کے رویہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بھارتی حکام کے اندر شروع دن سے بات کرنے اور سننے کا حوصلہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سارک تنظیم بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف بنائی گئی تھی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج مودی سرکار کی دہشت گردی روکنے کیلئے اس تنظیم کا کوئی کردار نظر نہیں آتا بلکہ سارک ممالک کے اس فورم پر بھارت سرگرم کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ جدوجہد آزادی کشمیر جاری ہے اور جاری رہے گی۔مظلوم کشمیریوں کو کسی صورت غاصب بھارت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...